یورپ کا وہ شہر جہاں صرف امیر ترین عربیوں کی ’دوسری‘ بیویاں رہتی ہیں، مقامی لوگوں کو داخلے کی بھی اجازت نہیں، ایسا انکشاف منظر عام پر کہ یورپ میں ہنگامہ برپاہوگیا

یورپ کا وہ شہر جہاں صرف امیر ترین عربیوں کی ’دوسری‘ بیویاں رہتی ہیں، مقامی ...
یورپ کا وہ شہر جہاں صرف امیر ترین عربیوں کی ’دوسری‘ بیویاں رہتی ہیں، مقامی لوگوں کو داخلے کی بھی اجازت نہیں، ایسا انکشاف منظر عام پر کہ یورپ میں ہنگامہ برپاہوگیا

  

سرائیوو(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپ میں ایک شہر ایسا ہے جہاں صرف امیر ترین عرب باشندوں کی تیسری یا چوتھی بیویاں رہتی ہیں اور مقامی لوگوں کو اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس شہر کے انکشاف پر پورے یورپ میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ چھوٹا سا شہر دارالحکومت سرائیوو سے 5میل کے فاصلے پر واقع ہے جس میں 160لگژری گھر ہیں مقامی افراد صرف اسی صورت میں وہاں جا سکتے ہیں جب انہیں کوئی بستی کا رہائشی عرب شہری اپنے ہاں ملازم رکھ لے یا انہیں صفائی ستھرائی کے کام کے لیے بلایا جائے۔

برمودا ٹرائی اینگل کے اوپر ہوا میں سائنسدانوں کو ایسی چیز مل گئی کہ بالآخر معمہ حل ہوگیا، بحری جہازوں کے غائب ہونے کی وجہ سامنے آگئی

رپورٹ کے مطابق یہ قصبہ کویتی سرمایہ کاروں نے قائم کیا ہے اور انہی نے یہ شرائط وضع کی ہیں۔ اس قصبے کی سرکاری زبان بھی عربی ہے حالانکہ یہ بوسنیا کی سرکاری زبانوں میں شامل نہیں۔ یہاں موجود گھروں میں عموماً کھرب پتی عرب باشندوں کی تیسری یا چوتھی بیویاں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ ان کے شوہر کبھی کبھار یہاں آتے ہیں۔یہاں موجود گھروں کی مارکیٹنگ صرف کویت میں کی گئی ہے اور ایک گھر کی قیمت ڈیڑھ لاکھ یوروز (تقریباً 1کروڑ 71لاکھ روپے) ہے۔ کمپلیکس کی شکل میں بنائے گئے اس قصبے کی سکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی ہے۔ اس کے گرد اونچی دیوار تعمیر کی گئی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس