"ماورائے قانون" اقدامات اور ان کے نقصانات

"ماورائے قانون" اقدامات اور ان کے نقصانات

  

معاشروں کی بقاء عدل وانصاف  اور قانون کی بالادستی میں مضمرہے۔عدل وانصاف کے بغیر کوئی قوم زندہ رہ سکتی ہے،نہ کوئی ملک ترقی کرسکتاہے۔یورپ اور امریکا کی ترقی اور خوشحالی کی سب سے بڑی وجہ عدل وانصاف  کی فوری اوریکساں فراہمی اور قانون کی بالادستی ہے۔دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں قانون  اورعدل وانصاف  کا پیمانہ سب کے لیے یکساں رکھاجاتاہے۔آپ صرف امریکا کی مثال لے لیں،جہاں قانون کے احترام میں امریکا کا دومرتبہ صدر رہنے والا شخص دوبارہ صدر بننے کے لیے قانون سے چھیڑخانی کرتاہے،نہ اپنے اقتدار کے لیے قانونی چور راستے ڈھونڈتاہے۔

امریکا کے سابق صدر اوبامہ نے اپنے دورصدارت میں دنیا کے سامنے قانون کی بالادستی  اور قانون کے احترام کی بہترین مثال پیش کرتے ہوئے کہا  تھا کہ "میں دومرتبہ امریکا کا صدر بناہوں اور میرے لیے امریکا کا صدر بننا بہت بڑا اعزاز ہے،میں چاہتاہوں کہ یہ اعزاز ہمیشہ میرے پاس رہے،مگر ہمارا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا،اس لیے میں تیسری مرتبہ صدر بننے کےلیے کوئی کوشش نہیں کروں گا،اب یہ اعزاز کسی اور کو ملنا چاہئے ہمارا قانون یہی کہتاہے"۔قانون کے احترام کا یہی حال برطانیہ،فرانس اور کینیڈا جیسے  ترقی یافتہ ممالک میں ہیں۔

دوسری طرف ہمارا ملک ہےجہاں ستر سال گزرنے کے باوجود نظام ِعدل آزاد ہوسکاہے،نہ قانون کی بالادستی ۔اقتدار کی خاطر یہاں حکمران آئے روز قانون کے ساتھ چھیڑخانی کرتے ہیں اورماورائے قانون اقدامات کرتے ہیں۔چنانچہ آئے روز اپنے اثرورسوخ کواستعمال کرکے عدل وانصاف کا گلا گھونٹا جاتاہے۔یقین نہ آئے تو موجودہ حکومت  میں" نااہل شخص پارٹی سربراہ بن سکتاہے یانہیں "اس پرجو قانونی ترمیم ہوئی اس کو دیکھ لیا جائے۔اس کے ساتھ کرپٹ اور خائن لوگوں کو اقتدار میں رہنے کے لیے متوقع قانون سازی کے لیے سیاست دانوں کےجوڑ توڑ پر غور کرلیا جائے کہ کس طرح ہمارے سیاست دان قانون کو پاؤں تلے مسل کر نظامِ عدل کو اپاہج بنانے کی تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں۔اگر قانون اورعدل وانصاف کے قتل عام کی تازہ مثال دیکھنی ہو تو سپریم کورٹ کی اس تنقید کو دیکھ لیا جائے جو 25اکتوبر کو عدل وانصاف کی بالادستی کے لیے کام کرنے اور قانون توڑنے والے مجرموں کا احتساب کرنے والےمعتبرادارےنیب  کے دوہرے رویے پر کی گئی کہ"نیب جسے چاہے ذلیل کرتاہے اور جسے چاہے چھوڑ دیتاہے،یعنی ایک طرف سندھ میں محکمہ تعلیم میں غیر قانونی لوگوں کی ضمانت منظور کیے بغیر گرفتارکرلیا جاتاہے،دوسری طرف کیپٹن صفدر اور مریم جیسے لوگوں کو جرم کے باوجود گرفتار نہیں کیا جاتا"۔سیاست دان بھی آج کل اسی طرح کے شکوے  عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کررہے ہیں۔ماہرین قانون بھی اپنے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام عدل کو آڑے ہاتھوں لیے ہوئے ہیں۔لیکن افسوس ناک صورت حال  یہ ہے کہ ہمارے نظام عدل نے غریب اورامیر میں تفریق  کردی ہے۔ایک طرف امیروں کے لیے ہماری عدالتیں اور قانون دان بول رہے ہیں،دوسری طرف غریب کے لیے کوئی آواز بلند کی جاتی  ہے،نہ اس  پر ہونے والے ظلم کو رکوانے کے لیے کوئی انصاف مہیا کیا جاتاہے۔چنانچہ غریبوں کے بچے لاپتہ کیے جارہے ہیں،پولیس اور رینجرز مقابلوں میں ماورائے عدالت ماراجارہاہے،مگر کوئی عدالت ٹس سے مس ہوتی ہے، نہ کوئی سیاست دان  یاقانون دان ان کے حق میں آواز بلند کرتاہے۔

دو دن قبل راقم کو ایک خاتون کی کال آئی  کہ ان کے قریبی عزیز کو رواں سال ستمبر میں کراچی کے علاقے سے لاپتہ کیا گیا اور پھر 40 دن  کے بعد کراچی کے ایک آپریشن میں کالعدم جماعت  کے دہشت گردوں میں شمار کرکے ماردیاگیا۔خاتون کال کے دوران آبدیدہ ہوکر بتانے لگی کہ ان کا عزیزحافظ قرآن  اور نمازی اور متقی تھا۔کبھی کسی مشکوک جماعت یامشکو ک لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تک نہ رہا۔والد کے ساتھ کاروبار میں شریک رہتا۔ایک سال قبل شادی ہوئی،بیوی حاملہ تھیں۔مسجد سے نماز پڑھ کر گھر آرہاتھا کہ انہیں کچھ لوگ اٹھا کر لے گئے۔کچھ دن بعد ان کے بڑے بھائی کو بھی گھر سے لے گئے۔69 سالہ بوڑھے باپ نے  دہائیاں دیں کہ میرے بیٹے کو کیوں لے کر جارہے ہیں وہ بے قصور ہے اسے چھوڑ دیں۔مگر ان کے باپ کوکہاگیا کہ" اور بناؤ بچوں کو حافظ"۔خاتون کا کہنا تھا کہ چھوٹے بھائی کو مارکر لاش دیدئی گئی جب کہ بڑا بھائی تاحال  لاپتہ ہے۔اس طرح کے کئی واقعات  پچھلے ایک ماہ سے سننے اور دیکھنے کو مل رہے ہیں۔جن میں زیادہ تر لوگوں کو پہلے لاپتہ کیا جاتاہے، پھر پولیس مقابلوں میں ماردیاجاتاہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اب تک درجنوں لوگوں کو اس طرح کے مقابلوں میں ماراجاچکاہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان پولیس مقابلوں میں اب تک کوئی پولیس والا زخمی ہوا ،نہ مارا گیا۔جس پر کئی لوگ سوالیہ نشانات اٹھارہے ہیں کہ بھلایہ کیسے ہوسکتاہے کہ ان مقابلوں میں ہردفعہ دہشت گرد ہی مارے جارہے ہیں اور مقابلہ کرنے والے پولیس والوں کو خراش تک نہیں آتی۔پھر کئی مقابلوں میں مارے جانے والے "دہشت گردوں"کی ہتھکڑیوں والی تصاویر بھی سامنے آئیں،جس سے ان مقابلوں کے مشکوک ہونے کو تقویت ملی۔لاپتہ افراد اور پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے زیادہ تر لوگ مذہبی حلیے  والے سامنے آئے ہیں۔لیکن اب سوشل میڈیا بلاگرز کو بھی لاپتہ کیا جارہاہے،جن میں سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔چنانچہ چند دن پہلے مریم نواز،رانا ثناءاللہ اور میاں نواز شریف کی طرف سے یہ بیانات سامنے آئے ان کے سوشل میڈیا کارکنوں کو لاپتہ کیا جارہاہے جو آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے۔ایم کیوایم اور جماعت اسلامی کی طرف سے بھی ان کے کارکنوں کو لاپتہ کیے جانے کی خبریں میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔

قطع نظر اس کے کہ لاپتہ کیے جانے والے اور پولیس مقابلوں اور دیگر آپریشن میں مار ے جانے والےلوگ مجرم ہیں یا دہشت گرد،سوال یہ ہے کہ ماورائے عدالت لوگوں کو کیوں لاپتہ کیا جارہاہے اور مارا جارہاہے؟اس بارے ہماری عدالتیں،قانون دان،سیاست دان،حکمران،عام عوام  اور میڈیاکیوں خاموش ہیں؟۔حالاں کہ اب دنیا میں مجرموں کو پکڑنے اور ان کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے بہترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں اب بھی فیک انکاؤنٹرز اور ماورائے عدالت  گرفتاری کا سہارا لیا جارہاہے۔فیک انکاؤنٹرز اور لوگوں کو  ماورائے عدالت لاپتہ کرنا ہمارے نظام عدل اور قانون کے منہ پر ایساطمانچہ ہے جس سے پوری دنیا میں نہ صرف ہماری جگ ہنسائی ہورہی ہے بلکہ ملک میں جرائم اور فساد بھی بڑھ رہاہے۔ہیومن رائٹس کے ادارےاورتنظیمیں اس طرح کے واقعات کو بنیاد بنا کرپاکستان کے خلاف جو پراپیگنڈا کررہی ہیں،اس کا اندازہ صرف وہی کرسکتاہے جو مغربی ممالک میں رہتاہے اور جس کا واسطہ آئے روز وہاں کی عوام سے پڑتاہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں اور خطرناک مجرموں کا سامنا ہے،مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے قانونی اور عدل وانصاف کے تقاضوں کو یک سر نظر انداز کردیاجائے۔دنیا میں جہاں کہیں بھی ماورائے قانون  اور عدالت کوئی قدم اٹھایا گیا اس سے  انتشار ،انارکی اورفساد ہی پھیلا ہے۔اس لیےعدل وانصاف اور قانون کی بالادستی ہی واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے اس ملک سے دہشت گردی اور جرائم پیشہ لوگوں کوختم کیا جاسکتاہے۔اس کے لیے پورے پاکستان کو مل کر نظام عدل اور قانون کو مضبوط کرنا ہوگا۔ماورائے عدالت اورماورائےقانون ہر اقدام کا  راستہ روکنا ہوگا۔امیر وغریب کے لیے قانون اور عدل وانصاف یکساں بنانا ہوگا،تب جا کر پاکستان محفوظ ہوگا اور دنیا میں پاکستان کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -