نوجوان پاکستانی لڑکی نے انٹرنیٹ پر رشتے کیلئے اشتہار جاری کردیا، لیکن اس میں کچھ ایسا لکھ دیا کہ انٹرنیٹ پر ہنگامہ برپاہوگیا، پاکستانی لڑکے منہ چھپانے لگے

نوجوان پاکستانی لڑکی نے انٹرنیٹ پر رشتے کیلئے اشتہار جاری کردیا، لیکن اس میں ...
نوجوان پاکستانی لڑکی نے انٹرنیٹ پر رشتے کیلئے اشتہار جاری کردیا، لیکن اس میں کچھ ایسا لکھ دیا کہ انٹرنیٹ پر ہنگامہ برپاہوگیا، پاکستانی لڑکے منہ چھپانے لگے

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ہاں جب رشتے کی تلاش کی جاتی ہے تو لڑکی میں ایسی ایسی خوبیوں کا تقاضہ کیا جاتا ہے کہ جنہیں سن کر عقل حیران رہ جاتی ہے، لیکن یہ مطالبات کرنے والے والدین اور لڑکے کبھی حیران نہیں ہوتے۔ ایسے لایعنی مطالبات کرنے والے والدین اور لڑکوں کو البتہ ایک پاکستانی خاتون نے انٹرنیٹ پر انوکھی قسم کا اشتہار دے کر خوب حیران کیا ہے۔

ویب سائٹ مینگو باز کی رپورٹ کے مطابق تانیہ راشد نامی خاتون نے انٹرنیٹ پر ایک ”اشتہار برائے تلاش رشتہ“ دیا جس میں لکھا ”پیارے دوستو، میں اپنی ایک سہیلی کے لئے دولہے کی تلاش میں ہوں۔ اس کے مطالبات بہت سادہ ہیں۔ براہ کرم کہیں ایسا لڑکا نظر آئے تو مجھے مطلع کریں۔مطالبات یہ ہیں:“

لڑکا دراز قد، خوبصورت، گورا چٹا، ہینڈسم اور نیلی آنکھوں والا ہو۔

سگھڑ ہو (یعنی گھر یلو کام کاج آتے ہوں)

مختلف قسم کے کھانے مثلاً قومہ، بریانی اور دیگر دیسی کھانے بنانا جانتا ہو۔

بیوی کے والدین کے گھر میں رہائش پر رضامند ہو۔

بیوی اور اس کے والدین کی خدمت اور فرمانبرداری کرنے والا ہو(یہ اس کا فرض ہے اور جنت میں جانے میں جانے کا ذریعہ بھی) اور ان سے دھیمے لہجے میں بات کرے۔

فحش کپڑے(مثلاً بنیان، نیکر) پہننے کی ہرگز اجازت نہیں ہے، کیونکہ ساس سسر کو یہ لباس پسند نہیں۔

شادی سے پہلے کوئی افیئر نہ رہا ہو۔

غیر لڑکیوں سے دوستی کرنے کا خواہشمند نہ ہو۔

نا محرم عورتوں، لڑکیوں سے پرہیز کرے، ضرورت پڑنے پر نظر جھکا کر بات کرے۔

تانیہ راشد کا یہ اشتہار سامنے آنے پر انٹرنیٹ پر ایک ہنگامہ برپا ہے۔ ان کی اس پوسٹ کو سینکڑوں بار لائیک اور شیئر کیا جاچکا ہے۔ ایک جانب اس پر تبصرہ کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد ان والدین اور لڑکوں کو ضرور سوچنا چاہیے جو لڑکیوں کو کبھی شکل و صورت اور کبھی سماجی و معاشی حیثیت کی بناءپر رد کرتے ہیں، اور ایک کے بعد ایک لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک جاری رکھتے ہیں۔

دوسری جانب بہت سے مردوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا لڑکا تو شاید مصنوعی طور پر ہی تیار کیا جاسکتا ہے، جس کے جواب میں خواتین کہتی ہیں کہ پھر ایسی خوبیوں کا مطالبہ کرنے والے لڑکوں اور ان کے والدین کو بھی سوچنا چاہیے کہ ان تمام خوبیوں سے مزئین لڑکی تو شاید مصنوعی طور پر ہی تیار ہوسکتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس