ایوب خان کا ’’یوم انقلاب‘‘ تاریخ میں گم ہو گیا

ایوب خان کا ’’یوم انقلاب‘‘ تاریخ میں گم ہو گیا
ایوب خان کا ’’یوم انقلاب‘‘ تاریخ میں گم ہو گیا

  

صدر سکندر مرزا اور جنرل محمد ایوب خان دونوں ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔ آزادی کے وقت مرزا ڈپٹی سیکرٹری تھے۔اپنا راستہ بنانا جانتے تھے، چنانچہ پہلے سیکرٹری دفاع بنے پھر مشرقی پاکستان کی گورنری سنبھالی۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد بیمار پڑ گئے تو مرزا ان کی جگہ قائم مقام گورنر جنرل بن گئے۔ وزیراعظم چودھری محمد علی نے 1956ء کا آئین اسمبلی سے پاس کروایا تو اس شرط پر اس پر دستخط کرنے پر آمادہ ہوئے کہ انہیں آئین کے تحت بننے والے نئے سیٹ اَپ میں صدر منتخب کروایا جائے۔ صدر بننے کے بعد مرزا نے سیاست دانوں کو انگلیوں پر نچانا شروع کر دیا۔ چار وزارتیں اپنے ہاتھوں بنوائیں اور پھر اُنہیں چلتا کیا، کنٹرولڈ ڈیمو کریسی کا شوشہ چھوڑا تو اہلِ بصیرت نے جان لیا کہ مُلک کو آمریت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

ایوب خان برطانوی دور میں فوج میں بھرتی ہوئے،سیکنڈ لیفٹیننٹ سے ترقی کرتے ہوئے لیاقت علی خان کے دور میں پاکستانی فوج کے پہلے مسلمان کمانڈرانچیف مقرر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچے تو وزیراعظم فیروز خان نون سے سروس میں دو سال کی توسیع لینے میں کامیاب ہو گئے۔انہوں نے اپنی خود نوشت ’’ فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے1954ء میں لندن کے ایک ہوٹل میں اپنے قیام کے دوران مُلک کو تعمیر و ترقی کے راستے پر ڈالنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وہ اور سکندر مرزا، دونوں حضرات آئین کو ختم کرنا چاہتے تھے، کیونکہ 15فروری1959ء کو ملکی انتخابات ہونے والے تھے۔

ان میں دونوں کو اپنا مستقبل غیر محفوظ نظر آ رہا تھا، چنانچہ دونوں نے باہمی تعاون سے 7اکتوبر 1958ء کو اسمبلیاں ختم کر دیں، سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی اور آئین معطل کر کے مُلک پر مارشل لاء مسلط کر دیا۔ایوب خان نے مرزا سے پہلے ہی طے کروا لیا تھا کہ تمام اختیارات چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے پاس ہوں گے۔ مارشل لاء کے نفاذ کے فوراً بعد ایوب خان نے ملک کا فوجی سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کا عہدہ بھی سنبھال لیا اور 12رکنی کابینہ کا اعلان کر دیا، اس کابینہ میں ذوالفقار علی بھٹو وزیر تجارت تھے۔ مارشل لاء کے نفاذ کے دو دن ہی بعد چیف جسٹس آف پاکستان محمد منیر نے اسے جائز قرار دے دیا۔

سکندر مرزا کو مارشل لاء کے نفاذ کے فوراً بعد ہی اپنے بے اختیار ہونے کا احساس ہونے لگا۔وہ مارشل لاء کو صرف ایک ماہ تک ہی نافذ رکھنا چاہتے تھے، جبکہ ایوب خان کے پاس جو ’’تعمیر و ترقی کا پروگرام‘‘ تھا اس کے لئے وہ مارشل لاء کو جاری رکھنے کے حق میں تھے۔ سکندر مرزا نے 4 اکتوبر1958ء کو امریکی سفیر مسٹر لینگلے کو بتایا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان کی حکومت کا چارج بھی سنبھالیں گے اور مُلک میں مارشل لاء لگا کر دستور کو معطل کر دیا جائے گا۔ ایک کمیشن نیا دستور بنائے گا اور15 فروری 1959ء کو ہونے والے انتخابات اب منعقد نہیں ہوں گے۔امریکہ میں سیکرٹری آف سٹیٹ کو یہ پیغام جس پر ’’نائٹ ایکشن‘‘ لکھا ہوا تھا اس روز 6بج کر42 منٹ پر ملا، لیکن انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

ایوب خان نے مارشل لاء لگتے ہی تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے،لیکن پھر بھی انہیں اِس سیٹ اَپ میں سکندر مرزا کا وجود کھٹکتا تھا۔ دونوں کو ان کے مشیر مشورہ دے رہے تھے کہ طاقت کے استعمال میں ساجھے داری قابلِ برداشت نہیں،چنانچہ اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا۔ ایر مارشل اصغر خان لکھتے ہیں کہ ایوانِ صدر میں ایک استقبالیے کے دوران ایک انتہائی زیرک سفارت کار کینیڈا کے ہائی کمشنر مورن نے ایوب خان سے سوال کیا:جنابِ وزیراعظم! آپ اگلا قدم کب اُٹھا رہے ہیں؟ ’’کیا مطلب؟‘‘ ایوب خان نے حاضر جوابی سے کہا:ہائی کمشنر بغیر کچھ بولے مسکرا دیئے، لیکن ایوب خان سمیت وہاں موجود ہر فرد یہ سمجھ گیا کہ مورن کا مطلب کیا تھا۔

آخر وہ گھڑی آ گئی جب فیصلہ ہو گیا کہ طاقت کی باگ دوڑ کس کے ہاتھوں میں رہنی ہے۔ایوب خان کو اوپر تلے ایسی اطلاعات ملیں جن کا مفہوم یہ تھا کہ سکندر مرزا بازی اُلٹنا چاہتے ہیں۔ جرنیلوں کے ساتھ ہونے والی ایک میٹنگ میں ایوب خان نے سکندر مرزا کی خفیہ سرگرمیوں پر روشنی ڈالی تو سب نے ناگواری کا اظہار کیا۔ایوب خان سکندر مرزا سے اپنی پرانی دوستی کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ہچکچا ر ہے تھے،لیکن ان کے ساتھیوں نے یہ کہہ کر ان کی مشکل آسان کر دی کہ ہم چلے جاتے ہیں،چنانچہ چار جرنیل ایوانِ صدر پہنچے۔ رات کا وقت تھا، صدر شب خوابی کے لباس میں تھے۔

انہوں نے ازخود جرنیلوں سے کاغذ طلب کیا اور دستخط کر کے اسے واپس دے دیا۔جب وہ چاروں ایوب خان کے پاس واپس پہنچے تو ایوب نے اطمینان کا سانس لیا۔ اگلے روز سکندر مرزا کو کوئٹہ بھیج دیا گیا، جہاں سے اُنہیں کراچی پہنچا دیا گیا۔اصغر خان لکھتے ہیں کہ مَیں ماری پور ہوائی اڈے کے وی آئی پی روم میں داخل ہوا تو سکندر مرزا اور اُن کی بیگم ایک صوفے پر بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ ہی ایک کرسی پر ایک جونیئر فوجی افسر اپنی ٹانگیں اس میز کے اوپر پھیلائے بیٹھا تھا، جو سابق صدر کے سامنے پڑی تھی، چونکہ یہ بدتمیزی کی انتہا اور نامعقول حرکت تھی،میں نے اس افسر کو اِس بات کا احساس دلایا اور کمرے سے نکال دیا۔ چند منٹ بعد سکندر مرزا اور اُن کی بیگم لندن کے لئے روانہ ہو گئے۔اس افسر کا رویہ فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کے خطرات کی ترجمانی کرتا تھا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ کے رہنما خان عبدالقیوم خان نے بھی درپردہ سکندر مرزا کی جلاوطنی کے لئے راستہ ہموار کیا تھا۔انہوں نے جہلم سے گجرات تک 32 میل لمبا جلوس نکالا تھا اور اپنی تقریروں میں صدر سکندر مرزا پر شدید تنقید کی اور ان پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ خان قیوم جرنیلوں سے رابطے میں تھے۔وہ ان کی خواہش کے مطابق ہی ’’خونی انقلاب‘‘کی دھمکیاں دے کر حالات کو بگاڑ رہے تھے۔ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے ایک قرارداد بھی پاس کی تھی،جس میں کہہ دیا کہ ضرورت پڑی تو غیر آئینی طریقوں سے حکومت کو برطرف کر دیا جائے گا۔

27 اکتوبر58ء ملت پاک کی تاریخ کا وہ سیاہ دِن ہے جب اچھلے بھلے چلتے جمہوری نظام کی مکمل طور پر بساط لپیٹ دی گئی۔یوں آئین کو بے توقیر اور بے وقعت سی دستاویز ثابت کرنے کی روایت پڑ گئی۔

مزید : رائے /کالم