فارتھ شیڈول میں شامل افراد کے ڈیٹا میں غلطیوں کا انکشاف

فارتھ شیڈول میں شامل افراد کے ڈیٹا میں غلطیوں کا انکشاف

لاہور(محمد نواز سنگرا)فورتھ شیڈول میں شامل افراد نے سلیمانی ٹوپیاں پہن لیں نام ظاہر اور غائب ہونے لگے۔ضلعی حکومتوں کی طرف سے فورتھ شیڈول میں شامل متعدد افراد کی نادرا اور صوبائی محکمہ داخلہ کے ریکارڈ میں شناخت نہ ہو سکی۔نادرا کے ریکارڈ کے مطابق 150افراد جبکہ محکمہ داخلہ کے ریکارڈ میں 17افراد کی شناخت ایک معمہ بن گئی۔شناختی کارڈ نمبر داخل کرنے پر کسی دوسرے شخص کا نام آتا ہے اور نام داخل کرنے پر شناختی کارڈ نمبر کوئی اور آتا ہے ۔محکمہ داخلہ نے 36اضلاع کے ڈی سی اوز کو فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی لسٹوں پر نظر ثانی اور غلطیوں کو دور کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہے۔وفاقی حکومت کی ہدایت پر محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں مشکوک اور مبینہ انتہا پسندوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے تھے۔جن میں سے متعدد افراد کے نام عدالتی احکامات یا محکمانہ شنوائی کے بعد نکال دیئے گئے جبکہ حالیہ ریکارڈ کے مطابق 1453افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل ہیں۔معلوم ہے کہ 17ایسے افراد ہیں جن کی ریکارڈ میں تصدیق نہیں ہو رہی جب ان کے نام داخل کیے جاتے ہیں تو شناختی کارڈ نمبر کوئی اور آتا ہے اور جب شناختی کارڈ نمبر داخل کیا جاتا ہے تو کسی دوسرے شخص کا نام آتا ہے جس سے محکمہ داخلہ میں کھلبلی مچ گئی ہے اور اس غلطی کو دور کرنے کی بھر پور کوششیں ہو رہی ہیں ۔ایسا ہی مسئلہ نادرا کے نمائندے نے نیکٹا کی ایک میٹنگ میں پیش کیا تھا کہ 150افراد کی شناخت نہیں ہو رہی۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے محکمہ داخلہ پنجا ب نے صوبے بھر کے 36اضلاع کو فہرستیں ارسال کرنے کے ساتھ ساتھ ڈی سی اوز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ فہرستوں پر نظر ثانی کی جائے اور نام اور شناختی کارڈ کے غلط اندراج کو درست کیا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر