”پاکستان میں ہنگامے کے بعد میں تفصیلات جاری کر رہا ہوں“ اسرائیلی طیارے کی خبر دینے والے صحافی نے تہلکہ خیز تفصیلات جاری کر دیں، نیا ہنگامہ برپا ہو گیا

”پاکستان میں ہنگامے کے بعد میں تفصیلات جاری کر رہا ہوں“ اسرائیلی طیارے کی ...
”پاکستان میں ہنگامے کے بعد میں تفصیلات جاری کر رہا ہوں“ اسرائیلی طیارے کی خبر دینے والے صحافی نے تہلکہ خیز تفصیلات جاری کر دیں، نیا ہنگامہ برپا ہو گیا

  

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی صحافی ایوی شارف نے پاکستان میں اسرائیل کا طیارہ آنے کی خبر دی جس پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اب ایوی شارف نے اس حوالے سے نئی تہلکہ خیز تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس سے ایک نئے قضیے نے جنم لے لیا ہے۔ ایوی شارف نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر چار ٹویٹس پر مبنی نئی تفصیلات میں بتایا ہے کہ”میری گزشتہ پوسٹ نے پاکستان میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ یہاں میں اس معاملے کی تمام تفصیلات، جو میرے پاس ہیں اور نہیں ہیں، وہ بیان کر رہا ہوں۔ اس طیارے نے 23اکتوبر کو 2000کوارڈی نیٹڈ یونیورسل ٹائم (UTC)پر تل ابیب سے اڑان بھری۔ راستے میں یہ عمان اترا اور نیا ایس کیو ڈبلیو کے نمبر 0575حاصل کیا۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ پرواز کی اور سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا لیکن 23:00پر یہ ریڈار سے غائب ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ اس نے کس سمت میں سفر کیا۔ اس طیارے کا ایس کیو ڈبلیو کے نمبر 0575اور ٹائپ گلیکس ایکس آر ایس تھی۔ “

ایوی شراف مزید لکھتے ہیں کہ ”دوبارہ طیارہ 24اکتوبر کو کوارڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم00:04پر دوبارہ ریڈار پر نمودار ہوا۔ اس وقت یہ اسلام آباد میں لینڈنگ کے لیے اپنی بلندی کم کر رہا تھا۔ اس کا ایس کیو ڈبلیو کے نمبر ابھی تک 0575ہی تھا اورٹائپ بھی وہی تھی۔ یہ 20ہزار فٹ کی بلندی پر آیا اور دوبارہ منظر سے غائب ہو گیا۔ اس کے 10گھنٹے بعد یونیورسل ٹائم کے مطابق 11:20پر یہ طیارہ دوبارہ ٹریک پر نمودار ہوا۔اس وقت یہ دوبارہ اسلام آباد سے پرواز کر چکا تھا اور اس کا رخ جنوب مغرب کی طرف تھا۔ اسی ٹریک پر یہ واپس عمان پہنچا اور پھر وہاں تل ابیب پہنچ گیا۔

میں نہیں جانتا کہ یہ طیارہ کس کی ملکیت ہے،تاہم یہ آئل آف مین (خودمختار برطانوی ریاست)میں رجسٹرڈ ملٹی برڈ اوورسیز لمیٹڈ نامی کمپنی کے نام رجسٹرڈ ہے جو آف شور کمپنی ہے۔فلائٹ ریکارڈ کے مطابق یہ طیارہ تل ابیب سے آپریٹ کرتا ہے کہ تل ابیب سے مختلف ممالک کا باقاعدگی سے سفر کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اسے کاروباری مسافر چارٹر بھی کرتے ہیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ اسلام آباد جانے والی اس حالیہ پرواز میں اس طیارے پر سفر کس نے کیا۔“

ایوی شراف کہتے ہیں کہ” میں 100فیصد حتمی طور پر یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ اسلام آباد میں اترا تھا، کیونکہ وہاں پہنچ کر یہ ٹریک سے غائب ہو گیا تھا (وہاں فلائٹ ریڈار24 کے ریسیورز کی کمی ہے)۔ تاہم میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ اسلام آباد میں اترا تھا کیونکہ اسلام آباد کے قریب پہنچ کر یہ اپنی بلندی 40ہزار فٹ سے کم کرکے 20ہزار فٹ پر آ گیا تھا۔ اگر یہ آگے شمال میں کشمیر یا چین کی طرف جا رہا تھا تو راستے میں بلند و بالا پہاڑ آتے ہیں جن کی اونچائی 15ہزار فٹ سے زیادہ ہے، وہاں سے گزرنے سے پہلے جہاز کی بلندی کم کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ چنانچہ اگر اسے اسلام آباد میں نہیں اترنا تھا تو اس نے اپنی بلندی کیوں کم کی۔ میں یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اس طیارے کا 25اکتوبر کو اسرائیل سے اومان جانے والی اس پرواز سے کوئی تعلق نہیں جس میں اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو خفیہ دورے پر اومان گئے تھے۔“

مزید : بین الاقوامی