کرکٹ بورڈ نے وسیم اکرم اور مصباح الحق کو اہم عہدہ دیدیا

کرکٹ بورڈ نے وسیم اکرم اور مصباح الحق کو اہم عہدہ دیدیا
کرکٹ بورڈ نے وسیم اکرم اور مصباح الحق کو اہم عہدہ دیدیا

  

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)نے سابق ٹیسٹ اوپنر محسن حسن خان کو کرکٹ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کردیا۔پی سی بی کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق چار ارکان پر مشتمل کرکٹ کمیٹی میں سابق کپتان وسیم اکرم، مصباح الحق اور وویمنز ٹیم کی سابق کپتان عروج ممتاز بھی شامل ہوں گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈائریکٹر انٹرنیشنل ذاکر خان، ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہارون رشید اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے سربراہ مدثر نذر اس کمیٹی کی مشاورت کریں گے۔کرکٹ کمیٹی ملک بھر میں کرکٹ اور کرکٹرز کے معاملات کی نگران ہوگی اور تمام پالیسی فیصلے کرنے سے قبل اس بارے میں سفارشات چیئرمین کو دے گی۔کمیٹی کا مقصد ہر سطح پر کھیل کو فروغ دینا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں پلیئنگ کنڈیشن بھی یہی کمیٹی بنائے گی اور یہی کمیٹی سلیکشن کمیٹی کا بھی تقرر کرے گی۔

واضح رہے کہ ماضی میں کوچز اور سلیکشن کمیٹی کا تقرر پی سی بی چیئرمین کرتے تھے اور اس حوالے سے رسمی منظوری کے لیے کمیٹی تشکیل دی جاتی تھی لیکن اب چیئرمین احسان مانی نے ساری ذمہ داری کرکٹ کمیٹی کو دے دی ہے۔کرکٹ کمیٹی اپنی سفارشات کو مکمل کرنے کیلئے پی سی بی کے کسی بھی شعبے سے خفیہ معلومات حاصل کرسکتی ہے جب کہ کمیٹی کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ چیئرمین کی منظوری سے کچھ اراکین کا تقرر کرسکتی ہے۔اس مقصد کیلئے پی سی بی ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ایک خصوصی اجلاس ہوا جس کی صدارت چیئرمین احسان مانی نے کی۔

بعد ازاں میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی بہتری کیلئے بنائی گئی چار رکنی کمیٹی کی سربراہی محسن حسن خان کے سپرد کی گئی ہے جبکہ دیگر ممبران میں سابق کرکٹرز وسیم اکرم، مصباح الحق اور عروج ممتاز شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کو صرف الانسز ملیں گے کوئی تنخواہ نہیں ملے گی۔ محسن خان نے کہا کہ ہم کام کرنے آئے ہیں اور کوئی مقصد نہیں، چیئرمین نے جو موقع دیا ہم سب ڈومیسٹک سے انٹرنیشنل کرکٹ تک نظر رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کی خدمت ہمیشہ نیکی اور ایمانداری سے کی، خوش قسمتی ہے کہ وزیراعظم پاکستان دنیا کا سب سے بڑا کرکٹر ہے۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ کپتانی کا حتمی فیصلہ چیئرمین کا ہی ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں سلیکٹرز اور اس کمیٹی سے بھی رائے لیں گے۔

مزید : کھیل