آزادی اظہار کے دعویداروں کے رخسار پرزناٹے دار تھپڑ

آزادی اظہار کے دعویداروں کے رخسار پرزناٹے دار تھپڑ
آزادی اظہار کے دعویداروں کے رخسار پرزناٹے دار تھپڑ

  

یورپی عدالتِ انصاف کے سات رکنی بنچ نے توہین رسالتؐ پر آسٹریا کی عدالت سے سزا پانے والی عورت کی اپیل خارج کر دی اور سزا کو برقرار رکھا۔ بنچ کے تمام ججوں نے قرار دیا کہ توہین رسالتؐ آزادی ء اظہار کا معاملہ نہیں، ایسی کوئی آزادی بنیادی حق نہیں سمجھی جا سکتی، جس سے دنیائے عالم کا امن تباہ ہو جائے۔ توہین پیغمبر اسلام کی جسارت کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کر سکتی ہے۔ اس لئے کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ایسا کوئی عمل کرے۔آزادی ء اظہار کو توہین رسالتؐ سے جوڑنا کسی طور مناسب نہیں، اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسٹابرگ فرانس میں قائم اس عدالت کے فیصلے نے یورپ کی اس دلیل کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ آزادیء اظہار سب پر مقدم ہے اور اس کی بنیاد پر الہامی پیغمبروں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یورپی عدالت کے اس فیصلے نے سارے ابہام ختم کر دیئے ہیں۔2011ء میں آسٹریا کی عدالت کے جج نے بھی اپنے فیصلے میں یہی لکھا تھا کہ ملزمہ نے ایسا کام کیا ہے جو آزادی ء اظہارکے زمرے میں نہیں آتا۔ اس نے دنیا کے آخری پیغمبرؐ کی توہین کا ارتکاب کیا ہے، جس سے کروڑوں افراد کے جذبات مجروح ہوئے ہیں جو آزادی ء اظہار کی بنیادی روح کے خلاف عمل ہے۔ اس فیصلے کو ملزمہ نے چیلنج کیا تھا اور اپیل یورپی عدالت انصاف میں کی تھی۔ عدالت نے طویل سماعت کے بعد ملزمہ کے اس موقف کو رد کر دیا کہ اس نے آزادی رائے کا حق استعمال کرتے ہوئے یہ سب کچھ کیا، عدالت کے تمام ججوں نے قرار دیا کہ مہذب دنیا میں ایسی کسی آزادی ء اظہار کی کوئی گنجائش نہیں ،جس میں دنیا میں بھیجے گئے آخری نبیؐ کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ مقامِ شکر ہے کہ خود یورپ کے اندر سے حق سچ کی ایک آواز اٹھی ہے۔ وہ یورپ جو خود ساختہ آزادیء اظہار کے نام پر ایک بے لگام آزادی کا خواہاں تھا اور جس کی مذموم حرکتوں کی وجہ سے دنیا تہذیبوں کے تصادم کی طرف جاتی دکھائی دیتی تھی۔

اس فیصلے کے بعد ڈچ حکومت کو بھی عقل آ جانی چاہیے جو آزادی ء اظہار کی آڑ لے کر کبھی گستاخانہ خاکوں اور کبھی گستاخانہ تحریری مواد کو سپورٹ کرتی ہے۔ ابھی کل ہی ایک ڈچ رکن پارلیمنٹ نے پھر گستاخانہ ٹویٹ کیا ہے، جس پر ہالینڈ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا، اس سے پہلے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش پر پوری دنیا میں شدید احتجاج ہوا تھا، وزیراعظم عمران خان نے باقاعدہ اس پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ہالینڈ حکومت پرزور دیا تھا،جس کے بعد یہ نمائش منسوخ کر دی گئی تھی۔ یورپ جو خود کو بہت قانون پسند اور مہذب کہتا ہے اب اسے یورپی عدالت کا فیصلہ بھی تسلیم کرنا چاہیے، جس میں توہین مذہب اور توہین رسالت کو آزادی ء اظہار سے نہ صرف علیحدہ کر دیا گیا ہے، بلکہ اس کی ضد بھی قرار دیا ہے۔ غور کیا جائے تو مغرب میں توہین رسالت کے واقعات صرف سستی شہرت حاصل کرنے کی ایک گھٹیا کوشش ہوتے ہیں۔ راتوں رات مقبول اور مشہور ہونے کی مذموم کوشش کرنے والے ایسا قدم اٹھاتے ہیں۔ اب یہ ان حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں پر نظر رکھیں، انہیں روکیں، مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ سکینڈے نیوئین ممالک میں خاص طور پر اس رجحان کو سپورٹ کیا جاتا ہے، وہاں کی حکومتیں اتنا بھی ادراک نہیں رکھتیں کہ اُن کے چھوٹے چھوٹے ممالک میں جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو پوری دنیا میں اضطراب و بے چینی پھیل جاتی ہے۔ یہ ممالک شاید دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اُن کے ہاں بھرپور آزادی اظہار ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آزادی اظہار بھی حدود و قیود کے بغیر بے معنی ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے انہوں نے ہم جنس پرستی، آزادی اختلاط اور بغیر شادی کے بچے پیدا کرنے کی چھوٹ آزادی کے نام پر دے رکھی ہے، اسی طرح دنیا کے آخری پیغمبرؐ کے بارے میں منفی اظہار خیال بھی اسی آزادی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ اتنی بڑی اور سنگین غلط فہمی ہے جو دنیا کو تباہ کرسکتی ہے۔ یورپی عدالت نے اس نکتے کو ہی پکڑا ہے، فرد کے ذاتی اعمال اگر اُس تک ہی رہتے ہیں تو وہ جو چاہے کرے، مگر جب اُس کے اعمال دوسروں کے لئے تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں تو امن کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں، جس کی آزادی دینے کا مطلب ہے کہ دنیا سے امن کو رخصت کردیا جائے۔

ہمارے ایک دوست طحہٰ قریشی ممبر آف برٹش امپائر، لندن میں عرصہ دراز سے بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے وہاں ایک تنظیم ’’فورم فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ‘‘ کے نام سے بنا رکھی ہے، جس کے پلیٹ فارم سے وہ اہل مغرب کو یہ پیغام دیتے رہتے ہیں کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے بغیر دنیا کا امن قائم نہیں ہوسکتا، وہ خاص طور پر برطانیہ کی نئی نسل کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں، جسے انتہا پسند قوتیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں، وہ مغرب میں پائے جانے والے اس تاثر کو دور کرنے کے لئے کہ اسلام انتہا پسندی کو جنم دیتا ہے، پاکستان اور دنیا بھر سے مسلم سکالرز کوبلاکر ممبران پارلیمنٹ اور برطانوی تھنک ٹینک سے اُن کا مکالمہ کراتے ہیں، تاکہ اسلام کے بارے میں غلط تاثر کو زائل کیا جاسکے۔ اُن کا یہ خیال ہے کہ توہینِ رسالتؐ کی جو مذموم کوششیں کی جاتی ہیں، وہ اسلام کے بارے میں اسی غلط پروپیگنڈے کا نتیجہ ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یورپی عدالت کے اس فیصلے سے طحہٰ قریشی جیسے اسلام کے حقیقی مبلغین کو مدد ملے گی اور وہ اُس فرق کو جو عدالت نے آزادی اظہار کے حوالے سے اپنے فیصلے میں بیان کیا ہے، اب زیادہ صراحت کے ساتھ بیان کرسکیں گے۔ اصل میں مغرب نے آزادی اظہار کے نام پر اپنی ہر شے کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے، مغرب کے پوپ ہوںیا پادری یسوع مسیح کی تعلیمات سے روگردانی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ جنسی بے راہ روی اور اخلاقی اقدار کے جنازے آئے روز وہاں اُٹھتے ہیں، مذہب کی حرمت اور اُس کی حدود و قیود کو قصۂ پارینہ بنا دیا گیا ہے۔ ایسے گم کردہ راہ لوگ اسلام کے بارے میں بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اس سے مسلمانوں کا تعلق واجبی سا ہے۔ وہ شانِ رسالتؐ میں گستاخی کو ایک معمولی بات سمجھتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں کے لئے یہ زندگی و موت سے بھی زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ وہ کیا جانیں کہ حضرت محمدﷺ کی حرمت پر کٹ مرنا ہر مسلمان کے ایمان کا جزو لازم ہے۔ وہ اپنے تئیں گھٹیا سوچ کا مظاہرہ کرکے بغضِ اسلام میں ایسی حرکت کرتے ہیں اور پھر مسلمانوں کے اضطراب کا تماشا دیکھتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ اس طرح وہ درحقیقت آگ سے کھیل رہے ہوتے ہیں اور پھر اُن کی حکومتوں کا جاہلانہ رویہ، جو دنیا کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ وہ کتنی آزادی اظہار کی قائل ہیں، ایسی حرکتوں کو روکنے کی بجائے، اُن کی بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ایسی سوچ رکھنے والی حکومتوں کے منہ پر بھی یورپی عدالتِ انصاف کا فیصلہ ایک طمانچہ ہے۔ آزادی اظہار کی منفی تعریف کے ذریعے وہ دنیا میں ہم آہنگی اور امن قائم نہیں ہونے دے رہیں۔

یہود و نصاریٰ کا اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں بھی اُسی قسم کا ابہام چاہتے ہیں، جیسے اُن کے مذاہب کی نسبت پیدا ہوچکا ہے، مگر یہاں تو قرآن سینوں میں محفوظ ہے اور پیغمبر اسلامؐ کی محبت سینوں میں دل بن کر دھڑک رہی ہے۔ قرآن مجید کی ایک زیر زبر بھی تبدیل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی حرمتِ رسولؐ پررتی بھر آنچ بھی مسلمانوں کو گوارا ہوسکتی ہے، اب اس صورت حال میں انتہا پسند مغربی جنونیوں کو صرف یہی راہ نظر آتی ہے کہ توہین رسالتؐ کا کوئی حربہ آزمایا جائے، ایسے جنونیوں کو اِن شرپسندانہ حرکتوں سے روکنا اُن کے ملکوں کی ذمہ داری ہے، مگر آزادی اظہار کا لبادہ اوڑھ کر وہ پہلو تہی کرتی ہیں۔ انہیں ایسے واقعات سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا، دو روز پہلے ڈچ رکن پارلیمنٹ نے جو گستاخانہ ٹویٹ کیا ہے اور جس پر ہالینڈ کے سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض ممالک میں حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، بلکہ حکومتی شخصیات خود اُن میں ملوث ہوتی ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ یورپ کی ایک بڑی عدالت کی طرف سے جو فیصلہ کیا گیا ہے، اسے یورپ کے وہ ممالک خاص طور پر اہمیت دیں گے، جہاں توہین مذہب و رسالت کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسے واقعات کو آزادی اظہار کا جامہ نہیں پہنائیں، بلکہ اُن کے مرتکب افراد پر اُسی طرح قانونی گرفت کریں گے، جیسی آسٹریا کی حکومت نے اس عورت پر کی، جسے یورپی عدالت نے انصاف سے بری کرنے کی بجائے سزا کا مستحق قرار دیا۔

مزید : رائے /کالم