ملک لوٹنے والوں کا کڑا احتساب ہوگا ،محمود جان

ملک لوٹنے والوں کا کڑا احتساب ہوگا ،محمود جان

پشاور( سٹاف رپورٹر)ڈپٹی سپیکر خیبرپختونخوااسمبلی محمود جان نے کہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں کا کڑا احتساب ہوگااور لوٹی ہوئی دولت واپس ملکی خزانے میں جمع کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا عوام سے وعدہ ہے کہ تمام ملکی اثاثوں کانہ صرف تحفظ کیا جائے گا بلکہ اسے عوامی مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے رانڑاچائلڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کی دوسری سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جبکہ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر آئی ٹی کامران بنگش کے علاوہ اراکین اسمبلی ارباب وسیم حیات ،عائشہ بانو ،سمیرہ شمس ،عائشہ نعیم ،شگفتہ ملک،مدیحہ نثار ،روی کمار اور سی او فاؤنڈیشن مہوش علی خان سمیت دیگر منتظمین بھی موجودتھے ۔ڈپٹی سپیکر محمودجان نے کہا کہ گذشتہ ادوار میں ملک کو جیسے لوٹا گیا اس کی مثال نہیں ملتی جس کی بناپر ماضی کی کرپشن کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑرہا ہے انہوں نے مذکورہ فاؤنڈیشن کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے سٹریٹ چلڈرن کو تعلیم کے حصول کی طر ف مائل کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا اور غریب بچوں کو حصول تعلیم کے ہمراہ مالی مدد بھی فراہم کی ۔ڈپٹی سپیکرنے اس ضمن میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں تقریباً32ہزار اساتذہ این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کئے گئے لیکن اس میں کوئی سفارش نہیں کی گئی تاکہ تعلیم کے شعبے کو مزید فعال کرکے عوام کو بہتر تعلیم دی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو اعلیٰ سطح پر لایا جائے تاکہ عوام بچوں کو متذکرہ اداروں میں داخل کرنے میں فخر محسوس کریں ۔اس موقع پر وزیر اعلی کے مشیر آئی ٹی کامران بنگش نے خطا ب کرتے ہوئے ٹاؤن تھری ناظم کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے اپنے دفترکے احاطے میں فاؤنڈیشن کے سکول کیلئے جگہ فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے قوم کے معماروں کیلئے امید کی کرن ہیں۔لہٰذا حکومت ایسے اداروں ککی رجسٹریشن ودیگر امور میں آسانی پیداکرنے کی بھر پور کوشش کرے گی۔انہوں نے یقین دلایاکہ وہ آئی ٹی کی جانب سے سکول طلبہ واساتذہ کی تربیت کیلئے انسٹرکٹر بھیجیں گے تاکہ جدیدعلمی تربیت کو فروغ دیا جاسکے ۔قبل ازیں سی او مہوش علی خان نے فاونڈیشن کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی اور ان مشکل حالات کا ذکر کیا جس میں ادارے نے کام کی ابتداء کی انہوں نے ایسے طلبہ بھی متعارف کروائے جو ماضی میں سٹریٹ چلڈرن تھے لیکن موجودہ وقت میں فاؤنڈیشن کے تعاون کی بدولت انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر