ہائی کورٹ نے ایپلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو کے ممبر چودھری انوار الحق کو کام کرنے سے روک دیا

ہائی کورٹ نے ایپلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو کے ممبر چودھری انوار الحق کو کام ...
ہائی کورٹ نے ایپلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو کے ممبر چودھری انوار الحق کو کام کرنے سے روک دیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ایپلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو کے ممبر چودھری انوار الحق کو کام کرنے سے روکتے ہوئے ایف بی آر اور وفاقی حکومت سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیاہے۔

عدالت نے یہ کارروائی اینرس انجینئرنگ کمپنی کی درخواست پرکی ہے ،درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے انوار الحق کو جون 2015ءمیں برطرف کر دیا تھا لیکن برطرف ہونے کے باوجود چودھری انوار الحق بطور ممبر ایپلیٹ ٹربیونل کر رہے ہیں، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ چودھری انوار الحق کی برطرف کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کیا گیا جبکہ ایک درخواست لاہور ہائیکورٹ میں بھی دائر کی گئی تاہم عدالت نے حکم امتناعی جاری نہیں کیا، اس صورتحال کے باوجود چودھری انوار الحق نہ صرف کام کر رہے ہیں بلکہ عدالتی حکم بھی جاری کر رہے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے.

انہوں نے بتایا کہ چودھری انوار الحق نے درخواست گزار کمپنی کے انکم ٹیکس وصولی کے معاملے پر بھی جوڈیشل آرڈر پاس کیا، عدالت نے بحث سننے کے بعد برطرفی کے باوجود کام کرنے پر ایپلیٹ ٹربیونل کے ممبر ان لینڈ ریونیو چودھری انوار الحق پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پرکام کرنے سے روکا دیا، عدالت نے ایف بی آر اور وفاقی حکومت کو دو ہفتوں میں جواب بھی داخل کرانے کا حکم دیا ہے اور چودھری انوار الحق کی برطرفی سے متعلق درخواست کو بھی یکجا کرنے کا حکم دیا ہے ۔

مزید : لاہور