راہول گاندھی سمیت کانگریس کے سینئر رہنماگرفتا ، بعد ازاں رہا

راہول گاندھی سمیت کانگریس کے سینئر رہنماگرفتا ، بعد ازاں رہا

نئی دہلی(آن لائن) راہول گاندھی سمیت کانگرس کے سینئررہنماؤں کو حراست لینے کے بعد کچھ دیر بعد رہا کردیا گیا ۔نئی دہلی میں مودی سرکار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے۔پولیس مظاہرین پر ٹوٹ پڑی۔بھارتی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے رہنما راہول گاندھی اس وقت زیر حراست ہیں۔دہلی میں سی بی آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے باہر کانگرس رہنما احتجاج کر رہے تھے جس کے بعد راہول گاندھی سمیت کانگرس کے سینئررہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیاتاہم اب پولیس نے انہیں جانے کی اجازت دیدیان کی گرفتاری کے بعد سی بی آئی کے دفتر کے باہر کانگریس کے کارکنوں نے جمع ہوکر احتجاج شروع کردیا تھا۔۔واضح رہے دو روز قبل کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندرا مودی پر غریبوں اورکسانوں کے پیسے چرا کر اپنے دوست انیل امبانی کو فائدہ پہنچانے کا سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ مود ی ملک کے 15امیر ترین افراد کے مفادات کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہوں نے نیرومودی ، مہیول چوکسی،وجئے مالیا ،انیل امبانی کی بھی چوکیداری کی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ یوپی اے کے دورمیں رافیل طیاروں کی526 کروڑ روپے میں خریداری کی بات طے پائی تھی تاہم مودی نے سرکاری کمپنی ایچ اے ایل سے اس کنٹرکٹ کو چھین لیا اور 30 ہزار کروڑ روپے کی مبینہ رشوت خوری کے ذریعہ اپنے دوست انیل امبانی کی کمپنی کو یہ کنٹرکٹ دلوایا حالانکہ 45000کروڑ روپے کے قرض میں مبتلا امبانی کی کمپنی کو قائم ہوئے کچھ عرصہ ہی ہوا ہے جبکہ ایچ اے ایل کمپنیگزشتہ 70برسوں سے ملک کے لیے کئی طیارے بنانے کا کام کرتی آرہی ہے۔ا س کمپنی نے سکھوئی ، جیگیواراور کئی طرح کے لڑاکو طیارے فوج کے لیے تیار کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی فرانس سے 1600کروڑروپے میں یہ طیارے خرید رہے ہیں جبکہ یو پی اے نے 526 کروڑ روپے میں ان طیاروں کی فرانس سے خریداری کی بات کی تھی۔فرانس کے صدر سے مودی نے ہی مبینہ طور پرکہا تھا کہ انیل امبانی کی کمپنی کو یہ کنٹریکٹ دیا جائے اس طرح انھوں نے اپنے دوست انیل امبانی کو 30,000 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا۔

مزید : صفحہ اول