میونسپل کمیٹی مظفر گڑھ ، اراضی سکینڈل ، رقم کی تقسیم پر افسروں ، ملازمین میں لڑائی ، تاجروں کو بھی دھمکیاں

میونسپل کمیٹی مظفر گڑھ ، اراضی سکینڈل ، رقم کی تقسیم پر افسروں ، ملازمین میں ...

مظفرگڑھ(تحصیل رپورٹر)30کروڑ روپے کی قیمتی اراضی کی بندربانٹ کرنے والے میونسپل کمیٹی مظفرگڑھ کے عہدیداروں اور افسروں میں رقم کی تقسیم کے معاملے پر پھوٹ پڑگئی.انٹی کرپشن کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد دکانوں کی نیلامی میں پول کے ذریعے حاصل کی جانے والی (بقیہ نمبر51صفحہ7پر )

رقم چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سمیٹ کر نکل گئے،دوسری جانب دکانیں واپس کرنے اور پول کی رقم کا تقاضا کرنے والے تاجروں کو دھمکیاں دی جانے لگیں تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی مظفرگڑھ کی جانب سے چند روز قبل شہر کے کمرشل حب میں واقع واٹر پیوریفکیشن پلانٹ کی پر کنگ کی قیمتی جگہ کو نام نہاد نیلامی کے ذریعے من پسند افراد میں اونے پونے داموں بانٹ دیا گیا تھا،اینٹی کرپشن حکام نے بندر بانٹ کا نوٹس لیا تو میونسپل کمیٹی مظفرگڑھ کے عہدیداروں اور آفیسران میں رقم کی تقسیم کے معاملے پر پھوٹ پڑگئی،ذرائع کے مطابق نیلامی کے موقع پر پول کے ذریعے 90 لاکھ روپے کی رقم حاصل کی گئی تھی،90 لاکھ روپے کی رقم میں سے 10 لاکھ روپے کی رقم معاملے پر شور مچانے والوں میں بانٹنے کے علاوہ میڈیا کوریج اور مختلف اخراجات کی مد میں خرچ کردی گئی جبکہ 80 لاکھ روپے کی خطیر رقم 14ویں سکیل کے چیف آفیسر زوہیب حمید قریشی سمیٹ کر نکل لیے،میونسپل کمیٹی کے ذرائع کے مطابق تمام رقم چیف آفیسر کے سمیٹنے کے بعد میونسپل کمیٹی مظفرگڑھ کے چیئرمین،ان کے منظور نظر افراد اور معاملے میں پیش پیش کونسلرز بے چینی کا شکار ہیں،ذرائع کیمطابق 30کروڑ کی زمین پر دکانوں کی بندربانٹ کے حوالے سے ہاؤس کے فرضی اجلاس منعقد کیے گئے اور میونسپل کمیٹی کے کرپٹ آفیسران نے فرضی اجلاس کی کاروائیوں پر چیئرمین سے زبردستی دستخط بھی کرائے،14 ویں سکیل کے چیف آفیسر زوہیب حمید قریشی سے جب میونسپل کمیٹی کے عہدے داروں نے پول کے بقیہ 80 لاکھ روپے کی رقم میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کیا تو 14ویں سکیل والے آفیسر نے یہ کہہ کر سفید جھنڈی دکھا دی کہ جب تک انٹی کرپشن کی جانب سے شروع کی جانے والی انکوائری کا معاملہ ختم نہیں ہوسکتا تب تک وہ کسی میں پول کی رقم تقسیم نہیں کریں گے،ادھر بلدیاتی نظام کے ممکنہ خاتمے اور انٹی کرپشن کی جانب سے غضب کرپشن کے معاملے کا نوٹس لیے جانے کے بعد سے 14ویں سکیل کے چیف آفیسر کی جانب سے تبادلے کی کوششیں تاحال جاری ہیں مگر تاحال انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی.دوسری ڈی جی انٹی کرپشن کے نوٹس لینے کے بعد نیلامی میں دکانیں حاصل کرکے واپس کرنے کا ارادہ ظاہر کرنے والے من پسند افراد نے پول میں رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انھیں دھمکایا جارہا ہے کہ وہ رقم کا تقاضا کرنے سے باز رہے ہیں کیونکہ پول کی رقم خرچ ہو چکی ہے،انھیں دھمکایا گیا کہ اگر وہ رقم کا تقاضا کرنے سے باز نہ آئے تو نہ صرف انکے گھروں کے باہر شہر بھر سے جمع ہونے والی گندگی کے ڈھیر پھینکے جائیں گے بلکہ ان کے گھروں کی سیوریج لائنیں بھی بند کردی جائیں گی تب حالات کے ذمہ دار وہ خود ہونگے.

اراضی سکینڈل

مزید : ملتان صفحہ آخر