سرکاری دفاتر میں آتشزدگی کا راز نہ کھل سکا ، مختلف تحقیقات کئی سالوں بعد بھی نا مکمل

سرکاری دفاتر میں آتشزدگی کا راز نہ کھل سکا ، مختلف تحقیقات کئی سالوں بعد بھی ...

لا ہور( رپورٹ : یو نس باٹھ ) انویسٹی گیشن ٹیمیں مختلف اداروں میں سرکاری ریکارڈ جلنے کے واقعات کی تحقیقات کئی سال گزرنے کے باوجود آج تک مکمل نہیں کر سکیں۔ تاہم اب و زیراعظم عمران خان نے سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی اورریکارڈ ضائع ہونے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانیکا حکم دیدیا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے اس کے لیے باقاعدہ ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیدیا ہے۔ پنجاب میں پچھلے کئی برسوں میں مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے اہم دفاتر میں پراسرار انداز میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن میں مبینہ طور پر اہم سرکاری ریکارڈ ، بشمول بڑے ترقیاتی منصوبوں، زمینوں کی الاٹمنٹ اور رجسٹریشن اور ملازمتوں سے متعلق ریکارڈ جل کر راکھ ہو جاتا رہا ہے۔ لیکن کبھی بھی آگ لگنے کے ان پے در پے واقعات کا بھید کھل نہیں سکا۔ کہ آخر سرکاری عمارات میں بڑے ریکارڈ روم ہی کیوں پراسرار آگ کی نذر ہوتے رہے۔ ان آگ لگنے کے واقعات کے اصل ذمہ دار کون رہے اور فائدہ کن لوگوں کو ہوتا رہا۔ بدقسمتی سے تحقیقاتی رپورٹ بھی رسمی اور محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف رہیں۔ پنجاب حکومت کے زرائع نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے جے آئی ٹی بنانے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو دی تھی تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ اس لئے وزیراعلیٰ کا دفتر ہی بہتر ہی بتاسکتا ہے کہ کیا پیش رفت ہوئی اور کیا نہیں۔ جہاں تک میری معلومات ہے کہ آئی جی پنجاب پولیس طاہر خان کو ان کی ذمہ داری سے حالیہ دنوں میں الگ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ حکومتی پالیسی اور فیصلوں پر عمل کرنے میں ایسی سرعت اور کامیابی نہیں دکھا پا رہے تھے جیسی کہ ان سے توقع کرتے ہوئے انہیں آئی جی پنجاب مقرر کیا گیا تھا۔ ازرائع کے مطابق پنجاب بھر بالخصوص صوبائی دارالحکومت میں مختلف سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ آتشزد گی کے متعدد واقعا ت میں سینکڑوں افراد جھلسنے کے بعد لقمہ اجل بن چکے جبکہ درجنوں افراد ہسپتا لو ں میں اب بھی زیر علاج ہیں جن میں سے بیشتر مکمل معذوری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ پو لیس نے بیشتر واقعا ت کو تو محض اتفا قیہ حادثہ قرار دیاجبکہ کئی ایک واقعا ت پر مقد ما ت بھی درج کیے گئے لیکن 90فیصد سے زائد واقعا ت کی مکمل تحقیقا ت کی جا سکی اور نہ ہی کسی کی رپورٹ منظر عا م پر آئی ہے۔ البتہ بعض واقعات میں معلوم ہوا ہے کہ آگ سر کا ری ریکا رڈ ضا ئع کرنے یا انشورنس کی رقم حا صل کر نے کیلئے لگا ئی گئی۔ ۔آتشز دگی کے بڑ ے وا قعا ت میں ضلع کچہری ، رنگ محل ، شا ہ عا لمی ما رکیٹ ،مو ن ما رکیٹ، گلبر گ ، پیس ، ایل ڈ ی اے پلا زہ ، بند روڈ اور کھا ڑ ک سٹا پ شا مل ہیں۔پنجاب بھر میں مختلف سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے پنجاب حکومت نے اب باقاعدہ ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیدیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج اختر بھنگو کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا تحقیقاتی کمشن لاہور سمیت پنجاب بھر کی سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات کریگا۔ کمشن کو ہدایات دی ہیں کہ وہ گزشتہ دس سال کے دوران سرکاری دفاتر میں آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات کریں ایسے واقعات جن میں پنجاب حکومت کے مختلف منصوبہ جات کا ریکارڈ جل کر خاکستر ہوچکا ہے۔آئی جی پولیس پنجاب امجد جاوید سلیمی نے نے روزنامہ پا کستا ن سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا شہر میںآتشزدگی کے بڑھتے ہو ئے واقعات کی روک تھا م کے لیے ٹھو س حکمت عملی اپنا نے کی ضرورت ہے۔دنیا بھر کے ملکوں میں قانوناً آتشزدگی جیسے ناگہانی اور ہنگامی واقعات و حادثات کے پیش نظر قیمتی جانی و مالی نقصانات سے بچنے کیلئے تمام ممکنہ پیشگی انتظامات کئے جاتے ہیں جدید دور میں تعمیر ہونے والی عمارتوں کی ڈیزائننگ کے وقت جو بنیادی باتیں ملحوظ رکھی جاتی ہیں ان میں ناگہانی حادثات کے موقع پر لوگوں کی حفاظت کیلئے آسان راستے بنانا سرفہرست ہے تاہم پرانی آبادیوں میں متبادل انتظامات اور آسان ریسکیو آپریشن کا بندوبست ناگزیر ہے جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصان کم سے کم ہوتا ہے جبکہ اآتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ کیلئے پیشگی انتظامات نہ رکھنا بدقسمتی ہے ۔آتشزدگی کے واقعات سے بروقت نمٹنے کے لئے فائر بریگیڈ کے قانون میں نمایاں تبدیلی لانا اور محکمے کو ترقی یافتہ ملکوں کی طرح جدید ترین آلات سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آتشزدگی

مزید : صفحہ اول