پنجاب بینک کے منافع میں 68فیصدکا شاندار اضافہ

پنجاب بینک کے منافع میں 68فیصدکا شاندار اضافہ

لاہور(پ ر) دی بینک آف پنجاب کے بورڈ آف ڈائیریکڑز کا اجلاس26 اکتوبر2018 کو منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں سال 2018 کے پہلے نو ماہ کے مالیاتی حسابات کی منظوری دی گئی۔مذکورہ مدت کے دوران بینک کی آمدن میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا اور بینک ، سٹیٹ بینک آف پاکستان کی متعین کردہ کیپیٹل اور پرویژن کی مطلوبہ سطح سے مطابقت رکھتا ہے۔ بورڈ نے انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا جس کی بدولت سال 2018 کے پہلے نو ماہ کے دوران قبل از ٹیکس منافع میں گذشتہ سال کی اسی مدت کی نسبت 68فیصد کا اضافہ ہوا۔موئثر مارکیٹینگ، کاروباری حجم میں پھیلاؤ اور اثاثہ جات میں بہتری کی بدولت سال2018 کے پہلے نو ماہ کے دوران بینک کا نیٹ انٹر سٹ مارجن قابلِ ذکر اضافہ کے بعد 14.1 ارب روپے تک پہنچ گیا جو کہ گذشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 11.0 ارب روپے تھا۔

بینک کی نان انٹرسٹ آمدن 2.9 ارب روپے رہی۔ لہذا بینک کا قبل از ٹیکس منافع 68% تک شاندار اضافے کے ساتھ 8.9 ارب روپے تک پہنچ گیا جو کہ گذشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 5.3 ارب روپے تھا۔ بینک کی فی حصص آمدن 2.06 روپے رہی۔

30 ستمبر2018 کو بینک کے ڈپازٹس 568.3ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے جوکہ 31دسمبر2017 کو556.3 ارب روپے تھے اور بینک کے اثاثہ جات بڑھ کر663.0 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ اسی طرح بینک کی سرمایہ کاری اور قرضہ جات باالترتیب 202.5 ارب روپے اور416.9ارب روپے رہے۔ بینک کی ٹیئرون ایکویٹی بہتر ہو کر32.5ارب روپے ہو گئی۔ 30 ستمبر2018 کو بینک کی کیپٹل ایڈیکویسی ریشو(CAR) 13.29% رہی، لہذا بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان کی متعین کردہCAR کی مطلوبہ سطح حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے بینک کو طویل مدت ریٹنگ "AA" دی ہے جبکہ مختصر مدت کے لئے "A1+" کی ریٹنگ بلند ترین سطح پر ہے۔ اس وقت بینک کا ملک گیر نیٹ ورک 552آن لائن برانچز بشمول 70 اسلامک بینکنگ برانچز پر مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں بینک اپنے 479 ATM نیٹ ورک کے ذریعے اپنے صارفین کو 24/7 بینکاری کی سہولیات فراہم کررہا ہے ۔

مزید : کامرس