’سہاگ رات کو میں نے بیگم سے 2 گھنٹے باتیں کیں، پھر صوفے پر لیٹ گیا تاکہ وہ آرام کر لیں لیکن پھر تو یہ معمول بن گیا اور ہر روز۔۔۔‘

’سہاگ رات کو میں نے بیگم سے 2 گھنٹے باتیں کیں، پھر صوفے پر لیٹ گیا تاکہ وہ ...
’سہاگ رات کو میں نے بیگم سے 2 گھنٹے باتیں کیں، پھر صوفے پر لیٹ گیا تاکہ وہ آرام کر لیں لیکن پھر تو یہ معمول بن گیا اور ہر روز۔۔۔‘

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) شادی شدہ زندگی کے کچھ فطری تقاضے ہوتے ہیں، جن کے پورا ہونے میں بعض اوقات کچھ تاخیر بھی ہو سکتی ہے، مگر اس نوجوان کو تو عجیب ہی مشکل درپیش ہے۔ شادی کی پہلی رات تو بیچارہ سمجھا کہ دلہن تھکی ہوئی تھی اس لئے جلد سو گئی مگر پھر دوسرے دن بھی یہی ہوا، اور پھر ہر روز یہی ہونے لگا، یہاں تک کہ اب دوسال گزر گئے ہیں اور معاملہ جوں کا توں چل رہا ہے۔ 

ویب سائٹ parhloکے مطابق اس پریشان حال نوجوان نے اپنی پریشانی کا احوال بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’ دو سال قبل جب میری شادی ہوئی تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ میری آنے والی زندگی کیسی ہوگی ۔ اس تمام عرصے کے دوران میرے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب سب ہی ہماری ازدواجی زندگی کی تعریف کرتے رہے ہیں مگر صرف میں اور میری اہلیہ وہ راز جانتے تھے جو ہماری ظاہری مسکراہٹ کے پیچھے چھپا ہے۔ 

ہماری شادی کی پہلی رات ہم دو گھنٹے تک بات چیت کرتے رہے اور اس کے بعد نیند سے میری بیوی کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔ میں نے اسے سونے کیلئے تکیہ دیا اور خود صوفے پر لیٹ گیا تا کہ وہ مکمل اطمینان کے ساتھ آرام کر سکے، لیکن پھر تو یہ روز کا معمول بن گیا۔ 

ہر رات جب میں اسے اپنے قریب بیٹھنے کو کہتا تو وہ اپنی آنکھیں ملنے لگتی گویا اسے بہت نیند آرہی ہو، اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ سو جاتی۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ عزت سے پیش آتی ہے لیکن میری ساتھ بے تکلف کبھی نہیں ہوپائی۔ اب ہماری شادی کو تقریباً دو برس ہوچکے ہیں۔ وہ میرے والدین کا بھی بہت خیال رکھتی ہے اور دیگر عزیزوں کے ساتھ بھی خوش اخلاقی سے پیش آتی ہے۔ وہ بہترین کھانا پکاتی ہے اور مہمانوں کا خیال رکھتی ہے۔ وہ ایک بہترین بہو سمجھی جاتی ہے لیکن ہماری ازدواجی زندگی کا اصل راز سب سے پوشیدہ ہے۔ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور اسے چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن میں ایک مکمل ازدواجی زندگی بھی چاہتا ہوں۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ اس مشکل کا آخر کیا حل ہو گا۔‘‘ 

مزید : ڈیلی بائیٹس