عالمی استعمار کے پاکستانی مُہرے

عالمی استعمار کے پاکستانی مُہرے
عالمی استعمار کے پاکستانی مُہرے

  

تحریر: فرحت عباس شاہ

دنیا پر اصل حکمرانی کون کرہا ہے ؟ عراق ، افغانستان ، لیبیا ، اردن اور شام میں تباہی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟۔ اگر یہ بات سمجھ آجائے تو پاکستان میں ہونے والے تمام سیاسی واقعا ت کی تفہیم اور تجزیہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ جیسے ملک کا سینٹرل بینک اگر اس کااپنا نہیں تو پھر اتنا طاقت ور کون ہے؟ مجھے جب یہ پتہ چلا کہ بلیک واٹر جیسی تنظیموں کو سی آئی اے نہیں بلکہ بعض ملٹی نیشنل کمپنیاں کنٹرول کرتی ہیں تو میں حیران ہوا۔ پھر پتہ چلا کہ اگر جنگیں نہ ہوں تو اسلحہ بیچنے والی کمپنیوں کو خسارہ ہو سکتا ہے۔ اگر کرسٹینا فیئر جیسی کرائے کی دانشور سول آبادی پر ڈرون حملوں کو جائز قرار نہ دے تو ڈرون مینوفیکچرر کی دکان تو بندہی ہو جائے۔ جو کمپنیاں اپنی دوائیاں بیچنے کے لیے بیماریاں پیدا کرنے جیسے ظالمانہ کردار ادا کرنے سے باز نہ آتی ہوں ان سے کیا بعید ہے۔پیٹرول ، ڈرگز، سونا ، اور مالی قرضوں جیسے بڑے کاروباروں کا تانا بانا اتنی دور دور تک پھیلا ہوا ہے کہ میرے جیسا کم پڑھا لکھا آدمی صرف سونگھ کر ہی لمبا لیٹ جائے۔ بڑے بڑے قرضوں کو سود پر دینے کا کاروبار ایک اور ایسا گھناو¿نا کھیل ہے جس نے آدھی سے زیادہ دنیا کے نصیبوں کا نرخرہ دبایا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں کی سیاسی تقدیر لکھنے والے ان منافع پرستوں نے ہمیں گزشتہ 70 سالوں سے جمہوریت اور مارشل کے گھن چکر سے باہر ہی نہیں آنے دیا۔ وہ اپوزیشن میں موجود سیاستدانوں کو اقتدار میں آنے کے لیے مدد کرتے ہیں۔ اور ان کو اقتدار میں لانے کے بعد اس ملک کو قرضے بیچتے ہیں ، اپنی مرضی کی پالیسیاں بنواتے ہیں ، اثاثے خریدتے ہیں اور قدرتی دولتوں پر قابض ہوجاتے ہیں۔ اور پھر جب وہ سیاستدان عوام میں غیر مقبول ہو جاتا ہے تو نگران حکومت کی شکل میں یا مارشل لاءکی صورت میں کوئی مسیحا بھیج دیتے ہیں اور پھر دوبارہ اس سے اپنا الّو سیدھا کرنا شروع کرد یتے ہیں۔ جہاں جو کوئی ان کی بات ماننے میں تامّل سے کام لے تو وہ یا تو اقتدار میں نہیں رہتا، جیل چلا جا تا ہے یا پھر کسی نہ کسی طرح مار دیا جاتا ہے۔ اور یہ اپنی سیکنڈ لائن کو اگے لے آتے ہیں۔ اگر کسی طرح سیکنڈ لائن ناکام رہے تو پھر چوتھی یا پانچویں لائن آگے بڑھا دی جاتی ہے۔ غرضیکہ ان کے پنجے اتنے مضبوط اور اتنی گہرائی تک پہنچے ہوئے ہیں کہ پاکستان جیسے ملک کا ان کے شکنجے سے بچ نکلنا کوئی بہت بڑا معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔ اب اگر ہم صرف ترکی میں ہی ہونے والے واقعات سے ان کا طریقہءواردات سمجھنے کی کوشش کریں تو وہاں این جی او مافیاز کے ذریعے کرائے گئے مظاہروں سے لیکر فوجی بغاوت تک اور خود کش حملوں سے لیکر ٹارگٹ کلنگ تک پورا سیکوئینس دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ جب کسی کو اقتدار دلواتے ہیں تو اس کو قابوں میں رکھنے کے لیے ان کی مخالف لابیاں اور پارٹیاں نہ صرف تیار رکھتے ہیں بلکہ بلکہ ان کو مسلسل سرگرم عمل رکھ کے اپنا چیک برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہمارا موجودہ منظر میری نظر میں بس اتنا ہی ہے کہ پاکستان کو 2015 تک توڑنے کے منصوبے میں ناکامی نے انہیں یہ سمجھایا ہے کہ جب تک پاکستان کی فوج موجود ہے اس ملک کو ٹوڑنا ممکن نہیں۔ ورنہ تحریک انصاف کو تو وہ جب چاہیں ہائی جیک کرلیں۔ اور اس کے لیے انہیں صرف عمران خان کی قربانی دے کر شاہ محمود قریشی یا جہانگیر ترین ، یا کسی بھی مہرے کو آگے لانا ہو گا اور ٹائیں ٹائیں فش۔

(نامورشاعر ،دانشور ،استاد اور اینکرپرسن فرحت عباس شاہ پاکستان میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ان دنوں وہ لاہور ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے بلاگ جامع اورفکر آموز ہوتے ہیں۔وہ روزنامہ پاکستان کے لئے باقاعدگی سے بلاگ لکھا کریں گے)

مزید : بلاگ