پنجاب یونیورسٹی میں زراعت کے جدید طریقوں پر آگاہی ورکشاپ

پنجاب یونیورسٹی میں زراعت کے جدید طریقوں پر آگاہی ورکشاپ

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل سائنسز کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ایڈیشنل سیکرٹری شعبہ پلاننگ حکومت پنجاب ڈاکٹر غضنفر علی خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔ اس موقع پرڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم حیدر، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ایگرونومی ڈاکٹر مختار احمد، فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے شرکت کی۔ ڈاکٹر غضنفر علی نے کہا کہ پنجاب حکومت زراعت کے فروغ کے لئے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق جدید طریقوں کو اپنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

تاکہ کسانوں کو فصلوں کی مختلف اقسام کی پیداوار بڑھانے میں فائدہ ہو۔انہوں نے کہا کہ آب پاشی کے نظام کو مزید بہتر کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے گا۔انہوں نے شعبہ زراعت کی مشکلات کو سمجھنے اور ان کے حل کیلئے نئی اصلاحات و ٹیکنالوجی بارے معلومات فراہم کرنے کے لئے منعقد کئے گئے سیمینار پر ڈاکٹر محمد سلیم حیدر کی تعریف کی۔ڈاکٹر مختار احمد نے پائیدار سمارٹ ایگریکلچر کیلئے ماڈلنگ اور ریموٹ سنسنگ ٹولز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں شعبہ زراعت کو سخت مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزنہ ایک بلین افراد بھوکے سوتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ زمین ، پانی اور پیداوار ی صلاحیت کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلی شعبہ زراعت کیلئے اضافی مشکلات کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا ماحولیات میں طویل اور قلیل مدتی تبدیلی پاکستان میں زراعت پر گہرا اثر چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے دس خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد سلیم حیدر نے کہا کہ بدلتے ہوئے ماحول کے پیش نظر زراعت کے جدید طریقوں کو اختیار کرنا ہوگا تاکہ ذیادہ سے ذیادہ فصل حاصل کیا جا سکے اور ماحول کے مضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1