کسی پاکستانی کو خلا میں بھیجنے کا اعلان خوش آئند ہے،خلائی سائنسدان

کسی پاکستانی کو خلا میں بھیجنے کا اعلان خوش آئند ہے،خلائی سائنسدان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پاکستان کی جانب سے 2022تک خلاء میں پہلے پاکستانی کو بھیجنے کے اعلان پر سپیس سائنسدانوں نے پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے انتہائی اہم قرار دے دیا۔ماہرین کے مطابق اس سے ٹیکنالوجی اور اسپیس پروگرام کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ سپیس سائنسز کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر جاوید سمیع نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے پاکستانی خلاباز کو خلا میں بھیجنے کی منظوری دی ہے جس سے پہلا پاکستانی شخص فضائی تحقیقات سے متعلق کام کرنے والے چینی ادارے چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (سی ایم ایس اے)کے تعاون سے خلا میں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سی ایم ایس اے اور فضائی تحقیقات سے متعلق کام کرنے والے پاکستانی ادارے سپارکو کے درمیان معاہدہ بھی ہوچکا ہے۔ اس حوالے سے جولائی میں پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (پی آر ایس ایس) ون اور پاکستان ٹیکنالوجی ایوالیوشن سیٹلائٹ (پاک ٹیس ون اے)نامی سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔ان سیٹلائٹس سے پاکستان کو زمین کی نقشہ سازی، زراعت کی درجہ بندی اور تشخیص سمیت شہری اور دیہی منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی، قدرتی آفات کے انتظام سنبھالنے، ملک کی سماجی،اقتصادی ترقی کو بہتر بنانے اور پانی کے وسائل کے انتظام سے متعلق مدد ملے گی ۔واضح رہے کہ بھارت بھی اپنا پہلا خلابار بھیجنا کا ارادہ رکھتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر