سول اور فوج کلیدی عہدوں سے تمام قادیانیوں کو ہ ہٹایا جائے ، علمائے کرام

سول اور فوج کلیدی عہدوں سے تمام قادیانیوں کو ہ ہٹایا جائے ، علمائے کرام

چناب نگر( نمائندہ پاکستا ن ،نامہ نگار)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملکی سلامتی کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور دینی تعلیمات و اسلامی اقدار اور علماء کرام کو دیوار سے لگانے کی سازشیں امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ امتناع قادیانیت ایکٹ کی روشنی میں قادیانیوں کو اسلامی شعائر، کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کے استعمال سے منع کیا جائے۔ جب تک قادیانی کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اس وقت تک ملک میں امن قائم ہونا ناممکن ہے۔ لہٰذا سول اور فوج کے تمام کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ شرکاء کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ قادیانی تخریب کا ر ادارے اور عسکریت پسند تنظیمیں خدام الاحمدیہ ، انصار اللہ ، لجنہ اماء اللہ اور تنظیم اطفال الاحمدیہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد و حافظ ناصرالدین خاکوانی، صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد، میاں مسعود احمد دین پوری، مولانا سید جاوید حسین شاہ فیصل آباد نے کی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت برصغیر کا پیچیدہ مسئلہ ہے۔ فتنہ قادیانیت کو عالمی استعمار کی مکمل حمایت حاصل رہی ہے۔ آج بھی عقیدہ ختم نبوت کے لئے امت کے نوجوان اپنی جانوں پر کھیلنے کے لئے تیار ہیں۔ مولانا شاہ اویس نورانی نے کہا کہ ختم نبوت کا دشمن اس تاک میں بیٹھا کہ وہ کس طرح اسلامی شعائر اور ہمارے عقائد پر حملہ آور ہو ،میں مجاہدین ختم نبوت کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے تحفظ ناموس رسالت کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا۔ ساجد میرنے کہا کہ قوانین ختم نبوت قانون توہین رسالت کے خلاف سازشیں قادیانی و استعماری ایجنڈا ہے۔ قادیانیت کے متعلق غیر مسلم اقلیت کے قوانین کو ختم کرنے والوں کی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے اور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ضیاء اﷲ شاہ بخاری،مولانا بشیر احمد شاد،مولانا امجد خان،عزیز الرحمن جالندھری، کفیل شاہ بخاری، مولانا توصیف احمد، مولانا طیب فاروقی، مولانا عبدالرزاق مجاہد اوردیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے تحفظ کے ساتھ ملک کے دفاع کا فریضہ بھی ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے۔ ہمیں ہر حال میں اسلام کا علم اور پاکستان کا پرچم سر بلند رکھنا ہے۔

علمائے کرام

مزید : صفحہ آخر