اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ یہ کام کرسکتا ہے تو پاکستان ان کے ساتھ سفارتی تعلقات کیوں نہیں رکھ سکتا ؟ سوشل میڈ یا پر اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کی افواہوں کے بعد معید پیرزادہ نے ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ جائے

اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ یہ کام کرسکتا ہے تو پاکستان ان کے ساتھ سفارتی ...
اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ یہ کام کرسکتا ہے تو پاکستان ان کے ساتھ سفارتی تعلقات کیوں نہیں رکھ سکتا ؟ سوشل میڈ یا پر اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کی افواہوں کے بعد معید پیرزادہ نے ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ جائے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سوشل میڈ یا پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسرائیلی طیارہ آنے کی افواہ پھیلی تو اس نے حکومتی حلقوں میں بھی ہنگامہ برپا کردیا جس کے بعد فوری طور پر ایسے کسی بھی جہاز کے پاکستان آنے کی تردید بھی کردی گئی ہے لیکن اس حوالے سے سوشل میڈ یا میں ابھی تک بحث جاری ہے ۔اس موقع پر اینکر پرسن معید پیرزادہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات رکھ سکتا ہے تو پاکستان ان کے ساتھ سفارتی تعلقات کیوں نہیں رکھ سکتا ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ کوئی حقیقی تنازعہ نہیں ہے بلکہ صرف ایک خیالی تنازعہ ہے جو کہ مذہبی سوچ رکھنے والوں کی طرف سے آیا ہے ۔پاکستان اوراسرائیلی ہمسائیہ ممالک نہیں ہیں اور خطے کے حوالے سے بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ترکی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھ کر اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں ؟۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ اسرائیلی جہاز اسلام آباد آیا یا نہیں لیکن سوچتا ہوں کہ پاکستان کو اسرائیلی کے ساتھ تعمیری بات چیت کرنی چاہیے ۔

مزید : قومی