افغانوں کی ”مونا لیزا“کا پاکستان سے دھوکہ

افغانوں کی ”مونا لیزا“کا پاکستان سے دھوکہ
افغانوں کی ”مونا لیزا“کا پاکستان سے دھوکہ

  

تحریر: سیّد بدر سعید

یہ وہی سبز آنکھیں ہیں جنہوں نے افغان جنگ میں پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا ۔وہی بچی جس کی تصویردنیا کے بڑے میگزین نیشنل جیوگرافک نے ٹائیٹل پر شائع کی تو تہلکہ مچ گیاتھا۔کئی بڑے حکمرانوں سے زیادہ شہرت پانے والی شربت گلہ عالمی سطح پر نظر آنے کے بعد کہاں گئی یہ کسی کو علم نہ تھا ۔1984 میں اس 12 سالہ بچی کی تصویر بنانے والے فوٹو گرافر اسٹیو میک کری کو عالمی شہرت حاصل ہوئی اور سبز آنکھوں کا سحر دنیا بھر میں چھا گیا ۔تصورکیجئے کہ شربت گلہ کو تیسری دنیا کی پہلی ”مونا لیزا“ قراردیا گیا۔ اس سحر نے کئی بڑے میڈیا ہاﺅسسز کی قسمت بدل دی ۔ یہی سحر اسٹیو میک کری کو شہرت کی بلندیوں پر لے گیا ۔ اسی جادو نے افغانستان کی جانب ساری دنیا کو متوجہ کر دیا اور دنیا بھر میں افغان مہاجرین کے لئے آواز بلند ہونے لگی ۔ بدقسمتی سے یہ جادو نہ چل سکا تو صرف شربت گلہ پر نہ چلا ۔ اسے نہ تو اقوام متحدہ میں بلایا گیا اور نہ ہی کسی نے اسے گھر مہیا کیا ۔ شربت گلہ پاکستان میں افغان مہاجر کیمپ میں ہی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھی ۔

2002 میں اسٹیو میک انہی سبز آنکھوں کی تلاش میں کیمرہ اٹھائے دوبارہ چلا آیا ۔ اسے اس بار بھی انہی سبز آنکھوں کی تلاش تھی جنہوں نے 18 سال قبل اسے عالمی شہرت سے نوازا تھا ۔ سبز آنکھیں اب بھی سحر پھونکنے کا ہنر رکھتی تھیں ۔ ایک بار پھر دنیا شربت گلہ کی سبز آنکھوں میں ڈوب گئی تھی ۔ یہ خبر بریکنگ نیوز بن گئی کہ افغان مہاجر کیمپ میں پلنے والی سبز آنکھوں والی بچی کی شادی ہو چکی ہے ۔ شربت گلہ کی تیسری دھماکہ دار اینٹری اب ہوئی ہے ۔ اس بار اسے پاکستان میں گرفتار کیا گیا تو یہ بھی بریکنگ نیوز بن گئی ۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ شربت گلہ بھی ان افغانیوں میں شامل تھی جنہوں نے پاکستان کی محبت کا جواب دھوکے سے دیا ۔ وہ افغان مہاجر کارڈ کی بجائے 2014 میں اپنے شوہر کے ہمراہ شربت بی بی کے نام سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ افغانستان کی اس ”مونا لیزا“ کو 2016 میں گرفتار کیا گیا لیکن اس گرفتاری نے کئی سوال اٹھا دیئے ہیں ۔چالیس سالہ شربت گل کی سبز آنکھوں کے گرد عسرت نے حلقے ڈال رکھے ہیں ،پولیس کے مطابق جرم ثابت ہونے پر اسکو سات سال جیل ہوسکتی ہے۔

عام طور پر ہم ہر سانحہ کا الزام پولیس کو دیتے ہیں ۔ اگر کہیں کوئی مجرم کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ہمارا پہلا سوال بھی یہی ہوتا ہے کہ پولیس کیا کر رہی تھی ۔ ایک مجرم پورے شہر میں گھومتا رہا لیکن اسے کسی نے گرفتار کیوں نہیں کیا ؟ ایک افغانی یا بھارتی شہری نے شہر میں گھر لیا ، یہاں بیٹھ کر حملے کی منصوبہ بندی کی ، اپنے ساتھیوں کو بلایا لیکن کسی نے اسے مشکوک نہیں سمجھا اور نہ ہی اس کے کاغذات چیک کئے ۔ ہم یہ مثال بھی دیتے ہیں کہ یورپ میں غیر ملکیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے لیکن ہمارے یہاں پولیس ناکوں پر ان کے کاغذات تک چیک نہیں کرتی ۔ شربت گلہ کی گرفتاری میں ایسے کئی سوالوں کا جواب چھپا ہے ۔

اخبارات کے ریکارڈ کے مطابق شربت گلہ کی طرح کئی افغان مہاجرین پاکستانی شناختی کارڈ بنوا چکے ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے کئی سیاسی راہنما بھی پاکستانی شناختی کارڈ رکھتے ہیں ۔ اکثر دھماکوں میں ملوث افراد کے بارے میں بھی ایسی رپورٹس آتی رہی ہیں کہ وہ غیر ملکی تھے لیکن ان کے پاس سے پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہوئے ہیں ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اگر پولیس اہلکار کسی شخص کو ناکے پر روکیں اور وہ اپنا شناختی کارڈ دکھا کر یہ تسلی کروا دے کہ وہ پاکستان کا باعزت شہری ہے تو پولیس اہلکار کیا کرے گا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ ہم جن کوتاہیوں کا الزام پولیس پر لگا دیتے ہیں کیا وہ واقعی پولیس کی ہی کوتاہی ہوتی ہے ؟ شربت گلہ جیسی جانے کتنے خواتین ہر روز پولیس ناکوں سے گزرتی ہوں گی اور کاغذات دکھا کر بچ جاتی ہوں گی ۔ یقیناً اس کی ذمہ داری پولیس پر عائد نہیں ہوتی ۔ انگلیاں ان مفاد پرستوں پر اٹھتی ہیں جو چند پیسوں کے لئے ان کی جعلی دستاویزات بناتے ہیں ،ان دستاویزات کی تصدیق کرتے ہیں اور انہیں شناختی کارڈ جاری کرنے ہیں ۔ شناختی کارڈ کے بعد یہ لوگ پاسپورٹ تک بنواتے ہیں اور بعد میں انکی کارروائیوں کا خمیازہ پاکستان بھگتتا اور بدنام ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہم روایتی انداز میں کسی ایک محکمہ پر ملبہ ڈالنے یا الزامات لگانے کی بجائے اصل ذمہ داران کی نشاندہی کریں ۔ شربت گلہ کی سبز آنکھوں اور مفاد کے چند سکوں کا جادو جن پر چلا ہے وہ صرف رشوت لینے یا جعلی دستاویزات تیار کرنے کے ہی مجرم نہیں ہیں ۔ ہمیں ان ہاتھوں پر سانحہ کوئٹہ کے شہدا کا لہو بھی ملتا ہے ۔ پولیس اہلکاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی قربانیاں دی ہیں وہ ریکارڈ پر ہیں لیکن سچ کہیں تو ہم نے پولیس اہلکاروں کی ان قربانیوں کا اعتراف کرنے میں ہمیشہ بخل سے کام لیا ہے ۔ ہمارا ہر الزام پولیس اپنے کندھوں پر اٹھاتی ہے لیکن اعتراف کرنا ہو گا کہ اصل مجرم کوئی اور ہے ۔ اب ہمیں ان مجرموں سے بھی سوال کرنا ہو گا جو شربت گلہ کی سبز آنکھوں کے اسیر ہوئے یا پھر جن کے گلے میں مفاد کی ہڈیاں پھنس گئیں اور انہوں نے پاکستان کی شہریت کا ہی سودا کر دیا ۔

مزید : بلاگ