پنجاب اسمبلی،نئے پاکستان میں نئی تاریخ!

پنجاب اسمبلی،نئے پاکستان میں نئی تاریخ!
پنجاب اسمبلی،نئے پاکستان میں نئی تاریخ!

  

ایک دور تھا، جب تمام تر احتجاج اور ہنگاموں کے باوجود منتخب ایوانوں کی کارروائی جاری رہتی، سپیکر اور حزبِ اقتدار کی یہ کوشش ہوتی کہ ایوان کی کارروائی آگے بڑھتی رہے،چنانچہ حزبِ اختلاف کے احتجاج یا بائیکاٹ کی صورت میں یکطرفہ ٹریفک نہیں چلائی جاتی تھی۔شاید یہ نئے پاکستان کے پرانے سیاسی رہنما ہیں کہ انہوں نے نئی روایت پیدا کر دی، جبکہ حزبِ اختلاف نے بھی ان کو پورا پورا موقع فراہم کر دیا۔پنجاب اسمبلی نے گزشتہ روز پندرہ بیس منٹ کے اندر اندر تمام ضابطے پورے کر کے آٹھ ماہ کا بجٹ منظور کر لیا،حزبِ اختلاف اسمبلی کے باہر احتجاج کرتی رہی اور ایوان میں منظور ہے، منظور ہے کی صدائیں گونجتی رہیں۔

اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی ہیں وہ تجربہ کار پارلیمینٹرین ہیں کہ اسی ایوان کے ایک سے زیادہ بار رکن رہے ان کو صوبائی وزیر ہونے اور پھر قائم مقام قائد حزبِ اختلاف رہنے کا بھی شرف حاصل رہا،چودھری پرویز الٰہی اس کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی رہے اور بعد میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں وزیراعلیٰ بھی رہے،ان کا سفر یہیں ختم نہ ہوا، وہ قومی اسمبلی میں منتخب ہو کر پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں نائب وزیراعظم بھی تھے، اِس مرتبہ ان کی جماعت مسلم لیگ(ق) کا تحریک انصاف کے ساتھ الحاق ہوا،انہوں نے وفاق کی نشست چھوڑ کر پنجاب اسمبلی کی رکنیت برقرار رکھی، ان دِنوں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ چودھری پرویز الٰہی ’’اک واری فیر‘‘ وزیراعلیٰ ہوں گے، لیکن تحریک انصاف کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا دوسرا طریقہ طے ہوا اور وہ سپیکر کا انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے یوں اب وہ سپیکر ہیں۔

دوسری طرف اب ان کی سابقہ جماعت مسلم لیگ (ن)ہے اور یہاں تبدیلی آئی ہے کہ سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف بوجوہ قومی اسمبلی کی رکنیت رکھ کر قائد حزبِ اختلاف ہو گئے ہیں ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف کو قومی اسمبلی کی بجائے صوبائی ایوان کو ترجیح دینا پڑی وہ یہاں قائد حزبِ اختلاف ہیں، حمزہ شہباز نوجوان ہیں اور ان کو اب پہلا موقع ملا ہے جب وہ پارلیمانی پارٹی کی سربراہی کر رہے ہیں اور اسی حوالے سے یہاں قائد حزبِ اختلاف ہیں۔انتخابی عمل پر احتجاج کے دوران یہ نتیجہ بھی نکالا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ(ن) ایوانوں کا بائیکاٹ کر دے گی،لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے پہلا پتھر پھینکا گیا اور اس کے اراکین نے ایوانوں میں جانے کا فیصلہ کیا، اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) نے بھی ایوانوں کو رونق بخشنے کا طے کر لیا۔

یوں ایوانوں کے لئے حلف اُٹھا لئے گئے، خیال تھا کہ تمام تر تحفظات کے باوجود ایوان چلتے رہیں گے اور ایسا نظارہ نظر بھی آیا، قومی اور پنجاب اسمبلی میں احتجاج بھی ہوا،لیکن حلف اٹھا لئے گئے۔ اس مرتبہ عددی اکثریت میں سابقہ ادوار کی نسبت فرق کافی کم ہے،اِس لئے حزبِ اختلاف کا احتجاج پر زور ہوتا ہے۔خیال تھا کہ ایوان چلتے رہیں گے یوں بھی وزیراعظم عمران خان خود بھی ایوانوں میں آئے اور یقین بھی دلایا کہ سب کچھ پارلیمینٹ میں لایا جائے گا اور ہفتے میں ایک دن وہ خود آ کر سوالات کے جواب دیا کریں گے،مگر یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوا اور وزیراعظم عمران خان نے اس کی کسر دن رات کی محنت سے نکال دی۔کابینہ کے اجلاس مسلسل ہو رہے ہیں اور ان میں اہم امور کی منظوری بھی دی جاتی ہے۔

بھلا ہو نصیبوں کا کہ ادھر نیب نے سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو گرفتار کر لیا اس پر احتجاج تو لازمی ہونا تھا اور ہوا، تاہم پنجاب اسمبلی میں ہونے والا ہنگامہ خود اپنی تاریخ بن گیا، مبینہ طور پر ایوانِ پنجاب (اسمبلی) میدانِ جنگ بن گیا،بجٹ اجلاس کے روز بہت زیادہ ہنگامہ ہوا، توڑ پھوڑ بھی کی گئی اور لاکھوں کا سامان بھی ٹوٹا،اس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے سی سی فوٹیج سے سراغ لگا کر حزبِ اختلاف کے چھ اراکین کی رکنیت معطل کر دی اور ان کو ایوان میں داخلے سے روک دیا گیا،حزب اختلاف نے حمزہ شہباز کی قیادت میں اس اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور مطالبہ کیا کہ معطل اراکین کی رکنیت بحال کی جائے اس پر محاذ آرائی میں شدت آ گئی کہ سپیکر نے غلطی جاننے کے لئے تحقیقاتی قائم کر دی،جبکہ حمزہ شہباز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا کہ معطل اراکین کی رکنیت بحال کی جائے،سپیکر نے ایسا نہ کیا۔ توقع کے مطابق مسلم لیگ(ن) کی طرف سے ایسی تحقیقاتی کمیٹی کو ماننے سے انکار اور مسترد کر دیا گیا اور مطالبہ کیا کہ اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے۔ اس سلسلے میں اب ریکوزیشن بھی جمع کرائی جا رہی ہے۔

ہمارے نزدیک یہ سب دانش مندی نہیں، مسلم لیگ(ن) کو اپنے کردار کو بچانے کے لئے صاف گوئی پر قائم رہنا ہو گا کہ رکنیت تو بحال ہو گی ہی،لیکن ساتھ ہی آپ پر یہ الزام بھی آئے گا کہ بائیکاٹ کر کے موقع دے دیا کہ بجٹ کسی تکلف کے بغیر منظور کر لیا جائے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ پارلیمانی جمہوریت ہے؟ کہ عوام کے مسائل کو نظر انداز کر دیا جائے،سپیکر کو ایوان کا محافظ کہا جاتا ہے۔چودھری پرویز الٰہی کو چاہئے تھا کہ وہ ایوان میں کارروائی کو یکطرفہ نہ چلاتے کہ ماضی میں کئی بائیکاٹ ہوئے۔دیر تک چلے بھی،لیکن مطالبات کی منظوری یا نہ ہونے کے باوجود ایوان چلائے جاتے رہے،جمہوریت تو یہی ہے،لیکن یہاں شاید کچھ ذاتیات کا عمل دخل ہو گیا ہے اِس لئے ایسا نہیں ہو پایا اور بجٹ یکطرفہ ٹریفک کے بعد منظور کرا لیا گیا، اب بھی وقت ہے کہ سنجیدہ فکر حضرات کوشش کریں، ہاؤس بزنس کمیٹی کا اجلاس سپیکر کے دفتر میں ہو اور ایوان چلانے کا فیصلہ کر لیا جائے کہ تاریخ تو بن ہی چکی ہے۔

مزید : رائے /کالم