’’ شہزادہ سلمان چاہتے تھے کہ ہم یمن جنگ میں۔۔‘‘ خواجہ آصف نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

’’ شہزادہ سلمان چاہتے تھے کہ ہم یمن جنگ میں۔۔‘‘ خواجہ آصف نے تہلکہ خیز ...
’’ شہزادہ سلمان چاہتے تھے کہ ہم یمن جنگ میں۔۔‘‘ خواجہ آصف نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

  

کراچی (ویب ڈیسک)سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن تنازع کی وجہ سے پاک سعودی تعلقات میں سردمہری نہیں آئی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ن لیگ والے کہہ دیں کہ نواز شریف بری ہوجائیں گے تو کیا جج پر یہ بیان اثر انداز ہوگا۔

نجی اخبار روزنامہ جنگ کے مطابق سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ یمن کے معاملہ پر بطور وزیردفاع سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی، یمن سے متعلق پارلیمنٹ کی قرارداد پر شہزاد محمد بن سلمان غیرمطمئن تھے جس کا انہوں نے برملا اظہار کیا، محمد بن سلمان یمن جنگ میں پاکستان کی کم از کم علامتی شرکت ضرور چاہتے تھے، ہم نے سعودی عرب کی زمینی، فضائی اور بحری حدود کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا لیکن جغرافیائی حدود سے باہر کوئی کمٹمنٹ دینے سے انکار کردیا تھا،متحدہ عرب امارات کے وزیر نے بھی پاکستا ن کیخلاف سخت زبان استعمال کی، یمن جنگ کا حصہ نہ بننے کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، پاکستان اس کے بعد بیالیس ممالک کے محاذ میں شریک ہوا جس کے سربراہ راحیل شریف ہیں، جنرل راحیل شریف کو باقاعدہ پراسس کے تحت این او سی دیا گیا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یمن تنازع میں ہمارا کردار غیرجانبدار رہا ہے اور کوئی غیرجانبدارفریق ثالث نہیں بن سکتا ہے، عمران خان کا یمن تنازع میں ثالثی کا بیان ماضی کے بیانات سے مختلف نہیں ہے، عمران خان کا ایک دن کچھ بیان آتا ہے دوسرے دن صورتحال کچھ اور ہوتی ہے، نیا شخص اقتدار میں آئے تو رعب ڈالنے کیلئے اس طرح کے بیانات دیتا ہے، یمن تنازع کی وجہ سے پاک سعودی تعلقات میں سردمہری نہیں آئی،نواز شریف جب بھی سعودیہ گئے سعودی بادشاہ انہیں ایئرپورٹ پر ریسیو کرنے آئے، دو تین مواقع پر پورا شاہی خاندان لنچ کے اوپر موجود تھا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب سے جو پیکیج ملا اس پر پچھلے تین چار سال سے بات ہورہی تھی اور یہ پیکیج تقریباً تیار تھا،ہم نے کہیں جاکر رونا دھونا نہیں کیا کہ ہمارا بیڑا غرق ہوگیا ہے، سعودی عرب نے بجلی کے بحران میں بھی تعاون کی پیشکش کی تھی، فواد چوہدری قوم کو بتائیں فری لنچ نہیں ملتا تو سعودی عرب کو پیکیج کی کیا ادائیگی کی ہے، ہمیں بھی لنچ آفر ہورہا تھا لیکن وہ نہ کرنے کی وجہ ٹی وی پر نہیں بتاسکتا ہوں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے تعلقات بردارانہ ہیں، چار ملین سے زائد پاکستانی وہاں ملازمت کرتے ہیں، حکومت جو بھی ہو قوم کی قوم کے ساتھ دوستی ہونی چاہئے، ملکوں کی دوستی میں افراد کا حصہ ضرور ہوتا ہے، نواز شریف کا دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑا حصہ ہے،سعودی عرب یمن میں براہ راست پاکستانی فوج نہیں چاہتا تھا لیکن جنگ میں اتحادی ہونے کا واضح اظہار کی خواہش رکھتا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حقائق پڑھ لیے جائیں تو نواز شریف کیخلاف کیس کے فیصلے کی پیشنگوئی کی جاسکتی ہے، نواز شریف سے متعلق بہت سارے کیسز تو لے کر ہی ہم آئے تھے، ہمیں معلوم ہے کہ ان کیسو ں میں کیا کیا ثبوت اور معاملات ہیں، خواجہ حارث نے جمعے کو احتساب عدالت میں جو بات کی انہیں یہ بات نہیں کرنی چاہئے تھی، حیران ہوں جج صاحب نے خواجہ حارث کی بات کوکیسے سنا، کسی جج کو یہ کہنا توہین عدالت ہے کہ آپ اتنے کمزور ہیں کہ کسی وزیر کا بیان آپ پر اثر انداز ہوجائے گا، جج صاحب کی جگہ میں ہوتا تو خواجہ حارث آج جیل میں ہوتے،نواز شریف کیخلاف شواہد دیکھے ہیں اس لئے میری رائے ہے کہ وہ دوبارہ جیل جائیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پڑھیں پتا چل جائے گا کہاں سے پیسے آئے اور کہاں گئے، ایف زیڈ ای کیپٹل کا سارا کیس یہ والا کیس ہے، اگلی دفعہ جے آئی ٹی لے آﺅں گا تو اس پر بحث کرلیں گے، شریف خاندا ن کیخلاف کیسز لوگوں کو بھی پتا ہونے چاہئیں، میڈیا پر حقائق سامنے آنا بہت ضروری ہے، حسن اور حسین نواز قسم اٹھا کر کہہ دیں کہ ان کے والد کرپٹ نہیں ہیں، ایف زیڈ ای کیپٹل سے پیسے ہل میٹل جارہے تھے، ہل میٹل سے پیسے پاکستان میں نواز شریف کے ڈرائیور، گارڈ سمیت دیگر لوگوں کے اکاﺅنٹس میں آر ہے تھے اور پھر وہ پیسہ مریم نواز کے اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر ہوا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن سے پوچھیں غریبوں اور مردہ لوگوں کے اکاﺅنٹس سے نکلنے والا پیسہ کس کا ہے، اپوزیشن کس نظریے پر احتجاج اور اے پی سی کرنا چاہ رہی ہے، میرے بیان سے کوئی قیامت نہیں آئی، عوام کے سامنے حقائق لانا حکومت کا فرض ہے،اگر ن لیگ والے کہہ دیں کہ نواز شریف بری ہوجائیں گے تو کیا جج پر یہ بیان اثر انداز ہوگا، ایون فیلڈ ریفرنس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا تناظر مختلف ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی سزا ختم نہیں کی صرف ضمانت دی ہے، اس پر اپیل سپریم کورٹ میں ہے وہ اپنا فیصلے کرے گی، شاہانہ انداز میں رہنے والے بتائیں ان کے پاس پیسے کہاں سے آئیں، عمران خان اور ہم لوگ اپنے بچوں کو پیسے بنا کر دینے کیلئے حکومت میں نہیں ہیں، اس وقت کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے، سیف الرحمٰن کو جب احتساب بیورو کا چیئرمین لگایا گیا اس وقت لوگوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی