ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی یاد میں ’’ محفل مشاعرہ

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی یاد میں ’’ محفل مشاعرہ

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام اردو زبان کے ممتاز ادیب،دانشور ، افسانہ نگار۔ ترقی پسند مصنف ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی یاد میں ’’ محفل مشاعرہ‘‘ کا انعقاد اکادمی کے کراچی دفتر میں کیا گیا جس کی صدارت اردو زبان کے ممتاز شاعرہ، ادیب پروفیسر سحرانصاری نے خصوصی لیکچردیا، مشاعرے کی صدارت محترمہ راحیلہ ٹوانہ سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نے کی تھی ۔ صدر محفل پروفیسر سحرانصاری نے خصوصی لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرصاحب کو لکنے پڑھنے کا بے انتہا شوق تھا۔ابتدامیں انہوں نے ہندی پر اردو میں لکھنا شروع کیا۔اور انگلش ڈکشنری کی ترتیب اور رسالہ اردو کی ادارت میں مولوی صاحب کے معاون رہے۔ اسی زمانے میں تالیف ‘ تصنیف اور تجمے کا ایسا شوق پید اہو اکہ یہ زندگی کا محبوب ترین مشغلہ بن گیا۔اختر حسین رائے پوری کی تصانیف ‘تالیف‘ تراجم میں ’’آگاور آنسو‘‘’’محبت اور نفرت‘‘’’زندگی کا میلہ‘‘وغیرہ افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ ترجموں میں شائع ہونے والے ’’شکنتلا‘‘اردو ترجمہ، ’’گورکی کی آپ بیتی‘‘ترجمہ تین جلدوں میں ’’پیام شباب‘‘ ’’تنقیدی مقالات کا مجموعہ‘‘ادب و انقلاب‘‘ اور نذرالاسلام کی نظمورں کااردو ترجمہ شامل ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرونے کہاکہ اختر حسین رائے پوری کے متعدد افسانے ہندی انگریزی، جرمن ،سوئیڈش ، فارسی ارور روسی زبانوں میں ترجمے کیے جاچکے ہیں۔اختر حسین رائے پوری اردو میں صفِ اول کے ترقی پسند نقاد تھے ۔ اردو افسانہ نگاری میں وہ خاص اہمیت کے مالک تھے ۔اختر حسین رائے پوری کا مقالہ ’’ادب اور زندگی ‘‘اردو کا پہلا مقالاتھا جس میں ادب وفن کا اقتصادی بنیاد پر جائزہ لیا گیا تھااور شعر وادب کی بالکل نئی تعبیر پیش کی گئی تھی۔ اختر صاحب کو ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ’’نشان سپاس‘‘ سے نوازا ۔مشاعرے میں راحیلہ ٹوانہ ،ثروت سلطان ثروت،ستاربھٹی، عرفان علی عابدی، کھتری عصمت علی پٹیل،زیب النساء زیبی،مہرالنساء مہرجمالی ، صبہ صبا،صغیراحمد جعفری، خالد نور، شگفتہ شفیق، عشرت حبیب، شاہد عروج خان،شہناز بزمی، زریں اختر ، فیروز ناطق خسرو، سلیم آذر،جاویدحسین صدیقی،غفران احمد غفران ، الطاف احمد ، تاج علی تاج، محمد قدیرخان، شجاع اقادر خان، جمیل احمد سید، آتش پنہیار، محسن سلیم ، تنویر حسین سخن، سیدحجاب فاطمہ ، محمدعمرعباسی، احمد علی لکھن، محمد علی راہی،افضل ہزاروی ، سید مشرف علی، سلیم حامد،محمد سبکنگتین صبا نے اپنا کلام سُنا کر اختر حسین رائے پوری کی عظمت کوخراج تحیسن پیش کیا۔ قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

مزید : کراچی صفحہ آخر