دخترِ ملت!

دخترِ ملت!
دخترِ ملت!

  



پاکستانی سیاست میں کسی کا قد ناپنے کا پیمانہ کیا ہے؟ اس سوال کا واقعی جواب مجھے آج تک میسر نہیں آیا۔ سیاسی خواتین کا ذکر مذکور ہو تو گفتگو مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ انگلیوں پر نام گنے جا سکتے ہیں۔ عوام کے دلوں میں زندہ رہنا ایک ہنر ہے اور یہ ہنر ہر کسی کو کب آیا!ماحصل؟ شاید تین نام! میری دیانت دارانہ رائے میں تیسرا نام محترمہ مریم نواز صاحبہ کا ہے۔ چونکہ انہیں نگاہ کی راہ سے لوگوں کے سینے میں اترنے کا قرینہ آتا ہے، لہٰذا وہ وقت دور نہیں، جب دشمن، نہیں مخالف کہنا چاہیے، بھی اقرارِ عظمت پر مجبور ہوں گے۔ عظمت سے میری مراد اہمیت ہے!مریم نواز نے کئی برس قبل آج کے دن دنیا میں آنکھ کھولی تھی، یعنی امروز ان کی سالگرہ ہے۔ وطن عزیز کے سیاسی دائرے میں موصوفہ کو کوئی بھی حقیقت پسند انسان نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ درست ہے کہ ان کی اہمیت و شہرت کا سب سے اہم سبب، میاں محمد نوازشریف ہیں۔ بیٹی کا رشتہ! لیکن مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ فقط نسبت سے کچھ نہیں ہوتا۔ سردار ہونے کے لئے سرِدار ہونا لازم ہے۔ آگ کے ”دریا“ میں سے ڈوب کر گزرنا پڑتا ہے!

محترمہ کلثوم نواز مرحومہ بسترِ مرگ پر تھیں جب یہ جیل جانے کے لئے والد کے ہمراہ از خود وطن کو لوٹیں۔چند روزہ آزاد فضا میں سانس لینے کے بعد پھر کنج اسارت میں ہیں۔نہ کوئی تو ہے جو اس نہتی لڑکی سے ڈرتا ہے۔ کون ہے وہ؟کون جانتا ہے؟ کون نہیں جانتا؟ کسی کے بنانے سے نہ تو کوئی لیڈر بنتا ہے اور نہ ہی مٹانے سے مٹتا ہے۔ ایک صلاحیت اور جرات مگر درکار ہے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ”دخترِ ملت“ میں صلاحیت بھی ہے اور جرات بھی۔ صنفِ نازک سے تعلق کے باوجود جرأتِ مردانہ! مریم بی بی اپنے انداز اور اصول کے مطابق زندگی گزار رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ اسے زندگی نے گزار دیا ہو۔ انہوں نے اپنے ہونے کا بھرپور احساس دلایا ہے۔ جب منظر پر نہیں ہوتیں تو نہ ہونے کا بھی!

مریم نواز واقعی نوجوان نسل کی قائد ہیں۔ ان کے دم قدم سے نسلِ نو میں آگے بڑھنے کی امنگ ہے۔ تیز ہوا میں چراغ جلانے کی لگن! اغلباً، اس حوصلے وغیرہ کی تہہ میں ان اقدار کا بھی کافی سے زیادہ حصہ ہے، جس کی بناء پر ایک بھائی نے حسن نام پایا اور دوسرے نے حسین! اسماء بھی بھرپور تلمیح ہیں۔ اسلامی ثقافت کی بہار! مریم بی بی سیاسی ماحول کی تاریکی میں روشنی کا استعارہ ہے۔ قوم کو بہت کچھ دیا، لیکن ابھی بہت کچھ دینے کے لئے رختِ سفر باندھ رہی ہیں۔ اسیر جمہوریت میاں محمد نوازشریف کے سیاسی ورثے کی جانشین۔ مَیں، ان کی سالگرہ کے موقع پر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ محترمہ مریم نواز کو اپنی خود نوشت ضبطِ تحریر میں لانی چاہیے۔ ماضی کی یادداشتیں اور مستقبل کے لئے عزائم! یہ کتاب دراصل ان کے منشور کا زندہ نقش ہو گا اور فراست و بصیرت کا آئینہ! اس ”آئیڈیا“ کو قابلِ عمل بنانے میں مسلم لیگی خواتین میں قائدانہ زنگ رکھنے والی ایم پی اے ثانیہ عاشق کا بھی بھرپور کردار ناگزیر ہے۔ نہیں تو دعا کو دغا اور محرم کو بھی مجرم لکھا اور پڑھا جاتا رہے گا۔

مزید : رائے /کالم