ریس کے دوران ٹانگ ٹوٹنے پر جاپانی خاتون حوصلہ ہارنے کی بجائے رینگ کر منزل پر پہنچ گئی

ریس کے دوران ٹانگ ٹوٹنے پر جاپانی خاتون حوصلہ ہارنے کی بجائے رینگ کر منزل پر ...
ریس کے دوران ٹانگ ٹوٹنے پر جاپانی خاتون حوصلہ ہارنے کی بجائے رینگ کر منزل پر پہنچ گئی

  

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کے شہر فیوکوکا میں گزشتہ دنوں ایک میراتھن ریس ہوئی جس میں شریک ایک جاپانی خاتون ایتھلیٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی تاہم اس نے ٹانگ ٹوٹنے کے باوجود ایسی ہمت کا مظاہرہ کیا کہ پوری دنیا اس کی جرا¿ت کی داد دینے پر مجبور ہو گئی۔ میل آن لائن کے مطابق 19سالہ رئی لیدا نامی یہ ایتھلیٹ 2.2میل کے مرحلے کے لیے دوڑ رہی تھی جس کے اختتام پر اس کی اگلی ساتھی نے اگلے مرحلے کے لیے دوڑ شروع کرنا تھی۔ وہ اختتامی لائن سے لگ بھگ 200میٹر دور تھی کہ گرجانے کے باعث اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی ریس جاری رکھی۔

رپورٹ کے مطابق رئی لیدا نے 200میٹر کا یہ فاصلہ گھٹنوں کے بل چل کر طے کیا جس سے اس کے گھنٹوں سے خون آنے لگا اور تارکول کی سڑک پر اس کے خون کے نشانات بنتے گئے لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور اختتامی لائن پر جا کر سرخ کپڑا اپنی ساتھی کو تھما دیااور اس نے اگلے مرحلے کے لیے دوڑنا شروع کر دیا۔ رائی لیڈا یونیورسٹی کی طالبہ ہے جسے گھٹنوں پر بہت گہرے زخم آئے۔

ریس کے ہیڈ جج نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”رئی لیدا نے کمال ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب اس کی ٹانگ ٹوٹی اور اس نے رینگنا شروع کیا تو میں شش و پنچ میں مبتلا ہو گیا کہ آیا مجھے اس کو روک دینا چاہیے یا نہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ منزل تک پہنچنے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے، جس پر میں نے اسے روکنے کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔ عملے میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا بھی تھا اور ریس سے دستبردار ہونے کو کہا لیکن اس نے انکار کرتے ہوئے اس شخص سے پوچھا کہ باقی کتنا فاصلہ رہ گیا ہے؟ اور ساتھ ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس