نواز، زرداری وریاں ختم کرانے اور اے پی سی کی کامیابی کیلئے فضل الرحمن متحرک

نواز، زرداری وریاں ختم کرانے اور اے پی سی کی کامیابی کیلئے فضل الرحمن متحرک

لاہور( جاوید اقبال ،شہزاد ملک،ایجوکیشن رپورٹر،آئی این پی ) اے پی سی میں نواز شریف اور آصف زرداری کی شرکت کو یقینی بنانے اور دونوں رہنماؤں میں ملاقات کروانے کے لئے جے یو آئی کے امیر نے کوششیں تیز کردیں،اپوزیشن کی دوریاں کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن سے رابطہ ہے جبکہ آصف زرداری سے بات ہوچکی،فضل الرحمن،مولانا کا نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ ، اپوزیشن کے رابطوں میں تیزی لانے پر اتفاق۔تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی اے پی سی میں نواز شریف اور آصف زرداری کی شرکت کو یقینی بنانے اور اے پی سے قبل دونوں رہنماؤں میں ملاقات کروانے کے لئے جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کوششیں تیز کردی ہیں اور وہ ایک طرف اے پی سی کو زیادہ سے زیادہ بارونق بنا کر حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی قیادت میں تحفظات دور کرواکر دونوں کو ایک پیج پر لانا چاہتے ہیں جس کے لئے انہوں نے دن رات ایک کردیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری اپنے روئیے میں نرمی لا چکے ہیں جس کی اندرونی کہانی حکومت اور نیب کو پیغام دینا ہے کہ اپوزیشن ایک ہو گئی تو دونوں کے لئے ٹینشن کا باعث بن سکتی ہے ۔ آصف علی زرداری مولانا فضل الرحمن کو یقین دہانی کرواچکے ہیں کہ اگر نواز شریف اے پی سی میں آئیں گے اور میری طرف ایک ہاتھ آگے آئیں گے تو میں دوہاتھوں سے ان کا استقبال کرنے کو تیار ہوں ۔ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ نواز شریف نے فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطے میں دبے الفاظ میں زرداری سے ملاقات اور اے پی سی میں شرکت کا اشارہ دیدیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے لئے اپنے قریبی رفقاء اور آئینی ماہرین سے مشاورت کریں گے ۔ دوسری طرف آصف علی زرداری اور نواز شریف بھی اے پی سی کو زیادہ سے زیادہ با رونق بنانے کے خواہش مند ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور نیب دونوں پر برابر دباؤ بڑھایا جائے جس کے لئے دونوں بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود سیاسی و مذہبی جماعتوں سے رابطے میں ہیں تاہم اس میں پل کا کردار مولانا فضل الرحمن ہی ادا کررہے ہیں ۔ علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ا پوزیشن کی گرفتاریاں اور پیشیاں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست ہے ، اپوزیشن کی دوریاں کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،نواز شریف گھریلو صدمے سے دوچار ہیں انہیں اے پی سی میں آنے پرآمادہ کرینگے۔ اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں کوئی اختلاف نہیں۔ جامعہ مدنیہ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ دو ماہ میں ملکی پالیسیوں میں بہت خرابیاں ہوئیں، مہنگائی ہے اور ڈکیٹرشپ کا ماحول ہے، ملک کا سیاسی منظر نامہ مشرف اور شوکت عزیز جیسے حالات کی عکاسی کر رہا ہے ،ہم اسٹیبلشمنٹ کے غلام بن کر رہ گئے ہیں، ہمیشہ سے سیاستدانوں کی کردار کشی کی گئی۔ سعودی امداد بے سودہے ، یہ رقم محض بینکوں میں ہی پڑی رہے گی ،وزیر اعظم کنٹینر کی سیاست سے ابھی تک نہیں نکل سکے ۔ سوئس بنکوں میں 200 ارب کا شور مچایا گیا اب کہتے ہیں افسانہ تھا۔ اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عطاء الرحمن، اکرم خان درانی، قاضی عصمت اللہ، مولانا امیر زمان ، سائیں عبدالقیوم ، مولانا راشد سومرو، شمس الرحمن شمسی ، مفتی ابرار احمد، مولانا عبد الوہاب مدنی، مولانا صلاح الدین ،مولانا فضل علی حقانی، مولانا فیض محمد، مولانا گل نصیب خان، مولانا شجاح الملک ،عبدالجلیل جان، مولانا حنیف الحق، مولانا سلیم اللہ قادری شریک ہوئے ۔ دریں اثنامولانا فضل الرحمن نے نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس دوران دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں میں رابطوں میں تیزی لانے پر اتفاق کیا ، مولانا فضل الرحمن نے آصف علی زرداری سے ملاقات کے بار ے میں آگاہ کیا ۔اس دوران ہونیو الی کل جماعتی کانفرنس کے حوالے سے بات چیت کی گئی ۔

اے پی سی

مزید : صفحہ اول