پیسے ...مل گئے !

پیسے ...مل گئے !
پیسے ...مل گئے !

  

وزیر اعظم عمران خان ایکشن میں آچکے ہیں، انہوں نے لمبا سٹارٹ لے لیا ہے ، سامنے وکٹ پر آئی ایم ایف پیڈ کئے کھڑا ہے ، وہ سعودی عرب سے کامیاب لوٹے ہیں ، پھر ابوظہبی چلے گئے تھے، اب ملائشیا جا رہے ہیں اور اس کے بعد چین جائیں گے، ان کے پاس چار گیندیں باقی ہیں اور سعودی عرب سے واپسی پر انہوں نے آئی ایم ایف کی ایک وکٹ اڑادی ہے ، ابوظہبی والی بال ڈک ہوگئی ہے ، پیچھے دو دورے ہیں اور دو ہی وکٹیں ، ممکن ہے چین کے دورے کے بعد آئی ایم ایف کا وفد پاکستان سے قرضہ لینے کی درخواست کر رہا ہو اور پاکستان سوچ رہا ہو کہ اگلے سال دیکھیں گے!

دو دن پہلے عوام سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو خوشخبری سنائی کہ سعودی عرب نے پیکج دے دیا ہے اب آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کی ضرورت نہیں ہے لیکن لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ ایسا ہے تو وزیر خزانہ نے گیس اور بجلی کی قیمتیں کیوں بڑھادیں؟اس سے تو بہتر تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ لے لیتے تاکہ قیمتوں میں اضافے کو کوئی جواز ہوتا!

اس خطاب کے حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ اچھی بھلی تقریر فرمار رہے تھے لیکن جونہی اپوزیشن کا ذکر آیا ، لگا کہ ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہے جس طرح کبھی جنرل پرویز مشرف، جنرل ضیاء الحق اور فیلڈ مارشل ایوب خان سیاستدانوں کو ذکر کرتے ہوئے سیخ پا ہوجا یا کرتے تھے ویسے ہی ہمارے کپتان بھی غصے میں آجاتے ہیں۔

خیر سعودی عرب نے پیسے دے دیئے ہیں، سعودی عرب تیل بھی دے گا...اب ملائشیا اور چین کی باری ہے ، دونوں ممالک کے سربراہوں کی جان پر بنی ہوگی کہ پاکستان کا وزیر اعظم آرہا ہے ، ضرور کچھ دینا پڑے گا۔ یاد آیا کبھی افغانستان میں لڑنے کے عوض امریکی امداد کو جنرل ضیاء الحق نے مونگ پھلی کے دانے قرار دیا تھا!...ویسے آج کل تو لوگ ٹریفک سگنل پر بھکاری کو گاڑی کی طرف آتے دیکھ کر شیشہ چڑھا لیتے ہیں لیکن وہ پھر بھی قریب آکر یوں دھڑلے سے شیشے کو ٹھونکتا ہے جس طرح قرضہ لینے والے دروازہ اکھاڑ پھینکتے ہیں۔

سعودی عرب سے ملنے والے پیکج سے پہلے حکومت نے گیس مہنگی کردی تھی، ملائشیا جانے سے پہلے بجلی مہنگی کردی گئی ہے ، چین جانے سے پہلے پتہ نہیں کیا کیا جائے گا اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس کے بعد ابھی آئی ایم ایف کے وفد نے بھی آنا ہے۔ عوام دل تھام کر بیٹھیں۔

ویسے پاکستان قرضے اس لئے لیتاہے کہ پرانے قرضے اتار دے بلکہ بعض ایک کے نزدیک تو قرضوں کے عوض چڑھ جانے والے سود کی ادائیگی کے لئے قرضے لئے جاتے ہیں۔

اگرو زیر اعظم اس کو ہی خوشخبری قرار دیتے ہیں تو وقت دور نہیں جب لوگ سنتے ہی رونا دھونا شروع کردیا کریں گے۔ ویسے جو قرضے عمران خان لیں گے کیا اس سے ملک کے قرضوں میں اضافہ نہیں ہوگا اگر یہ قرضے محض سود کی ادائیگی کے لئے ہی لئے جا رہے ہیں تو!

سعودی پیکج پر وزیر اعظم کی تقریر یوں تو قوم کو اعتماد میں لینے کے لئے کی گئی تھی لیکن ان کی دھمکیاں سن کر لوگ خوفزدہ ہوگئے ہوں گے کہ خدا معلوم آنے والے دنوں میں کیا ہونے جا رہا ہے۔

سعودی عرب سے ملنے والے پیکج پر عوام اس قدر خوش ہیں کہ انہوں نے خوشی خوشی گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو تسلیم کرلیا ہے ، مہنگائی میں اضافے کو تسلیم کرلیا ہے کیونکہ جب وزیر اعظم خوش ہوتا ہے تو پوری قوم خوش ہوتی ہے جو اس لئے خوش ہیں کہ انہیں سعودی عرب سے پیکج مل گیا، جب یہی کچھ نواز شریف کو ملا تھا تو بھیک لگتی تھی لیکن کیا کریں کہ نواز شریف لے تو بھیک عمران خان لے تو پیکج!...وزیر خارجہ نے تو کمال ہی کردیا ، جب ان سے پوچھا گیا کہ سعودی عرب نے بغیر کوئی شرط لگائے پیکج کیسے دے دیا تو فرمانے لگے یہ مدینے والے کا کمال ہے !...وہ بھول گئے کہ سابق وزیر اعظم تو رمضان کا آخری عشرہ گزارتے ہی مدینہ میں تھے اور انہیں تو ڈیڑ ھ ارب ڈالر تحفے میں ملا تھا جو انہوں نے سرکاری خزانے میں جمع کروادیا تھااور اسلم رئیسانی کے الفاظ میں بھیک بھیک ہوتی ہے ، خواہ تحفے کی شکل میں ہو یا پیکج کی شکل میں !

جسے دفاتر میں ملازموں کو تنخواہ ملتی ہے تو ان کے چہرے پر جو اطمینان اور خوشی ہوتی ہے ویسی ہی خوشی سعودی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔تاہم انہیں ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اگر سی پیک لاکر اور سعودی عرب سے ڈیڑھ ارب ڈالر لا کر نواز شریف پر غداری کا مقدمہ قائم کیا جاسکتا تو شامت ان کی بھی آسکتی ہے ، ان پر تو ویسے بھی پرائم منسٹر سلیکٹ کا لیبل چسپاں ہوچکا ہے ...خیر کل کی کل دیکھیں ، آج تو خوشیاں منائی جائیں کیونکہ پیسے ...مل گئے!

مزید : رائے /کالم