بازوؤں سے محروم کشمیری کرکٹر جس نے دنیا میں دھوم مچادی

بازوؤں سے محروم کشمیری کرکٹر جس نے دنیا میں دھوم مچادی
بازوؤں سے محروم کشمیری کرکٹر جس نے دنیا میں دھوم مچادی

  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)اس دنیا میں ہر انسان کے لئے قدرت نے کوئی آزمائش ضرور رکھی ہے۔ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو معمولی سی آزمائش پر بھی آنسو بہانے لگتے ہیں لیکن کچھ ایسے باہمت بھی ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی آزمائش کا سامنا بے مثال صبر و استقامت کے ساتھ کرتے ہیں، اور پھر ایسے سرخرو ہو کر نکلتے ہیں کہ دنیا عش عش کر اٹھتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والا نوجوان عامر حسین لون بھی عزم و ہمت کی ایک ایسی ہی، جو دونوں بازؤں سے محروم ہے لیکن کرکٹ کے کھیل میں ایسی مہارت رکھتا ہے کہ جو بھی اُسے کھیلتے دیکھتا ہے بس دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ 

نیوز ویب سائٹ Alarabia.co.ukکی رپورٹ کے مطابق عامر حسین دونوں بازؤوں سے محرومی کے باوجود اتنی اچھی بیٹنگ اور باؤلنگ کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر پیرا کرکٹ ٹیم کے کپتان بن چکے ہیں۔ وہ اپنی گردن اور کندھے کے درمیان بلے کوپکڑ کر انتہائی حیران کن انداز میں بیٹنگ کرتے ہیں جبکہ گیند کو اپنے دائیں پاؤں کے پنجے میں دبوچ کر باؤلنگ کرواتے ہیں۔ 

عامر حسین پیدائشی معذور نہیں ہیں۔ اُن کی زندگی میں ایک المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ محض 8 سال کے تھے۔ ان کے والد کی لکڑیاں کاٹنے کی آرا مشین تھی جسے وہ ایک دن بند کر کے کہیں گئے ہوئے تھے۔ وہ گھر والوں سے کہہ کر گئے تھے کہ اُن کی عدم موجودگی میں آرا مشین کو نہ چلایا جائے، مگر اُن کے ایک دوست کے کہنے پر اُن کے بڑے بیٹے نے مشین چلا دی۔ اس دوران عامر کی والدہ نے اُسے بڑے بھائی کے لئے کھانا دے کر بھیجا۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آرے کے قریب کھیل رہا تھا تو اچانک اُس کی جیکٹ آرے کی زد میں آ گئی اور پھر اس کے دونوں بازو بھی اس کی لپیٹ میں آئے اور ایک ایک کر کے کٹ گئے۔

وہ تین سال تک ہسپتال میں زیر علاج رہے اور اس دوران اُن کے گھر والوں کا سب کچھ بک گیا لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کا ہر ممکن علاج کروایا۔ عامر ناصرف زندہ رہا بلکہ اس نے زندگی کی مشکلات کا بھی ایسی بہادری سے مقابلہ کیا جس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ یہ ایک ناقابل تصور سانحہ تھا جس کے نتیجے میں عامر دونوں بازؤوں سے محروم ہو گئے، مگریہ غیر معمولی محرومی بھی انہیں زندگی میں آگے بڑھنے سے روک نہیں سکی۔ 

وہ بچپن سے ہی کرکٹر بننے کے بے حد شوقین تھے اور انہوں نے معذوری کے باوجود یہ شوق پور اکیا۔ انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کرکٹ سیکھنے کے لئے بھی بے حد محنت کی اور ان کی محنت کا نتیجہ ہے کہ اب وہ جموں اینڈ کشمیر پیراکرکٹ ٹیم کے کیپٹن ہیں۔ 

عامر اپنے پیروں سے صرف بیٹنگ اور باؤلنگ ہی نہیں کرتے بلکہ اپنی زندگی کے سب کام کرنے کے لئے بھی پیروں کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ پاؤں کی انگلیوں میں قلم دبا کر لکھ سکتے ہیں، کھانے کے لئے بھی چمچ پاؤں کی انگلیوں میں پکڑتے ہیں، پاؤں کی مدد سے شیو بھی خود بناتے ہیں اور کپڑے بھی خود تبدیل کرتے ہیں۔ زندگی کے کسی بھی کام کے لئے وہ دوسروں کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ وہ تو اُلٹا دوسروں کی مدد کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ عزم و ہمت کی ایسی شاندار مثال یقیناً کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس