’ایڈز‘ اور HIV دنیا کے کس شہر سے شروع ہوا اور کس شرمناک وجہ سے؟ افریقہ سے نہیں بلکہ۔۔۔ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا

’ایڈز‘ اور HIV دنیا کے کس شہر سے شروع ہوا اور کس شرمناک وجہ سے؟ افریقہ سے نہیں ...
’ایڈز‘ اور HIV دنیا کے کس شہر سے شروع ہوا اور کس شرمناک وجہ سے؟ افریقہ سے نہیں بلکہ۔۔۔ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)موذی مرض ایڈز کا نام لیتے ہی افریقی خطے کے ممالک ذہن میں آتے ہیں جہاں اس وقت یہ بیماری سب سے زیادہ پائی جاتی ہے لیکن ایک جینیاتی تحقیق کے مطابق اس کا آغاز کی ایک ایسی جگہ سے ہوا تھا جس کے متعلق کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔ این بی سی نیوزکے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ آئی وی اور ایڈز 1970ءمیں پہلی بار نیویارک سے پھیلنی شروع ہوئی۔ اس سے پہلے یہ تاثر عام پایا جاتا رہا ہے کہ اس مرض کا پہلا مریض ایک ہم جنس پرست مرد تھا جو نیویارک کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے فلائٹ اٹینڈنٹ تھا اور یہی شخص افریقہ سے وائرس اپنے ساتھ لانے کا سبب بنا۔

پیشاب آئے تو فوراً کر دینا چاہئے یا روک کر رکھنا چاہئے؟برطانوی ڈاکٹر کے دعوے نے سب کو حیران کر دیا

جب سے لوگوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے تب سے مریضوں کے خون کے منجمد نمونے ماہرین کے پاس موجود ہیں جن کے جینیاتی تجزیئے سے مندرجہ بالا انکشافات سامنے آئے ہیں۔یونیورسٹی آف ایریزونا کے ماہرین کے مطابق 1970ءکی دہائی میں ایچ آئی وی تیزی سے نیویارک کے لوگوں میں پھیل رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ہم جنس پرستی کی لعنت بھی تیزی کے ساتھ نیویارک میں پھیل رہی تھی۔

وائرس کے ارتقاءکے ماہر مائیکل ووروبے کا کہنا تھا کہ ”ہم نے ایچ آئی وی کی جائے پیدائش کا سراغ لگا لیا ہے۔ یہ 1970ءسے 1971ءکے دوران امریکی شہر نیویارک میں پیدا ہوئی۔ جب پہلی بار ایڈز کا انکشاف ہوا، اس سے کئی سال قبل ایچ آئی وی بہت زیادہ تعداد میں لوگوں میں پھیل چکا تھا۔ یہ وائرس 1976ءمیں نیویارک سے سین فرانسسکو پہنچا اور اس کے بعد پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ گئی۔ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ نیویارک اس وائرس کا مرکز ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس