پاکستان کا وہ چھوٹا سا گاؤں جس نے اپنے ہر جوان کو جنگ لڑنے بھیج دیا، برطانوی میڈیا نے ایسی کہانی بتادی کہ گورے بھی دنگ رہ گئے

پاکستان کا وہ چھوٹا سا گاؤں جس نے اپنے ہر جوان کو جنگ لڑنے بھیج دیا، برطانوی ...
پاکستان کا وہ چھوٹا سا گاؤں جس نے اپنے ہر جوان کو جنگ لڑنے بھیج دیا، برطانوی میڈیا نے ایسی کہانی بتادی کہ گورے بھی دنگ رہ گئے

  

چکوال(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی دارالحکومت سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کی دوری پر سالٹ رینج کے سنگلاخ پہاڑوں میں قدیم اور تاریخی قصبہ دوالمیال واقع ہے، جسے آس پاس کے علاقوں میں توپ والا گاؤں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ گاؤں چھوٹا سا اور دور دراز ضرور ہے مگر اس کی تاریخی اہمیت اور شہرت برطانیہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں یہ واحد گاؤں تھا جس نے اپنے ہر صحتمند اور بالغ مرد کو جنگ لڑنے کے لئے بھیج دیا تھا، اور برطانوی حکومت آج تک اس خدمت کو یاد کرتی ہے۔ 

برطانوی شہر نوٹنگھم میں رہائش پذیر ڈاکٹر عرفان ملک کے آباؤ اجداد کا تعلق اسی گاؤں سے تھا لہٰذا انہوں نے اس کی تاریخ پر خاصا کام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران اس گاؤں کے ہر صحت مند و جوان مرد نے میدان جنگ کا رخ کیا تھا۔ انہوں نے تاریخی کتب کے حوالے سے اس معاملے کی تحقیق شرو ع کی اور یہ جان کر حیران ہوئے کہ 1914ء سے 1918ء کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں صرف اس ایک گاؤں سے 460افراد نے حصہ لیا۔ اس وقت کے بھارت میں کوئی اور ایسا دیہات نہیں تھا جہاں سے اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں نے جنگ عظیم میں حصہ لیا ہو۔ 

جنگ کے لئے سمندر پار جانے والے اس گاؤں کے افراد میں سے آٹھ کبھی واپس نہیں لوٹے، البتہ جو واپس آئے انہیں تاج برطانیہ نے بہادری کے تمغوں سے نوازا۔ ڈاکٹر عرفان ملک بتاتے ہیں کہ 1914ء میں جب اس گاؤں کے مردوں کو جنگ کے لئے بھرتی کیا گیاتو ان میں سے ہر ایک کو 30 پا ؤنڈ کی پیشکش کی گئی تھی جو کہ اس وقت ایک عام فوجی کی 3سال کی تنخواہ کے برابر رقم تھی۔ 

پہلی جنگ عظیم میں اس گاؤں کے لوگوں کے غیر معمولی کردار کے اعتراف میں 1925ء میں یہاں تاج برطانیہ کی جانب سے عطا کی گئی آرٹلری توپ نصب کی گئی۔ سکاٹ لینڈ میں بنائی گئی اس توپ کی چمک دمک تقریباً ایک صدی بعد بھی جوں کی توں برقرار ہے اور تمام علاقے میں یہ اس گاؤں کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس