اسلام آباد ہائیکورٹ، دھرنے سے متعلق عمران خان کی تقاریر کا ریکارڈ طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ، دھرنے سے متعلق عمران خان کی تقاریر کا ریکارڈ طلب

لاہور،اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی،سٹاف رپورٹر)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے وفاقی دارالحکومت میں 2نومبر کے دھرنا کے خلاف درخواستوں پر پیمرا سے عمران خان کی تقاریر کا ریکارڈ جبکہ حکومت سے شہریوں کے جان و مال اور نقل وحرکت سمیت بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔فاضل جج نے وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور آئی جی اسلام آبادکو بھی آج 27اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یہ احکامات فیض احمد چیمہ ،تسلیم عباسی ،راجہ مقصود حسین ایڈووکیٹس اور ایک طالب علم محب اللہ کی درخواستوں پر جاری کئے ہیں ۔فاضل جج نے اپنے 3صفحات پر مشتمل عبوری حکم میں قرار دیا ہے کہ احتجاج کے حق سے انکار کئے بغیر شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اورمعمولات زندگی کو بحال رکھناحکومت کی ذمہ داری ہے ،اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ 2014ء میں بھی فیصلہ جاری کرچکی ہے ۔درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کی طرف سے 2نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کا مسلسل اعلان کیا جارہا ہے ۔آزادانہ نقل وحمل اور جان و مال کے تحفظ کے علاوہ معمولات زندگی برقرار رکھنا شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق میں شامل ہے ۔پی ٹی آئی کے 2نومبر کے دھرنا کے اعلانات کے باعث انتشار ،بے یقینی ،خوف ،لاقانونیت اور عدم تحفظ کی فضاقائم ہوچکی ہے ،اس سلسلے میں میڈیا اور نیوز چینلز واضح اشارے دے رہے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ۔درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ 2نومبر سے وفاقی تعلیمی بورڈ کے امتحانات بھی شروع ہورہے ہیں ۔درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کا حکم جاری کیا جائے ۔عدالت نے اس معاملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین پیمرا کو حکم دیا ہے کہ عمران خان کے 2 نومبر کے احتجاج سے متعلق بیانات اور تقاریر کا ریکارڈ آج 27اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائے جبکہ وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور آئی جی اسلام آبادکو بھی وضاحت کے لئے طلب کرلیا ہے ۔عدالت نے پی ٹی آئی کے دھرنا کے حوالہ سے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔فاضل جج نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے آج27اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

عمران کی تقاریر

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) تحریک انصاف سیر تو حکومت سوا سیر، کھلاڑی دھرنے کی تیاری میں اورحکومت اس کا توڑ نکالنے میں مصروف ہے ۔اسلام آباد کھلا رکھنے کیلئے حکومتی اقدامات کے تحت پولیس نے پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے،جڑواں شہروں کی پولیس نے کنٹینروں اور ٹرکوں کوپکڑنا شروع کر دیاہے ۔ ایف سی کی اضافی نفری بھی اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔دھرنے کو روکنے کے لئے پولیس نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں کنٹینرز اور ٹرک پکڑے تو ٹرک ڈرائیوروں نے اسے پولیس گردی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا۔دوسری جانب دھرنے والوں سے نمٹنے کے لئے ایف سی کے چھ سو جوان ساز و سامان کے ساتھ وفاقی دار الحکومت پہنچ گئے ہیں۔سکیورٹی اہلکاروں کے قیام کیلئے وفاقی پولیس نے چھ سرکاری عمارتیں پہلے ہی خالی کروا لی ہیں۔

حکومتی اقدامات

مزید : پشاورصفحہ اول