چین،پاکستان اکنامک کاریڈور:گیم چینجر یا قرضے کا پھندا

چین،پاکستان اکنامک کاریڈور:گیم چینجر یا قرضے کا پھندا
چین،پاکستان اکنامک کاریڈور:گیم چینجر یا قرضے کا پھندا

  

چین نے ورلڈ بینک کی خدمات حاصل کر لی ہیں تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ سی پیک کی مد میں خرچ کئے جانے والے60 ارب ڈالر کا کس قدر پوٹینشل ہے؟ پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری کے کیا نتائج نکلیں گے،کیونکہ پاکستان کی ادارہ جاتی صلاحیت اتنی پختہ نہیں ہے کہ وہ سروے اور ریسرچ کی بنیاد پر اس طرح کے سوالات کے جواب تلاش کر سکیں۔ ورلڈ بنک سی پیک پر عمل درآمد کی صورتِ حال، اس کے نتائج اور مستقبل میں ممکنہ اثرات کا جائزہ لے گا۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر الانگو پیچامٹھو نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کے ساتھ ایک میٹنگ میں بتایا کہ ورلڈ بینک اس منصوبے سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کرے گا تاکہ 60 ارب ڈالر کی اس سرمایہ کاری کے اثرات بارے پتہ چلایا جا سکے۔ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے وزیر موصوف کو ایک تفصیلی پریزینٹیشن بھی پیش کی۔

پاکستان کو قرض دینے والا ادارہ ایسے وقت میں یہ کام کر رہا ہے جب پاکستان کو اِس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سی پیک منصوبے کی تکمیل کے لئے سرعت اور تیزی دکھائی جائے، اس سے متعلق منصوبے تیزی سے مکمل کئے جائیں تاکہ ان کے مثبت اثرات سے پاکستان فائدہ اُٹھا سکے۔پاکستان ویسے تو کبھی ’’خطرناک صورتِ حال‘‘ ’’نازک حالات‘‘ سے باہر نہیں آیا ہے،لیکن اب تو فی الحقیقت اقتصادی معاملات نازک موڑ پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان تزویراتی طور پر 2001ء سے خطرناک صورتِ حال کا شکار ہے،بلکہ خطرناک حالات میں گھرا ہوا ہے، نائن الیون کے بعد یہاں خطے میں امریکہ اور اس کے حامی ناٹو ممالک کی مسلح افواج افغانستان سے القاعدہ اور طالبان کا خاتمہ کرنے کا عزم لئے یہاں آئیں، ایک گھمسان کا رن پڑا۔

ناٹو کی42ممالک کی افواج اور انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹینس(ایساف) کے ممبر ممالک کی جدید افواج نے مل جل کر یہاں جدید ترین اور خطرناک ترین ہتھیار استعمال کرنا شروع کئے۔ امریکہ نےMOA B، یعنی ’’بموں کی ماں‘‘ بھی استعمال کر کے دیکھ لیا۔ ڈیزی کٹر بموں کی بارش کر کے بھی دیکھ لیا۔دُنیا کی جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی ڈرون کے ذریعے انہوں نے اپنے دشمنوں کو چُن چُن کر مارنے کی پالیسی اختیار کی اور ہنوز اِس پر عمل درآمد جاری ہے،لیکن وہ طالبان کو ختم کرنے کی بجائے، حقانی نیٹ ورک بنا بیٹھے اب حقانی نیٹ ورک بھی ان کے لئے دردِ سر بنا ہوا ہے، پہلے دس گیارہ سال تک امریکی اور ان کے ساتھی جدید اسلحی قوت کے استعمال سے افغانستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی کاوشیں کرتے رہے، لیکن انہیں کامیابی نہ مل سکی، پھر انہوں نے 2015ء تک افغانستان سے ملٹری آپریشن ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

ابھی یہ باتیں جاری تھیں کہ چین نے 2013ء میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو(BRI) کا اعلان کر دیا۔ ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ کے نام سے جاری کردہ اِس منصوبے نے عالمی سطح پر ارتعاش برپا کیا۔امریکہ نے اسے ’’میڈ اِن چائنہ‘‘ اور ’’میڈ فار چائنہ‘‘ کا نام دیا۔ اس منصوبے کے ذریعے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے ممالک کو ریل اور روڈ کے ساتھ ساتھ بحری راستوں سے جوڑنا شامل ہے یہ ممالک دُنیا کی دو تہائی خام قومی پیداوار کے حامل ہیں اس طرح امریکی عالمی بالادستی کے لئے انتہائی سنجیدہ چیلنجز پیدا ہو گئے تھے اِسی لئے امریکہ نے چیخنا چلانا شروع کر دیا،لیکن برطانیہ،جرمنی،فرانس اور روس نے اس چینی منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ امریکہ اور بھارت کی طرح اِس عظیم الشان منصوبے کی مخالفت کرنے کی بجائے اس میں شریک کار ہونے کا فیصلہ کیا وہ تعمیر اور ترقی کے منصوبوں میں شریک کار ہو گئے۔

ہندوستان نے اِس منصوبے کی مخالفت کی،کیونکہ اس کے اردگرد ممالک اِس منصوبے میں شامل ہو گئے، جس کے باعث انڈیا نے اپنے آپ کو گھرا ہوا پایا، اِس لئے اس پر بھی سکتہ طاری ہونے لگا، لیکن دیگر یورپی اور مغربی ممالک نے اس عظیم الشان اور مربوط سرمایہ کاری کے منصوبے میں تعمیراتی منصوبوں میں شریک ہو کر ان مواقع سے فائدہ اُٹھانا شروع کر دیا۔امریکہ اس منصوبے کا مخالف ہے، لیکن اس نے جنرل الیکٹرک اور کیرئیر جیسی عظیم الجثہ کثیر قومی کمپنیوں کو اربوں کے منصوبوں میں شرکت کرنے کی ترغیب دی ہے، تاکہ امریکہ اس عظیم الشان منصوبے سے فائدہ اُٹھا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ جنرل الیکٹرک نے 2018ء میں اربوں پراجیکٹس کے لئے مشینری اینڈ ایکوپمنٹ سپلائی کر کے 203 ارب ڈالر کا منافع کمایا ہے، یعنی صرف ایک سال کے دوران اس قدر نفع اندوزی حاصل کی ہے۔ گویا امریکہ بھی بالواسطہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے مستفید ہو رہا ہے۔ اربوں ڈالر کما رہا ہے اور چین طے شدہ منصوبوں کی تکمیل میں اس کی معاونت کر رہا ہے، لیکن اسے پتہ ہے کہ چین عالمی منظر پر چھا رہا ہے، اس کی خارجہ پالیسی اس کی اقتصادی پالیسی کے ساتھ مربوط ہے، جس طرح امریکہ کی خارجہ پالیسی امریکی ملٹری کارپوریٹ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اسلحہ سازی اور اس کی فروخت کے لئے چینی خارجہ پالیسی ترتیب دی جاتی ہے کہ ملکوں میں اسلحے کی طلب پیدا ہو جائے۔ امریکہ ایک پالیسی کے تحت، دہشت اور وحشت کا ماحول قائم کرتا ہے۔ خوف و ہراس پیدا کرتا ہے۔ پھر اس نفسیات کے تحت اسلحہ کے حصول کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے اور امریکہ اس ہیجانی کیفیت میں ایک مددگار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ گزری نصف صدی یا اس سے زیادہ مدت کے دوران دُنیا میں جو کچھ ہوا، جو جنگ و جدل کا بازار گرم رہا وہ صرف امریکی پالیسیوں کے باعث ہی ممکن ہوا ہے۔

آپ اس دور میں ہونے والی گرم اور سرد جنگوں کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں، اس میں امریکی صیہونی شیطانیت نظر آئے گی۔ مشرق وسطیٰ ہو یا مشرق بعید، افریقہ ہو یا وسط ایشیا، ہر جگہ جو اختلاف یا دشمنی نظر آتی ہے،جہاں کہیں بھی مار دھاڑ ہے۔ قتل و غارت گری کا دور دورہ ہے، وہاں امریکی اسلحہ اور گولہ بارود ضرور نظر آئے گا۔ وہاں امریکہ ضرور ہوگا۔90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے تک امریکہ عالمی معاملات کو بالواسطہ ہینڈل کرتا تھا۔

ڈپلومیسی کے ذریعے معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا۔اِسی پالیسی کے تحت امریکہ نے ایک طرف معاشی استحکام حاصل کیا اور اربوں کھربوں ڈالر کمائے۔ کمزور اور اپنے دوست ممالک سے ان کی دولت ہتھیائی، انہیں جنگوں میں مبتلا رکھا، اپنا زیرِ نگیں بنایا اور ہنوز یہ معاملات جاری ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام سے پہلے تک اپنے دوستوں کو کمیونزم سے ڈرا دھمکا کر اپنے پرچم تلے متحد رکھا، ان کی دولت پر ہاتھ صاف کیا، لیکن جب 90ء کی دہائی میں سوویت یونین ختم ہو گیا تو پھر امریکہ نے بزعم خود سپریم طاقت بن کر عالمی اور علاقائی معاملات کو طے کرنا شروع کر دیا۔ اس کی ابتداء مشرق وسطیٰ سے کی گئی جہاں اسرائیل کو بڑھاوا دے کر علاقے کا چودھری بنا دیا گیا۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت مان لینا اسی پالیسی کا حصہ ہے، لیکن اسی دوران نائن الیون ہو گیا اور امریکی طاقت کا گھمنڈ پیوندِ خاک ہو گیا۔ 2001ء سے ہنوز امریکہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کی بحالی کے لئے افغانستان میں کوشاں ہے، لیکن اسے کسی طور بھی کامیابی نہیں مل رہی ہے۔

یہ معاملات ابھی جاری تھے کہ چین نے 2013ء میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اعلان کرکے امریکی بالادستی کو چیلنج کر دیا۔ ویسے تو چین نے اسے تعمیر و ترقی کے منصوبے کا نام دیا اور ہزاروں بلین ڈالر خرچ کرکے تین برِ اعظموں کے درجنوں ممالک کے درمیان ربط و ضبط قائم کرکے عالمی تجارت کے فروغ کی کاوشیں شروع کیں، لیکن چین کی بڑھتی، اُبھرتی اور آگے بڑھتی ہوئی تجارتی کاوشوں نے امریکہ کو پریشان کر دیا۔ چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور اسی منصوبے کا مرکزی حصہ ہے، جس کے ذریعے چین بحیرۂ عرب، بحر ہند اور خلیج فارس تک دخیل ہونے جا رہا ہے، افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری امریکی جنگ میں انہیں کامیابی نصیب نہیں ہو رہی۔ امریکی رائے عامہ اس معاملے پر تقسیم نظر آ رہی ہے،

امریکی قیادت بشمول بش، اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس معاملے پر تقسیم ہو رہے ہیں۔انہوں نے پالیسیاں بدل بدل کر افغانستان کے اِس مسئلے کو حل کرنے اور کسی حتمی انجام تک پہنچانے کی سر توڑ کاوشیں کی ہیں،لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ امریکی قیادتیں پاکستان کو زیر بار لانے کی کاوشیں کرتی رہی ہیں پاکستان کو اِس مسئلے کے حل میں اُلجھانے اور نقصان پہنچانے کی بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں،لیکن افغان عوام کے جذبہ حریت کے سامنے انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔اب سی پیک منصوبے میں پاکستان کی شمولیت کے باعث پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ چین کے ساتھ سٹرٹیجک پارٹنر شپ کے ذریعے پاکستان نہ صرف علاقائی سیاست،بلکہ عالمی سیاست میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

پاکستان کے اقتصادی معاملات میں بگاڑ کے باعث پاکستان کے دشمنوں کو اِس بات کا موقع مل گیا ہے کہ وہ سی پیک کو متنازعہ بنا دیں اِسی لئے اب اس منصوبے کا ریویو کیا جا رہا ہے تاکہ اِس میں سے کچھ ایسا نکال کر عوام کے سامنے پیش کیا جائے، جس سے اس منصوبے کی اہمیت کو گھٹایا جا سکے،ہمیں ہوشیار اور ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے،کیونکہ سی پیک پاکستان کے لئے ایک حقیقی گیم چینجر ہے۔

مزید : رائے /کالم