نئی حکومت کے لئے بڑی خوشخبری اب انسانی پیشاب سے گھر بنائے جائیں گے

نئی حکومت کے لئے بڑی خوشخبری اب انسانی پیشاب سے گھر بنائے جائیں گے
نئی حکومت کے لئے بڑی خوشخبری اب انسانی پیشاب سے گھر بنائے جائیں گے

  

کیپ ٹاؤن(نیوز ڈیسک) اِدھر ہمارے وزیراعظم نے 50 لاکھ گھر بنانے کا اعلان کیا اور اُدھر جنوبی افریقہ کے سائنسدانوں نے ایک ایسی اینٹ بنا لی ہے جس کا مقصد ہی سستے گھروں کے خواب کو حقیقت کا روپ دینا ہے۔ یہ اینٹ بہت پائیدار ہے، اور بے حد سستی بھی کیونکہ اسے بنانے کے لئے ریت اور انسانی پیشاب کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ 

ایک تو اینٹ بے حد سستی اور ساتھ مفت میں کھاد بھی بنے گی۔ اور مزید حسن اتفاق دیکھئے کہ ہمارے وزیراعظم ماحول کی بہتری کے لئے بہت فکر مند ہیں اور نئی قسم کی اینٹ بنانے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے بڑھ کر ماحول دوست اینٹ ہو ہی نہیں سکتی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کیپ ٹاؤن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس اینٹ کو بنانے کے لئے ریت اور انسانی پیشاب کے ساتھ ایک خاص قسم کا بیکٹیریا استعمال کیا جاتا ہے، اور اس کی تیاری کے لئے حرارت کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ عام اینٹوں کی تیاری کے لئے بڑے بڑے بھٹے استعمال کئے جاتے ہیں جن میں ٹنوں کے حساب سے کوئلہ جلایا جاتا ہے اور ماحول کی خرابی کا باعث بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی بڑی مقدار ان بھٹوں سے خارج ہوتی ہے۔ ایندھن پر اٹھنے والے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ماحول کا بھی بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔

نئی قسم کی اینٹ تیار کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے ٹوائلٹس سے بڑی مقدار میں پیشاب اکٹھا کرتے ہیں، جس سے پہلے کھاد بنائی جاتی ہے اور پھر باقی بچ رہنے والے مائعات سے حیاتیاتی اینٹیں بنا ئی جاتی ہیں۔ پیشاب سے اینٹیں بنانے کے اس پراسس کو ’’مائیکروبیل کاربونیٹ پریسیپٹیشن‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس پراسیس میں ایک خاص قسم کا بیکٹیریا ایک خامرہ پیدا کرتا ہے جو پیشاب میں موجود یوریا کو توڑ کر کیلشیم کاربونیٹ بنادیتا ہے جس کی مدد سے ریت کے ذرات آپس میں جڑ کر پتھر جیسے بن جاتے ہیں۔ 

سائنسدان کہتے ہیں کہ ایک صحتمند انسان ایک بار میں اوسطاً 200 سے 300 ملی لیٹر پیشاب کرتا ہے اور ایک اینٹ بنانے کیلئے 25 سے 30 لٹر پیشاب درکار ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک آدمی تقریباً 100 بار پیشاب کرے تو اس سے ایک اینٹ تیار ہوسکتی ہے، یا پھر سو آدمی ایک بار پیشاب کر دیں تو بھی ایک اینٹ تیار ہو جائے گی، اور ساتھ ایک کلوگرام کھاد بھی حاصل ہو گی۔ 

آپ جانتے ہیں کہ ہمیں اینٹیں بھی درکار ہیں، ہمیں کھاد کی بھی بہت ضرورت ہے، ہم ماحول کو بھی بہتر بنانا چاہتے ہیں، اور ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ہیں۔ تو پھر آپ ہی بتائیے کہ ہمارے لئے اس اینٹ سے بڑھ کر کوئی خوشخبری ہو سکتی ہے؟ ذرا سوچئے! 

مزید : ڈیلی بائیٹس /سائنس اور ٹیکنالوجی