طاقتور،کرپٹ،مافیا کونہیں چھوڑیں گے،افسر اپنی کارکردگی بہتر بنائیں،حسین اصغر

طاقتور،کرپٹ،مافیا کونہیں چھوڑیں گے،افسر اپنی کارکردگی بہتر بنائیں،حسین ...

ملتان(وقائع نگار) ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب حسین اصغر نے ریجنل انٹی کرپشن ملتان دفتر کا دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے انٹی کرپشن ملتان کے افسروں سے میٹنگ کی۔(بقیہ نمبر50صفحہ7پر )

ڈائریکٹر انٹی کرپشن ملتان امجد شعیب ترین نے ریجن کی کارکردگی بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈی جی انٹی کرپشن نے کہا ہے کہ انٹی کرپشن کا ادارہ پہلے اپنا کام انجام دینے میں ناکام ہو رہا تھاچھوٹی چھوٹی چیزوں میں پھنسا ہوا تھا،ہمارا مقصد حکومت کے خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہے، خاص کر کنٹیریکٹرز، سرکاری املاک پر قابض افراد یا خراب سیوریج یا سڑک بنانے والے کے خلاف زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔اس سے قبل چھوٹے ملازمین سپاہی اور پٹواری کے خلاف رشوت لینے کے زیادہ کیسز تھے۔ اب ہم نے اپنی توجہ چھوٹے کیسز سے ہٹا کر بڑے کیسز کی طرف کی ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹیکنیکل افسران غلط کاموں میں لگے ہوئے تھے، اور دو ٹیکنیکل افسران کو غلط رپورٹس پر شوکاز دیا گیا ہے۔جلد از جلد نئے اور ایماندار ٹیکنیکل افسران کو لا رہے ہیں،جو ایماندری سے اپنا کام سرانجام دیں گے۔کچھ نہ کام کرنے والے افسران کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ ہر اضلاع کے چھوٹے کیسز کو اب ڈپٹی کمشنرز کو بھجوا رہے ہیں، واضح رہے کہ یہ وہ کیسز ہیں جن کے ثبوت ذرا کم ہوتے ہیں صرف انہیں ڈپٹی کمشنرز کو بھجوایا جاتا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹریز اب ڈائریکٹر انٹی کرپشن ایکس آفیشو کے طور پر کام کر رہے ہیں، ڈپٹی کمشنرز اب ڈپٹی ڈائریکٹر انٹی کرپشن ایکس آفیشو کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ انٹی کرپشن میں افسران کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،زیادہ تر پولیس، پی ایم ایس اور پی اے ایس سے افسران انٹی کرپشن میں آتے ہیں،کوئی یہ نہ سمجھے کہ افسران کی کمی بہانہ بنا کر کام نہیں کریں گے۔ کام ہرصورت کرنا پڑے گا۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ کوئی جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو قانون کی گرفت سے بالاتر نہیں ہے، جتنا بڑا سرکاری افسر ہو، با اثر آدمی ہو یا کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر