پاکستانی حکمران 71 سال سے خاموش ہیں،کشمیر کی آزادی کے لیےاب کچھ کر گزرنے کی ضرورت ہے:سراج الحق

پاکستانی حکمران 71 سال سے خاموش ہیں،کشمیر کی آزادی کے لیےاب کچھ کر گزرنے کی ...
پاکستانی حکمران 71 سال سے خاموش ہیں،کشمیر کی آزادی کے لیےاب کچھ کر گزرنے کی ضرورت ہے:سراج الحق

  

اسلام آباد:(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے فوری طور پر مظفر آباد میں عالم اسلام اور آزادی پسند دنیا کے رہنماؤں کی عالمی کانفرنس بلا کر آزادی  کشمیر کا ایک واضح لائحہ عمل طے کیا جائے اور کشمیر میں ہونے والے قتل عام کو روکا اور بھارت کی طرف سے کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے ، کشمیر میں جاری قتل عام کو ایک منٹ کی خاموشی اور اقوام متحدہ میں ایک تقریر کرنے سے نہیں روکا جاسکتا ،پاکستانی حکمران 71 سال سے خاموش ہیں ،بھارت نے کشمیرمیں لاکھوں نوجوانوں کا خون بہایا ، ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عصمت دری کی ،پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور ہمارے مشرقی بازو کو توڑ کر بنگلہ دیش بنایا مگر حکمران خاموش رہے اب یہ خاموشی توڑنے اور کچھ کر گزرنے کی ضرورت ہے ، اگر 75 سالہ سید علی گیلانی ، یاسین ملک ، شبیر شاہ ، میر واعظ عمر فاروق اور آسیہ اندرابی بھارتی ظلم کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں تو پاکستانی حکمرانوں کی غیرت ایمانی کیوں سو گئی ہے ؟ کشمیری پاکستان کی سا لمیت اور تکمیل کی خاطر 71 سال سے قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ حکمران بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگتے ہیں اور آلو پیاز ٹماٹر کی تجارت اور فلمی طائفوں کے تبادلوں کے لیے مودی کے کشمیریوں کے خون سے رنگے ہاتھوں میں ہاتھ دینا چاہتے ہیں، پاکستانی قوم ایسے مذاکرات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی جن میں کشمیری قیادت شریک نہ ہو ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہونے ” کشمیر مارچ “ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیر میں بہنے والا خون پاکستانی قوم اور امت مسلمہ کاخون ہے ،بھارت کشمیریوں کی نسل کشی تو کر سکتاہے مگر ان کو آزادی کے نعروں اور جدوجہد سے نہیں روک سکتا ، کشمیریوں کی تیسری نسل آزادی کے لیے لڑ رہی ہے، کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں 80 سالہ بزر گ اور دس سالہ بچہ بھی آزادی کے لیے جان قربان کر رہاہے اور خواتین و بچیاں بھی آزادی کے لیے جدوجہد میں شامل ہیں ، ایسی قوم کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں کسی محمد بن قاسم ، محمود غزنوی اور صلاح الدین ایوبی کی راہ دیکھ رہی ہیں، کشمیر کی آزادی کی جدوجہد ایک نظریاتی جنگ ہے جسے ہم خون کے آخری قطرے اور زندگی کی آخری سانس تک لڑیں گے، پاکستان سے محبت اور نظریے کا تقاضا ہے کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کا ساتھ دے ، آج اگر 35 ہزار مربع کلو میٹر پر آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان ہیں تو یہ کشمیری قوم کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہے ،پاکستان میں ہریالی کشمیر سے بہہ کر آنے والے دریاؤں کی وجہ سے ہے جس میں کشمیری شہدا کا خون شامل ہے ، کشمیر کے گلی کوچوں میں بہنے والا خون پاکستان کے لیے ہے ، کشمیری شہدا وصیت کرتے ہیں کہ انہیں پاکستانی پرچم میں دفن کیا جائے اور ان کی قبرپر پاکستان کا پرچم لہرایا جائے ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مسلمانوں کے بارے میں اقوام متحدہ کا رویہ متعصبانہ ہے، اقوام متحدہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو الگ کرنے کے لیے تو بڑی سرعت سے کام کرتی ہے اور مسلم مقبوضہ علاقوں کشمیر ، فلسطین اور برما میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام پر گونگی بہری اور اندھی ہو جاتی ہے ،عالمی امن کو قائم رکھنے کے لیے دنیا کو کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ کشمیر کی آزادی کے لیے قوم کو ایک واضح روڈ میپ دیا جائے پاکستان کے تمام سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کیا جائے اور ایک نائب وزیر خارجہ کا تقرر کر کے اسے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے ۔ 

مزید : قومی