قرض کی مے اور فاقہ مستیاں

قرض کی مے اور فاقہ مستیاں
قرض کی مے اور فاقہ مستیاں

  

امریکہ کی مشہور کہاوت ہے کہ There,s no such thing as a free lunch یعنی کوئی دعوت کبھی مفت نہیں ہوتی۔ اس مشہور امریکی محاورے کو تقریباً پوری دنیا میں ذاتی، معاشی، کارپوریٹ اور سیاسی حوالوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مگر اس محاورے کا سب سے درست اطلاق خارجہ پالیسی اور اس سے جڑے معاشی معاملات پر ہوتا ہے۔ دنیا کی کسی بھی ریاست کے حکمران اگر کسی ملک سے ملنے والی بھاری امداد کے بارے میں یہ دعویٰ کریں کہ یہ امداد محض پیار، محبت یا خیر سگالی کے جذبے کے تحت دی گئی ہے تو اس کے دو ہی مطلب نکل سکتے ہیں یا تو یہ بات کرنے والے حکمران خارجہ پالیسی کی الف،

ب بھی نہیں جانتے یا پھر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں ملنے والی امداد پر حکمران یہی موقف اختیار کر رہے ہیں کہ اس امداد کے بدلے سعودی عرب نے ہم نے کچھ نہیں مانگا، تاہم ہر ملک کی طرح سعودی عرب بھی کسی ملک کو امداد دیتے ہوئے اپنے مفادات کو ہی ترجیح دیتا ہے، اس لئے اتنی بڑی امداد سے نظر آ رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔۔۔ جمال خشوگی کے قتل پر دنیا کے ردعمل اور مشرق وسطیٰ کے حالات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اس خطے میں سعودی عرب کو اپنے اثرورسوخ کو برقرار رکھنے میں بہت سی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

سعودی شاہی خاندان میں اندرونی اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یمن کی جنگ، شام میں باغیوں کو بھاری سعودی عسکری اور مالی امداد کے باوجود سعودی مخالف شامی صدر بشار الاسد کا اقتدار پر فائز رہنا، ایران کا بڑھتا ہوا اثر، سعودی عرب اور اس کی حامی خلیجی ریاستوں میں جمہوری تحریکوں کا خطرہ، یہ سب کچھ سعودی عرب کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے، پھر امریکہ میں شیل گیس کا انقلاب آنے کے بعد عرب تیل پر امریکی انحصار میں بہت جلدکمی واقع ہو جائے گی۔ 2001ء تک امریکہ اپنی ضروریات کا صرف ایک فیصد شیل گیس سے پورا کرتا تھا، 2010ء تک 20 فیصد اور اب یہ مقدار 25 فیصد سے زائد ہوچکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ 2035 ء تک اپنی ضروریات کا 45 فیصد شیل گیس سے پورا کرے گا،

اس لئے صرف تیل کی خاطر امریکہ سعودی عرب کے نازنخرے برداشت نہیں کرے گا۔ یہ تمام حقائق ثابت کرتے ہیں کہ اب مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کو اپنے اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کے لئے بہت سے چیلنج درپیش ہیں اور انہی عوامل کے باعث اب سعودی شاہی خاندان ایسے ممالک سے بھی حمایت چاہتا ہے، جن کے ساتھ ماضی میں اس کے تعلقات بہت زیادہ مثالی نہیں رہے۔ جیسے روس، چین اور بھارت کے ساتھ سعودی عرب اپنے تعلقات بہتر بنا رہا ہے۔ ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ سعودی عرب اپنے پرانے اور عسکری اعتبار سے مضبوط حلیف پاکستان سے رجوع نہ کرے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال انتہائی خراب ہے، ایسے میں 6 ارب ڈالرز کا پیکیج کوئی معمولی امداد نہیں، مگر ایسی امداد کے عوض اگر پاکستان سعودی عرب کی شرائط مانے گا تو پاکستان کو ایسے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے، جن کی تلافی ممکن نہیں ہو گی۔ مشرق وسطیٰ میں ایران (شیعہ) اور سعودی عرب (سلفی) اپنے اثروروسوخ میں اضافے کے لئے آگ اور بارود کا جو کھیل کھیل رہے ہیں، پاکستان کو اس کے شعلوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاہیے۔

ان حالا ت میں جب ایک طرف پاکستان پہلے ہی اپنے حکمرانوں کی پالیسی کے باعث دہشت گردی کا شکار رہا ہے، ایسے میں پرائی جنگوں میں کسی بھی طرح کی شرکت مزید نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستانی حکمران طبقات کا تعلق چونکہ ہمیشہ سے فوجی جرنیلوں یا تن آسان جاگیرداروں سے رہا ہے، اس لئے ان حکمرانوں نے اپنے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے، معیشت کو مستحکم کرنے، جدید معاشی، زرعی اصلاحات کرنے کی بجائے شروع سے ہی عالمی حالات اور اپنی اہم جغرافیائی پوزیشن کا سہارا لے کر بیرونی امداد اور قرضوں پر ہی انحصار کیا۔ 1950ء کی دہائی سے ہی اس وقت کے حکمرانوں نے ملک میں حقیقی معاشی، سیاسی اور سماجی اصلاحات کرکے اسے اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی بجائے Rent Outکی پالیسی اختیار کی، تاکہ اپنے وسائل خود پیدا کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ امداد پر ہی انحصار کیا جائے۔

اس حوالے سے پاکستان کے حکمرانوں کی سوچ کیا تھی، اس کا اندازہ ہمیں ڈینس ککس کی کتاب۔۔۔ The United States and Pakistan, 1947-2000(Disenchanted Allies) پڑھ کر ہوتا ہے، جب 1954ء میں وزیر دفاع بننے کے بعد ایوب خان امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکہ نے پاکستان کے آرمی چیف کے لئے عسکری نوعیت کے کئی اہم پروگرام ترتیب دئیے ہوئے تھے، مگر ڈینس ککس کے الفاظ ہیں:

Ayub stormed into the office of assistant Secretary of State Henry Byroade and said:: For Christ's sake, I did not come here to look at barracks.Our army can be your army if you want us.But let's make a decision.

یعنی ایوب خان امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ہنری بائیروڈ کے آفس گئے اور انہیں کہا کہ ’’میں یہاں پر بیرکس کا معائنہ کرنے نہیں آیا، اگر آپ چاہیں تو ہماری (پاکستان) فوج آپ کی فوج ہوسکتی ہے، لیکن ہمیں اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا‘‘۔

اسی سوچ کے پیش نظر دیگر مراعات کے علاوہ اپنے اڈے تک امریکہ کو دے دئیے گئے۔ حسین حقا نی نے اپنی کتاب۔۔۔ Magnificent Delusions ۔۔۔ میں تاریخی مواد اور ثبوتوں سے واضح کیا ہے کہ 1950ء، 1960ء، 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں پاکستان کے حکمرانوں نے سرد جنگ کے دوران امریکہ کی خدمت گزاری کرکے اربوں ڈالرز کی امداد حاصل کی۔ 9/11کے بعد ایک مرتبہ پھر عالمی صورت حال اور اپنے جغرافیہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں کی امداد ہتھیائی گئی، اس امداد کا بڑا حصہ اشرافیہ خود ہی ہڑپ کرتی رہی اور عام پاکستانی تک اس کا عشر عشیر بھی نہ پہنچا۔دنیا کے تقریباً تمام ماہرین معاشیات کا اس امر پر اتفاق ہے کہ قرضوں، گرانٹس، ڈونیشن، یا آئی ایم ایف کی قسطوں سے کسی ملک کی معیشت بہتر نہیں ہوسکتی۔ وزیر اعظم عمران خان ہمیشہ سے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر نے کا سیاسی نعرہ لگاتے آئے ہیں۔

عمران خان اور تحریک انصاف 1996ء سے مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ پاکستان میں امیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، رئیل اسٹیٹ کا کام کرنے والے ارب پتیوں پر صحیح طرح سے ٹیکس وصول کرنے کے لئے اصلاحات متعارف کروائی جائیں۔ کرپشن کی مد میں اربوں روپے کا ہونے والا ضیاع روکا جائے، ناجائز ذرائع سے کمائے گئے، سوئزرلینڈ اور یورپ کے بینکوں میں پڑے ہوئے پاکستان کے اربوں ڈالرز کو واپس لایا جائے۔ اب تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئے 2 ماہ سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، ظاہر ہے کہ دو ماہ کے عرصے میں کسی حکومت کے بارے کوئی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا، مگر اب تک کی کارکردگی دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت 22 سال سے کئے گئے اپنے یہ دعوے پوری کرتی نظر نہیں آرہی، اگر حقیقت میں ’’ نیا پاکستان‘‘ بنانے کے لئے پرانے اور خستہ حال ڈھانچے پر انحصار نہ کیا جاتا تو پاکستان کو مغرب یا عرب ممالک کی امداد کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ ہی بار بار پاکستان کی عزت نفس مجروح ہوتی۔

مزید : رائے /کالم