صحافی خاشقجی کا قتل، فرانس مدد کو آگیا، سعودی عرب کو بڑی حمایت مل گئی

صحافی خاشقجی کا قتل، فرانس مدد کو آگیا، سعودی عرب کو بڑی حمایت مل گئی
صحافی خاشقجی کا قتل، فرانس مدد کو آگیا، سعودی عرب کو بڑی حمایت مل گئی

  

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) استنبول میں واقع سعودی سفارتخانے میں صحافی جمال خاشقجی کے معاملے پر سعودی عرب کو عالمی تنہائی کا سامنا تھا لیکن اب فرانس اس کی مدد کو آگیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق جمال خاشقجی کے قتل پر جہاں امریکی سینیٹرز سعودی عرب پر پابندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں وہیں فرانسیسی صدر کی طرف سے ایک بیان سامنے آگیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کا سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدوں اور یمن کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ہم اس واقعے کو دیگر تمام معاملات سے الگ کرکے دیکھیں گے۔“

امریکی سینیٹرز کی طرف کئی یورپی ممالک بھی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے ہتھیاروں کے معاہدے منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، جس پر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے یہ بیان دیا۔ انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں ان یورپی ممالک کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”جمال کے قتل اور ہتھیاروں کے معاہدوں میں کیا تعلق ہے؟ کسی کو بھی ان معاملات کو گڈ مڈ کرکے معاملے کو بگاڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔یمن کی صورتحال کا ہتھیاروں کے معاہدوں کے ساتھ کیا تعلق ہے یہ میں سمجھتا ہوں لیکن جمال خاشقجی کے معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس واقعے پر سعودی عرب سے قطع تعلقی کے مطالبات جذباتی بیانات سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں۔“

مزید : بین الاقوامی