ممکنہ سموگ صورتحال ، حکومت پنجاب کے بھٹہ خشت مالکان کو 3نومبر سے بھٹے بند کرنے کے احکامات

ممکنہ سموگ صورتحال ، حکومت پنجاب کے بھٹہ خشت مالکان کو 3نومبر سے بھٹے بند ...

لاہور (اسد اقبال)پنجاب کے بیشتر علاقے ماہ نومبر کے وسط تک سموگ کی زبردست زد میں آ جائیں گے اور اس امر کا غالب امکان ہے کہ سموگ کا یہ سلسلہ دسمبر تک چلے گا ،یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس عرصے میں وزیبیلٹی صفر بھی ہو سکتی ہے تاہم حکومت پنجاب نے شہریوں کو سمو گ کے نقصانا ت سے بچانے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ گزشتہ ادوار کی نسبت ٹھوس اور زیادہ بہتر ہیں اس حوالے سے روزنامہ پاکستان کو تفصیلات بتاتے ہوئے چیف میٹرولو جسٹ محمد ریاض نے کہا کہ سموگ کا سلسلہ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی ہو گا جس میں فی الحال تاخیر ہے کیو نکہ ہواؤں میں ہونے والی تبدیلی سے موسم بہتر ہے تو دوسری جانب حکومت پنجاب کی ہدایت پرمحکمہ ماحولیات بھی سموگ سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کو بروئے کار لا رہی ہے اور کھیتوں میں فصلوں کی باقیات کو جلانے والوں کے خلاف ایکشن لیا جارہا ہے ۔دوسری جانب حکومت پنجاب نے آئندہ ماہ سموگ کی ممکنہ صورتحال کے پیش نظربھٹہ مالکان کو 3نومبر سے بھٹہ خشت بند کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے ہیں۔اور تمام بھٹہ مالکان کو کہا گیا ہے کہ رواں ہفتہ میں اپنے تمام معاملات کو مکمل کر لیں اور اینٹوں کی تیاری میں تیزی لائیں تاکہ روزمر ہ کے تعمیر ی کام نہ رک سکیں علاوہ ازیں سرکاری احکامات پر عمل نہ کر نے والے بھٹہ خشت مالکان کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔اِدھر بھٹہ خشت مالکان ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عید بٹ نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے سموگ کے لیے احتیاطی تدابیر کے نتیجے میں اینٹیں تیار کر نے والے بھٹوں کی بندش ہزاروں خاندانوں کا معاشی قتل کا باعث بنے گی جبکہ اس کاروبار سے منسلک واسطہ اور بالواسطہ لاکھوں گھروں کے چولہے بجھ جائیں گے اور متبادل انتظام نہ ہو نے کی صورت میں بے روزگاری کی شرح میں 30فیصد تک اضافہ ہو گا اس حوالے سے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر نے کو تیار ہیں لیکن بیک جنبش قلم بھٹہ خشت بند کیے جانے سے آنے والے دنوں میں جہاں اینٹیں مہنگی ہو جائیں گی وہیں تعمیرات اور ترقیاتی کام بھی رک جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سموگ کے خطرات کے پیش نظر بھٹہ خشت مالکان حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں اور گزشتہ روز ہونے والی میٹنگ کے مطابق پنجاب کے چند اضلاع کے علاوہ تمام بھٹے 3نومبر سے 31دسمبر تک بند رکھے جائیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں عید بٹ کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں تقریبا 6ہزار سے زائد بھٹے کام بند رکھے گے جس سے تعمیراتی کاموں پر منفی اثرات مرتب ہو نگے اور بھٹہ خشت مزدوروں سمیت اس صنعت سے وابستہ تعمیراتی میٹریل کا کاروبار کر نے والے اور کاریگر مزدور بے روزگار ہو جائیں گے جس سے ملکی ریونیومیں بھی کمی واقع ہو گی دوسری جانب دوسالوں کے دوران کوئلہ فروشوں نے کوئلہ کی فی ٹن قیمت میں 4ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیا ہے جس کے سدباب کے لیے حکومت کو اقدامات اٹھانے چائیے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اینٹوں کی قلت کے باعث قیمتوں میں اضافے کا بھی غالب امکان ہے ۔

سموگ؍بھٹہ مالکان

مزید : صفحہ اول