سہون کے قریب واقع اُلٹی بستی جہاں پر تمام عمارتیں بھی اُلٹی ہیں، یہ کیسے ہوا؟ انتہائی حیران کن داستان آپ بھی جانئے

سہون کے قریب واقع اُلٹی بستی جہاں پر تمام عمارتیں بھی اُلٹی ہیں، یہ کیسے ہوا؟ ...
سہون کے قریب واقع اُلٹی بستی جہاں پر تمام عمارتیں بھی اُلٹی ہیں، یہ کیسے ہوا؟ انتہائی حیران کن داستان آپ بھی جانئے

  

سہون(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ کی سرزمین کو لعل شہباز قلندر کے حوالے سے جانا جاتا ہے مگر اس سرزمین پر اسی بزرگ ہستی کے حوالے سے ایک ایسی حیرتناک چیز بھی موجود ہے کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھی جا سکتی۔ یہ ’’اُلٹی بستی‘‘ کے تاریخی کھنڈرات ہیں جہاں جانے والے حیرت کی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں۔ 

تاریخ دان بتاتے ہیں کہ حضرت بودلہ شریف نامی ایک صاحب حضرت لعل شہباز قلندر سے بہت عقیدت رکھتے تھے اور لعل قلندر بھی ان کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ اُن دنوں اس علاقے میں ایک بہت بڑا قلعہ بھی واقع تھا جہاں علاقے کا حاکم رہتا تھا۔ کہتے ہیں کہ وہ بہت سنگدل تھا اور رعایا اس سے بہت تنگ تھی۔ چونکہ وہ ہندو تھا تو خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ اس کا رویہ بہت بُرا تھا مگر ہندو رعایا بھی اس کے ظلم و ستم سے محفوظ نہیں تھی۔ 

ایک دن حاکم کو کسی نے بتایا کہ سکندر بودلہ نامی شخص لعل قلندر کا دیوانہ ہے، اُن سے بہت محبت کرتا ہے ، ہر وقت اُن کے گن گاتا رہتا ہے۔ ظالم حکمران کو کب یہ گوارا تھا کہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کے علاوہ کسی کا نام لے۔ اس نے سکندر بودلہ کو اپنے دربار میں بلوایا اور اسے اپنے انداز و اطوار بدلنے کو کہا، مگر اس درویش کو شاہی دربار سے کوئی غرض نہیں تھی، اس نے حاکم کے سامنے بھی دیوانہ وار اپنے نعرے بلند کرنا شروع کر دئیے۔ حاکم اس بات پر آگ بگولا ہو گیا اور فوری طور پر اُس کے قتل کا حکم جاری کردیا۔ 

لعل قلندر بلاناغہ دھمال ڈالتے تھے اور بودلہ شریف ہمیشہ وہاں موجود ہوتے تھے۔ پھر ایک دن لعل قلندر نے دھمال ڈالی اور بودلہ شریف وہاں موجود نہ تھے۔ جب لعل قلندر کو معلوم ہوا کہ حاکم نہیں انہیں قتل کروا دیا تو وہ بے حد رنجیدہ ہوئے اور ظالم حاکم کے خلاف بدعا کی۔ اُن کی بدعا کا یہ اثر ہوا کہ سفاک حکام کا قلعہ اور اس سے ملحقہ عمارتیں آن واحد میں الٹ دی گئیں اور سب کچھ کھنڈر میں بدل گیا۔ اسی جگہ کو اُلٹی بستی کہا جاتا ہے اور آج بھی دور دور سے لوگ اس مقام عبرت کو دیکھنے آتے ہیں۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس