’ہم نے اس نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس نے آنکھ سے ایک آنسو بھی نہ نکالا، اس کے بعد۔۔۔‘ ایک بہادر لڑکی کی کہانی جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

’ہم نے اس نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس نے آنکھ سے ایک ...
’ہم نے اس نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس نے آنکھ سے ایک آنسو بھی نہ نکالا، اس کے بعد۔۔۔‘ ایک بہادر لڑکی کی کہانی جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

  

کیپ ٹاﺅن(مانیٹرنگ ڈیسک) ساﺅتھ افریقہ میں چار درندہ صفت انسانوں نے ایک لڑکی کو اغواءکرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر سفاکانہ طریقے سے قتل کر دیا۔ عدالت میں ایک ملزم نے اس واقعے کے متعلق ایسی ہولناک بات بتائی ہے کہ پوری دنیا ہل کر رہ گئی۔ میل آن لائن کے مطابق 27سالہ جیرالڈو پارسنز نامی اس درندے نے عدالت میں بتایا ہے کہ جب ہم نے لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تو اس دوران نہ تو وہ چیخی چلائی اور نہ ہی روئی تھی، بلکہ اس نے خود کو مضبوط رکھا اور جب ہم نے اسے زیادتی کا نشانہ بنا لیا تو اس نے ہم سے درخواست کی کہ ’اب مجھے گھر جانے دو‘ لیکن ہم نے اس کا گلہ کاٹا اور پھر سر میں پتھر مار مار کر قتل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق 21سالہ ہینا کارنیلس نامی اس لڑکی کو اس کے 22سالہ بوائے فرینڈ چیسلین مارش کے ہمراہ مئی 2017ءمیں اغواءکیا گیا۔ ملزمان انہیں ویران علاقے میں لے گئے جہاں ہینا کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کے بعد انہوں نے جیسلین کو بھی سر میں پتھر مار مار کر اپنی طرف سے قتل کر دیا اور وہاں سے چلے گئے تاہم چیسلین خوش قسمتی سے زندہ رہ گیا اور کسی طرح ہسپتال تک پہنچ گیا جہاں کافی دن اس کی حالت تشویشناک رہی تاہم وہ بعدازاں صحت مند ہو گیا۔ پولیس نے چاروں ملزمان 27سالہ جیرالڈو پارسنز، 33سالہ ویرنن ویٹبوئی، 29سالہ نیشوائل جولیئس اور 28سالہ ایبن وین نیکرک کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا ہے جہاں ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس