بجلی چوروں کے خلاف کارروائی،ترجیحات درست رکھیں

بجلی چوروں کے خلاف کارروائی،ترجیحات درست رکھیں

وفاقی وزیر برائے بجلی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ بجلی چوری روکنے کے لئے بھرپور کارروائی کا آغاز لاہور سے کیا جا رہا ہے،مقامی انتظامیہ کے ذریعے خفیہ معلومات پر چھاپے مارے جائیں گے۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ700سے900ارب روپے کے واجبات کی وصولی کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وہ وزیر خزانہ اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور کمی کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔۔۔ بجلی چوری روکنا متعلقہ بجلی کمپنیوں کا کام ہے،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ جہاں جہاں چوری ہوتی ہے وہاں وہاں اِن کمپنیوں کے بڑے چھوٹے اہلکار ہی کِسی نہ کِسی انداز میں ملوث ہوتے ہیں، بجلی چوری جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی بڑا افسر یا اہلکار اس میں شریکِ جرم ہو گا یہ ہو نہیں سکتا کہ بجلی چوری ہو رہی ہو اور متعلقہ ڈویژن یا سب ڈویژن کے افسروں کو اس کا علم نہ ہو، اگر کہیں بجلی چوری میں یہ افسر براہِ راست ملوث نہ بھی ہوں تو بھی وہ چوری سے چشم پوشی ضرور کر رہے ہوتے ہیں اور چشم پوشی کا یہ کام ’’بلا معاوضہ‘‘ بہرحال نہیں ہوتا، اس چوری میں بہت سے لوگ درجہ بدرجہ حصہ دار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی صنعتی ادارہ چوری کر رہا ہے تو اِس کا فائدہ صرف یہ صنعتکار ہی نہیں اُٹھا رہا ہوتا اِس بہتی گنگا میں بہت سے لوگ بیک وقت ہاتھ دھو رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رہائشی علاقوں کی نسبت کمرشل علاقوں کی بجلی کمپنیوں کے افسران کی پوسٹنگ زیادہ قیمتی سمجھی جاتی ہے اور اس کے لئے اثرو رسوخ بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اگر محض سفارش وغیرہ سے کام نہ چلتا ہو تو زر کو بھی قاضی الحاجات بنایا جاتا ہے۔

بجلی چوری کا جہاں تک تعلق ہے یہ بعض علاقوں میں بہت زیادہ ہے۔بعض میں زیادہ اور اِسی طرح کچھ علاقوں میں کم ہوتی ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اس انداز سے بجلی تقسیم کرتی ہیں کہ اُنہیں ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو جاتا ہے کہ کِس علاقے میں کتنی بجلی چوری ہوتی ہے،کیونکہ اُن کے پاس تقسیم کے لئے جتنے یونٹ بجلی دستیابی ہوتی ہے اگر اتنے یونٹوں کا بِل صارفین کو نہ دیا گیا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بجلی کمپنی کے سسٹم سے صارف تک پہنچتے پہنچتے راستے میں غائب ہو گئی،صارف تک بجلی پہنچانے کے لئے جو سسٹم بنایا جاتا ہے بوجوہ اس میں لائن لاسز بھی ہوتے ہیں،جو دُنیا بھر میں سات آٹھ فیصد تک معمول کے مطابق سمجھے جاتے ہیں اگر اِس سے زائد لائن لاسز ہوں تو اِس کا مطلب ہے کہ سسٹم میں خرابی ہے جسے درست کرنا ضروری ہے اور اگر یہ غیر معمولی طور پر بڑھتے رہیں تو اِس کا مطلب ہے بجلی صرف ضائع ہی نہیں ہو رہی چوری بھی ہو رہی ہے،جس علاقے میں لائن لاسز 30فیصد یا اِس حد کو بھی عبور کر جائیں یہ لازمی ہے کہ ان میں چوری کی جانے والی بجلی بھی شامل ہوتی ہے۔اس طرح متعلقہ کمپنی کو یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ بجلی چوری کی جا رہی ہے اگر تو کوئی ایسا بجلی چور ہے، جس نے یہ واردات کرنے سے پہلے کمپنی کے افسر یا اہلکار کو اعتماد میں نہیں لیا تو وہ آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے، لیکن اگر اُس نے چوری کی واردات ڈالنے سے پہلے اِس امر کا اہتمام کر لیا ہو کہ محکمہ کو پہلے سے علم ہو تو پھر ایسی چوری عموماً نہیں پکڑی جاتی یا اُس وقت پکڑی جاتی ہے جب کوئی فریق طے شدہ طریقِ کار کی خلاف ورزی کرتا ہے، عمومی طور پر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جتنے زیادہ لائن لاسز اتنی زیادہ چوری، اب اگر حکومت نے بجلی چوروں کو پکڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو منطقی بات ہے کہ آغاز وہاں سے کیا جائے، جہاں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے یا جہاں لوگ بجلی تو استعمال کرتے ہیں،لیکن وہاں سے ریکوری اُس شرح کے حساب سے نہیں ہوتی جس شرح سے بجلی استعمال ہوئی ہوتی ہے،اِس سلسلے میں بات سمجھنے کے لئے بعض علاقوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالنا خالی از دلچسپی نہیں ہو گا۔

ایک رپورٹ کے مطابق اِس وقت لائن لاسز اور بجلی چوری کی مد میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو 200ارب روپے کے لگ بھگ نقصان ہوتا ہے، پورے پاکستان میں اس وقت پشاور اس معاملے میں سرفہرست ہے جہاں لائن لاسز36.40 فیصد ہیں۔ سکھر الیکٹرانک پاور کمپنی میں یہ نقصانات 35فیصد ہیں، حیدر آباد پاور سپلائی کمپنی میں بجلی چوری اور لائن لاسز27فیصد تک ہیں، جبکہ کوئٹہ میں یہ شرح21فیصد ہے، ملتان الیکٹرانک سپلائی کمپنی میں لائن لاسز کی شرح15 فیصد ہے۔ لاہور میں یہ شرح13فیصد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں9فیصد،جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح 7فیصد ہے۔ مُلک بھرمیں نو کمپنیاں بجلی کی تقسیم کا کاروبار کرتی ہیں،جن میں پشاور لائن لاسز میں سب سے اوپر اور اسلام آباد سب سے نیچے ہے،لاہور کا نمبر چھٹا ہے، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ بجلی چوروں کو پکڑنے کے لئے سب سے پہلے لاہور کا انتخاب کیا گیا ہے، جبکہ اس سے اوپر پانچ شہروں کو چھوڑ دیا گیا ہے، جہاں اس سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے اور پشاور میں تو مُلک بھر میں ریکارڈ چوری ہوتی ہے یہ اعداد و شمار آج کے نہیں ہیں، سالہا سال سے یہی کیفیت چلی آتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں جب پانچ سال تک تحریک انصاف کی حکومت رہی،اس وقت بھی اس حکومت نے بجلی چوری اور لائن لاسز روکنے کی طرف توجہ نہیں دی، اب بھی پشاور، سکھر،حیدر آباد، کوئٹہ اور ملتان کو چھوڑ کر لاہور کا انتخاب سب سے پہلے کیا گیا ہے تو حیرت ہوتی ہے، اوپر والوں کو کیوں نظر انداز کردیا گیا، کوئی تو وجہ ہوگی؟ لیسکو کے لائن لاسز(بشمول بجلی چوری) 13فیصد تک ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ جن پانچ بجلی کمپنیوں میں لاہور سے زیادہ بجلی چوری ہو رہی ہے اُس جانب توجہ نہیں دی گئی اور اس مقصد کے لئے لاہور کو منتخب کر لیا گیا، ہمارے استدلال کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ اگر لاہور میں بجلی چوری ہو رہی ہے تووہ نہ روکی جائے، کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر واقعی بجلی چوروں کو پکڑنا مقصود ہے تو پھر اُن شہروں کی جانب بھی توجہ کی جائے، جہاں لاہور سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے ، گوجرانوالہ،فیصل آباد اور اسلام آباد کی بجلی کمپنیاں مبارک باد کی مستحق ہیں کہ اُن کے علاقوں میں لائن لاسز انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے قریب قریب ہیں، اتنے لائن لاسز قرینِ قیاس ہیں، جن میں بجلی چوری کی شرح بہت ہی کم ہے،ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ جہاں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے اک نگاہِ غلط انداز ہی سہی، اُدھر بھی ضرور ڈالی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ