کیا خواتین کو قبرستان جانا چاہیے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ آپ بھی جانئے

کیا خواتین کو قبرستان جانا چاہیے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ آپ بھی جانئے
کیا خواتین کو قبرستان جانا چاہیے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ آپ بھی جانئے

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) حدیث مبارکہ ہے کہ ’قبروں پر جایا کرو، کیونکہ اس سے آدمی کو موت کی یاد آتی ہے۔‘ اس کے علاوہ بھی کئی احادیث میں قبروں پر جانے کی ہدایت کی گئی ہے، لیکن کیا خواتین کو قبرستان جانا چاہیے؟ ویب سائٹ پڑھ لو کے مطابق خواتین کے قبرستان جانے کا معاملہ بہت متنازعہ ہے۔ بعض مسالک کے علماءکے نزدیک خواتین کا قبرستان جانا قطعی حرام ہے جبکہ بعض مسالک کے علماءاسے جائز قرار دیتے ہیں۔شافعی، مالکی اور حنفی مسالک کے نزید خواتین کا قبروں پر جانا حرام ہے۔

ان مسالک کے علماءکرام اس کی دلیل کے طور پر ابن عباس کی روایت کردہ یہ حدیث مبارکہ پیش کرتے ہیں کہ ”اللہ کے نبی ﷺ نے ان خواتین پر لعنت بھیجی جو قبروں پر جاتی ہیں، انہیں مسجدوں کی طرح سمجھتی ہیں اور وہاں دیئے جلاتی ہیں۔ سنن نسائی کتاب 21حدیث 2045۔“اس کے برعکس حنبلی، شیعہ اور بعض حنفی علماءبھی خواتین کے قبرستان جانے کو جائز قرار دیتے ہیں۔یہ علماءکرام اس کے حق میں دلیل کے طور پر یہ حدیث مبارکہ پیش کرتے ہیں جو عبداللہ ابو ملیکہ سے روایت ہے کہ ”ایک بی بی عائشہؓ قبرستان سے واپس آئیں۔ میں نے ان سے پوچھا، ائے ام المومنین! کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر پر گئی تھی۔ میں نے ان سے پھر پوچھا کہ کیا رسول اللہﷺ نے خواتین کو قبروں پر جانے سے منع نہیں کیا؟ انہوں نے کہا کہ ’ہاں، انہوں نے قبروں پر جانے سے منع کیا تھا، لیکن بعد میں قبروں پر جانے کا حکم دیا تھا۔ ابن ماجہ 4:439“۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کئی احادیث ایسی ہیں جن میں نزول وحی کے بعد ابتدائی عرصے میں قبروں پر جانے کی ممانعت تھی، جس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ نئے مسلمان ہوئے تھے اور وہ قبرستان جا کر وہی پرانے زمانے کی رسوم ادا کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ تاہم بعد ازاں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نہ صرف قبروں پر جانے کو جائز قرار دیا گیا بلکہ بعض احادیث کے مطابق اس کا حکم بھی دیا گیا۔ واللہ اعلم بالصواب

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /سندھ /کراچی