قصہ کیا ہے؟

قصہ کیا ہے؟
قصہ کیا ہے؟

  

مولانا اپنی تحریک، مارچ یا دھرنے کے حوالے سے آج کل آئین اور سول بالادستی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے نتائج سامنے آتے ہی مولانا نے ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے شروع کر دیئے تھے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں سے ان کا پہلا مطالبہ جیتی ہوئی نشستیں خالی کرنے کا تھا، یعنی حزب اختلاف قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں اس مطالبے سے بوجوہ متفق نہیں تھیں۔ پیپلزپارٹی کو سندھ میں حکومت مل چکی تھی۔ مسلم لیگ(ن) پنجاب میں پارلیمنٹ کی بڑی سیاسی جماعت بن کر پھر سامنے آئی تھی،مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت تھی اور قائد حزب اختلاف بھی اسی جماعت کا تھا۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی کہ خود جمعیت علمائے اسلام بھی اپنی قوت کے مطابق اسمبلیوں میں موجود تھی، سوائے مولانا کے۔ مولانا صرف اپنی نشست ہارنے کے بعد پورے انتخابی عمل ہی کو سبوتاژ کرنے پر مصر تھے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ کے صدر شہبازشریف دونوں مولانا کے اس رویے کے خلاف تھے، لیکن مولانا مایوس نہ ہوئے اور چند ماہ گزرنے کے بعد جب عمران خان حکومت نے اپوزیشن کا جینا دوبھر کر دیا تو مولانا دھرنے کا پروگرام لے کر نمودار ہوئے۔ دونوں بڑی جماعتوں نے اس دھرنے میں شمولیت سے معذرت کر لی، لیکن حکومت کی انتقامی سیاست کے سبب مولانا کو اخلاقی حمایت کی یقین دہانی کرا دی۔

مولانا نے اپنے پتے خوب مہارت سے کھیلنے کا آغاز کیا تھا، وہ جب بلاول سے مل کر میڈیا سے بات کرتے تو کہتے کہ بلاول ان سے متفق ہیں کہ اس حکومت کا مزید رہنا ملک اور عوام کے لئے نقصان دہ ہے۔ جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے مل کر میڈیا سے بات کرتے تو یہی بات دہراتے اور کہتے ملک کی تمام اپوزیشن حکومت کے خاتمے کے حوالے سے ان سے متفق ہے اور آہستہ آہستہ اس ہنر مندی سے انہوں نے دونوں سیاسی جماعتوں میں بہت سے ابہام پیدا کئے اور بعد ازاں دونوں جماعتوں کے اندر فکری تضاد پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے مقید رہنما میاں نواز شریف کو انہوں نے ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے پر عملدرآمد کا یقین دلایا اور پیپلزپارٹی کو اس انتقامی سیاست کے خلاف مورچہ بندی کا یقین دلایا جو اس کی قیادت حتیٰ کہ محترمہ فریال تالپور کے ساتھ روا رکھی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ان کی اپنی جماعت کے رہنماؤں نے بعض ٹی وی پروگراموں میں فوجی تجزیہ کاروں کے خلاف جو زبان استعمال کی، اس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ مولانا سول بالادستی کا علم بلند کر رہے ہیں، حالانکہ مولانا اور ان کے ساتھیوں نے ان سیاسی عناصر کا ہرگز ساتھ دینا پسند نہیں کیا جو قبائلی علاقوں میں ایسے نعرے بلند کر رہے تھے۔

اب مولانا آئین کے تقدس اور آئینی کردار کا بار بار ذکر کرتے ہیں جو ریاست کے مختلف اداروں کے حوالے سے آئین میں درج ہے اور اپنی جماعت کی تاریخ کو اس سے جوڑ رہے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان میں پہلی فوجی آمریت، یعنی ایوب خان کے مقابل جب ملک کی جمہوری قوتوں نے محترمہ فاطمہ جناح کو صدارتی امیدوار بنایا تو مولانا کے والد محترم مفتی محمود مرحوم نے محترمہ کی مخالفت اور ایوب خان کی حمایت کی۔ آج جس نوازشریف نے مولانا کے دھرنے اور جلوس میں شرکت کے حوالے سے اپنی جماعت میں فکری تضاد پیدا کر دیا ہے۔ جب ان کا تختہ الٹا گیا تو مولانا فضل الرحمن،پرویز مشرف کے اتحادی تھے، نہ صرف پرویز مشرف کے اتحادی تھے،بلکہ قاضی حسین احمدکے ساتھ مل کر انہوں نے پرویز مشرف کو آئینی استثنیٰ دلوائے ہیں۔ پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا اور پانچ برس تک صدر پرویز مشرف کے ساتھ خیبرپختونخوا میں حکومت کی اور ان آٹھ نو برسوں میں جب پرویز مشرف حکمران تھے تو ایک مرتبہ بھی نوازشریف کی اخلاقی حمایت کرنے کا ”جرم“ نہیں کیا، اب اچانک میڈیا میں ان طاقتوروں کے درمیان گفتگو اور اس کی ناکامی کی کہانیاں آنے لگی ہیں۔

مولانا کب طاقتوروں کے خلاف کھڑے ہوئے؟ پاکستان کی تین دہائیوں کی تاریخ تو یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کی عوامی حکومت، نوازشریف کی لیگی حکومت، شوکت عزیز کی عسکری حکومت اور بعد ازاں پھر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتوں میں اقتدار ہی کے پہلو میں خیمہ زن رہے ہیں۔پی ٹی ایم کا نام لینے سے جس شخص کے ہونٹ آج بھی سُلگ اٹھتے ہیں۔ وہ کون سی سول بالادستی کے لئے لڑ رہا ہے۔ ملک کی جمہوریت اور ترقی پسند، وسیع الخیال اور روشن خیال قوتوں کو اس بارے سوچنا ہو گا۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی ”ہنرمندی“ بدترین فاشزم کے گڑھے میں گرا دے، جس طرح کشمیر کمیٹی کشمیری عوام کی جدوجہدکو دنیا سے پوشیدہ رکھنے کے لئے برسوں استعمال کی گئی۔اسی طرح سول بالادستی کا خوبصورت نعرہ کہیں اس کے مکمل خاتمے کے لئے نہ استعمال کیا جا رہا ہو۔

مزید :

رائے -کالم -