مقبوضہ کشمیر کی حالت: یو۔این۔ سیکرٹری جنرل اور امریکہ کا اظہارِ تشویش

مقبوضہ کشمیر کی حالت: یو۔این۔ سیکرٹری جنرل اور امریکہ کا اظہارِ تشویش

  

امریکی کانگرس کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کا نوٹس لیا اور امریکہ میں بھارتی سفیر کو خط لکھ کر کشمیر میں حالات کے بارے میں پوچھا ہے۔خط میں کہا گیا ہے، بتایا جائے کہ وادی میں انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات بحال کر دیئے گئے ہیں، کرفیو کب ختم ہو گا اور غیر ملکی صحافیوں سمیت ہمیں کب وادی میں جانے کی اجازت ملے گی؟اس سے پہلے قائم مقام امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس جی ویلز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جہاں پابندیوں کے باعث 80لاکھ سے زیادہ کشمیری شدید متاثر ہیں، انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ حالات کو معمول پر لا کر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے مذاکرات کئے جائیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میں مذاکرات کی فضا قائم کرنے کی ذمہ داری دونوں ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ کو کشمیر کی صورتِ حال پر گہری تشویش ہے،انہوں نے پاکستان سے توقع کی کہ وہ غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے بھی ان کا ایک بیان جاری کیا،جس میں کشمیر کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون اور مدد کی پیشکش کی ہے۔بھارتی مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی زندگی بھارت نے اجیرن بنا رکھی ہے،80لاکھ سے زیادہ لوگ5اگست سے اب تک فوجی محاصرے میں ہیں،ان کو نماز تک ادا نہیں کرنے دی جاتی،ان کے پاس خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے، بیرونی دُنیا سے رابطہ منقطع ہے، بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے خونی رشتے داروں کی خیریت سے بے خبر ہیں، ہزاروں بچے، نوجوان اور بوڑھے گرفتارکر لئے گئے ہیں اور ان میں سے اکثر کو بھارتی شہروں کی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے، کشمیری رہنما نظر بند یا گرفتار ہیں۔اس صورتِ حال نے بہرحال دُنیا کو متاثر کیا ہے، بیرونی ممالک میں کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے تو مقبوضہ کشمیر میں بھی ایسی ہی صورتِ حال ہے، تاہم دُکھ کی بات یہ ہے کہ دُنیا کے یہ ممالک جو جانوروں کی تکلیف پر پریشان ہوتے ہیں،اتنے بڑے انسانی المیے پر خاموش ہیں اور ان کی طرف سے وہ ردعمل نہیں آ رہا جو متوقع ہونا چاہئے، اب اگر امریکی کانگرس کی کمیٹی، نائب وزیر خارجہ اور خود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ اقدم کیا ہے تو اسے خاموش آمدید کہنا چاہئے تاہم بھارت کی طرف سے ڈھیٹ پن کا جو مظاہرہ کیا جا رہا ہے،اس کی وجہ سے یہ توقع کم ہے کہ کوئی اثر ہو گا، بہرحال پھر بھی غنیمت ہے، ہمارے خیال میں حکومت ِ پاکستان کو اس صورتِ حال سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے،اور دفتر خارجہ کو پھر سے عالمی سطح پر کوشش کرنا چاہئے کہ عالمی رائے عامہ ہموار ہو،ممکن ہو تو سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو آمادہ کیا جائے اور سلامتی کونسل کے ذریعے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اور قراردادوں پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں پابندیاں لگوانے کی کوشش کی جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -