اندرونی مدد کے بغیر کوئتہ جیسے واقعات نہیں ہو سکتے ،باہر کے دشمن سے پہلے نمٹنا ہو گا :اسفند یار

اندرونی مدد کے بغیر کوئتہ جیسے واقعات نہیں ہو سکتے ،باہر کے دشمن سے پہلے ...

کوئٹہ(اے این این) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کوئٹہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں باہر کے دشمنوں سے پہلے نمٹنا ہوگا اندر کیاختلافات سے تو ہم بعد میں بھی نمٹتے رہیں گے، خدانخواستہ ہم متحد ہونے میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر اللہ ہی ہماری مدد کرے۔جب تک اندر سے مدد نہ ملے سانحہ کوئٹہ جیسے بڑے واقعات نہیں ہوسکتے۔بتایا جائے کیڈٹس کو دس دن کی چھٹی پر گھر بھیجا تو پانچ دن بعد کیوں بلالیا گیا۔اگرنیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوتا تو اس طرح کیواقعات نہ ہوتے، عملدرآمد وفاقی و صوبائی حکومتوں کا کام ہے۔سربراہ اے این پی اسفندیارولی خان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سانحہ پولیس ٹریننگ کالج بہت درد ناک ہے، اس طرح کے واقعات کے ذمہ داروں کاتعین کیاجائے،آٹھ اگست اور 24اکتوبر کیواقعات میں نوجوان نسل کو نشانہ بنایاگیا۔ان کا کہنا تھا کہ غیر آئینی،غیرجمہوری راستے سے تبدیلی آئی تواے این پی مخالفت کرے گی،آئین کے مطابق چلیں جو بھی وزیراعظم ہوگا ہم قبول کریں گے۔سربراہ اے این پی اسفندیارولی خان نے کہا کہ ہم سی پیک کے مخالف نہیں،یہ اس خطے کیلئے گیم چینجرہے، وزیراعظم نے جو وعدے کئے انہیں پورا کیاجائے۔اسفندیارولی خان نے کہا کہ جس ڈگر پر قوم کھڑی ہے،اس وقت تمام سیاسی قوتوں کو ایک مٹھی ہوجاناچاہئے،ملکی سیاست میں فیصلے دماغ سے ہوناچاہئیں،جذبات سے نہیں، سانحہ کوئٹہ کی وجہ سے ہم نے کوئٹہ میں اپناجلسہ منسوخ کیا، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف جنازے اٹھائے جارہے ہوں اور ہم جلسہ کرتے اورزندہ باد مردہ باد کے نعرے لگاتے۔ایک سوال کے جواب میں سربراہ اے این پی نے کہا کہ پاناما لیکس میں جن کے نام ہیں ان سب کو کٹہرے میں لایاجائے،پاناما لیک کو بہانہ بناکر کسی ایک خاندان یاایک شخص کو نشانہ بنانامناسب نہیں ،بتایاجائے کہ جہانگیر ترین کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں کہ نہیں،قانون ہے تو سب کیلئے ایک ہوناچاہئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر