تعلیمی اداروں میں نشہ آور اشیاء کی فروخت انتظامیہ اور انسداد منشیات کے اداروں نے آنکھیں موندھ لیں

تعلیمی اداروں میں نشہ آور اشیاء کی فروخت انتظامیہ اور انسداد منشیات کے ...

لاہور(حافظ عمران انور)ملک بھر کے پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں، ایک طرف مستقبل کے معماروں کی نئی نسل تیزی سے زوال پذیری کی جانب گامزن ہے تو دوسری طرف منشیات کی روک تھام کیلئے قائم ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کی بڑی پرائیویٹ اورسرکاری یونیورسٹیوں میں خفیہ طور پر ہارڈ اور سافٹ ڈرگز کا استعمال جاری ہے ،ہارڈ ڈرگز میں کرسٹل آئس ،کوکین ،حشیش ،ایف ٹی سی اور ایل ایس ڈی گولیاں جبکہ سافٹ ڈرگز میں گٹکا ،افیون، فارما سوٹیکل ڈرگزجن میں ایول ،مارفین ،ڈیزی پام سمیت سونگھنے والے نشہ آور کیمیکل شامل ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ہارڈ ڈرگز استعمال کرنیوالے افراد استعمال کے بعد 3سال تک جبکہ سافٹ ڈرگز استعمال کرنے والے استعمال کے بعد سے 7برس تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور سمیت پاکستان بھر کی غیرقانونی لیبارٹریوں میں تیار ہونے والی سافٹ ڈرگز دوسرے درجے کانشہ ہے اور جس جگہ پر یہ نشہ تیار کیا جاتا ہے وہاں اِس نشے کی ایک پڑیا ایک ہزار سے 2ہزار جبکہ اصل آئس نشے کی ایک پڑیا مارکیٹ میں 5سے 10ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سافٹ ڈرگزاستعمال کرنے والا شخص مسلسل چار روز تک جاگ سکتا ہے اسی لئے بیشتر طلباء مقابلے کے امتحانات کی تیاری کیلئے آئس نشے کا استعمال کرتے ہیں لیکن یہ فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں ۔ماہرین کے مطابق آئس نشے کی بنیاد میتھافینامن کی طرح ہے جسے وزن گھٹانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس نشے کا استعمال کرنے کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ پانی اور الکوحل میں فوری حل ہونے والی میتھافینامن سے تیارکردہ آئس نشے کا استعمال مختلف طریقوں سے کیا جا تا ہے۔ذرائع کے مطابق تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز میں رہائش پذیر طالبعلم اکثر سگریٹ کو تمباکو سے آدھا خالی کرنے کے بعد درمیان میں آئس پاؤڈر ڈال کر پیتے ہیں اس کے علاوہ انجکشن کے ذریعے بھی اسے لگایا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی لڑکیاں جو ہاسٹلز میں رہائش پذیر ہیں ان کی اکثریت بھی مختلف اقسام کے نشے کا استعمال کرتی ہیں۔ ہاسٹلز میں رہنے والی لڑکیاں سگریٹ کے علاوہ نشہ آور چیونگم کا استعمال بھی کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں فلیتو نامی چیونگم تھائی لینڈ اور یورپ سے منگوائی جاتی ہے یہ چیونگم 500 سے لے کر 1200 روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ اس کے چبانے والے طلبہ گھنٹوں اس کے اثر میں مبتلا رہتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں نشے کے استعمال کی روک تھام کرنے والے ادارے انسداد منشیات مہم کے کنسلٹنٹ سید ذوالفقار نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے بیشتر تعلیمی اداروں میں 20فیصد طلبا و طالبات سگریٹ نوشی اور شیشے کا استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے جنرل سٹورز، کینٹین،فروٹ شاپس،ہوٹلز، لانڈری اور باربر شاپس پر کا م کرنے والے ملازمین اور سکیورٹی گارڈز منشیات لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے باہر کھڑے ٹیکسی اوررکشہ چلانے والے بعض ڈرائیورزبھی یہ کام بڑی مہارت کے ساتھ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی بڑی پرائیویٹ یونیورسٹیز کے مالکان اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان بھر میں 9سموک اینڈ ڈرگ فری کیمپس بنائے ہیں جن میں 3یونیورسٹیاں ،3کالجز اور 3سکول شامل ہیں جبکہ صوبائی دارالحکومت کے پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں کو بھی ڈرگ فری بنانے کے حوالے سے کوشاں ہیں ۔

مزید : صفحہ اول