مذہبی آزادی کے فروغ سے ملکی استحکام میں اضافہ ، اقتصادی مواقع میں بہتری آئیگی ، مائیک پومپیو

مذہبی آزادی کے فروغ سے ملکی استحکام میں اضافہ ، اقتصادی مواقع میں بہتری ...

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ)جمعہ کو امریکہ میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کا دن منایا گیا اور اس موقع پر یہاں دو مختلف مقامات پر بریفنگ دیتے ہوئے امریکی وزیر کارجہ مائیک پومپیو اور مذہبی آزادی کے بارے میں امریکہ کے خصوصی مندوب سیموئیل براؤن بیک نے مذہبی آزادی کے تصور کی بزور حمایت کا اعادہ کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے بتایا کہ جمعہ کے روز بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ پر دستخط کرنے کی 20 وین برسی منائی جس کے تحت مذہبی آزادی کو ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصہ تسلیم کیا گیا تھا۔امریکہ کا موقف یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنے مخصوص مذہبی عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے اور خدا کی طرف سے دئیے جانے والے اس حق کو کوئی انسان نہیں چھین سکتا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی خارجہ پالیسی کے جو رہنما اصول متعین کئے ہیں ان میں مذہبی آزادی سمیت انسانی حقوق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اس نمائندے نے اس سلسلے میں واشنگٹن ایریا کے سرکردہ پاکستانی امام ڈاکٹر ظفر اقبال نوری سے رابطہ کرکے ان کا موقف معلوم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ریاست اور حکومت امریکہ سمیت دنیا بھر میں تمام مذاہب اور عقائد سے وابستہ افراد اور اداروں کو اپنے عقائد کے مطابق پریکٹس کرنے کی آزادی پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر نوری نے بتایا کہ وہ پوری ذمہ داری سے گواہی دے سکتے ہیں کہ امریکہ میں اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے لئے کسی شہری کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جس اسلامی سنٹر سے وہ وابستہ ہیں، اسے اپنے فرائض ادا کرنے میں نہ صرف کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ ریاستی، وفاقی اور مقامی تمام سطحوں پر انہیں پوری امداد اور سپورٹ میسر ہے۔ اس صورت حال پر ان کے سمیت تمام مقامی مذہبی راہنما بہت مطمئن ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے بتایا کہ جمعہ کے روز بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ پر دستخط کرنے کی 20 وین برسی منائی جس کے تحت مذہبی آزادی کو ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصہ تسلیم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی کا تحفظ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے جس کا وعدہ امریکی آئین میں کیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر مذہبی آزادی فروغ پائے گی تو ملکی استحکام میں اضافہ ہوگا اوراقتصادی مواقع میں بھی بہتری آئے گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ ایکٹ پر دستخط ہونے کے بعد اس سلسلے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے چیلنج بہت ہیں، لیکن ایسے بھی نہیں کہ ان پر قابو نہ پایا جاسکے۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی کیلئے امریکہ کے خصوصی مندوب سیموئیل براؤن بیک نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ بدقسمتی سے دنیا کی 80 فیصد آبادی مذہبی اعتبار سے پابندیوں کا شکار ہیں۔ اس لئے امریکہ کی طرف سے ہر مقام پر ایسے اقدامات کی حمایت کی جا رہی ہے جس سے یہ پابندیاں ختم ہوں اور لوگوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہوسکے۔

ظفر اقبال نوری

مزید : صفحہ اول