قانون کی نگاہ؟؟؟

قانون کی نگاہ؟؟؟
قانون کی نگاہ؟؟؟

  

لاہور ہائیکورٹ کی ڈویژن بنچ سے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی درخواست ضمانت منظور ہو گئی اور قانون کی معروف ضرورت کے مطابق حکم دیا گیا کہ وہ ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکے جمع کرائیں اور اگر کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہ ہوں تو ان کو رہا کر دیا جائے۔ حکم تو ہو گیا لیکن وہ رہا نہ ہو سکے کہ ابھی ان کی ایک اور درخواست زیر التوا ہے جو العزیزیہ کیس میں سزا کے حوالے سے دی گئی اور اس میں بھی یہ استدعا کی گئی ہے کہ ان کی درخواست ضمانت طبی بنیادوں پر منظور کی جائے، میرٹ کے حوالے سے تو ان کی سزا کے خلاف اپیل پہلے ہی زیر التوا ہے لیکن یہ درخواست ہنگامی نوعیت کی ہے جو ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو جانے کے باعث دائر کی گئی درخواست دہندہ ان کے بھائی محمد شہبازشریف ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے اگلی سماعت منگل کو ہونا ہے، جب محمد نوازشریف کی طبی رپورٹیں پیش ہوں گی اور ڈاکٹر عدالت کو اپنی رائے سے آگاہ کریں گے۔

قانون اور قانون کی تشریح ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس کے بارے میں، عدالت کے منصب پر فائز جج حضرات اور وکلاء ہی بہتر جانتے ہیں، تاہم مقدمات ہی کے حوالے سے جان جان کر ایک عام آدمی بھی اپنی رائے بناتا ہے۔ ہمارے اپنے دورکورٹس رپورٹنگ کے دوران جسٹس (ر) سردار اقبال، چودھری نذیر احمد، ایس ایم ظفر اور میاں محمود علی قصوری جیسے پایہ کے وکیل تھے جبکہ فوجداری مقدمات میں جسٹس (ر) شوکت علی اور چودھری برکت علی سلیمی کا بھی طوطی بولتا تھا، انہی دنوں ہمارے بہی خواہ دوست ڈاکٹر خالد رانجھا بھی بار ایٹ لاء کرکے آئے اور انہوں نے اپنے دلائل اور عمل سے اپنے لئے جگہ بنائی وہ یاروں کے یار ہیں اور ہم مزدور لوگوں کے مقدمات بھی بڑے خلوص سے لڑتے تھے،

یہ انہی دنوں کا ذکر ہے کہ چودھری برکت علی سلیمی قتل کے مقدمات میں ملزم کی طرف سے دفاع کرتے تو گواہوں پر تفصیلی اور طویل جرح بھی کرتے تھے حتیٰ کہ ایک مقدمہ میں ہائی کورٹ میں اپیل کا فیصلہ ہوا فاضل جج صاحبان نے رائے دی کہ اتنی طویل جرح مناسب نہیں ہوتی۔ یہاں ہم نے دیکھا کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے ان کے خلاف ریفرنسوں میں پیش ہونے والے گواہوں پر کئی کئی دن جرح کی اس حوالے سے بعض قانون دان حضرات ان سے متفق بھی نہیں لیکن موکل کا اعتماد ان کا اثاثہ ہے۔ دوسری طرف لاہور کی احتساب عدالتوں میں شریف فیملی کے دفاع میں جو وکیل حضرات وکالت کر رہے ہیں وہ ایک مناسب حد تک دلائل دیتے ہیں، بہرحال یہ بالکل دوسرا معاملہ ہے۔ اب تو سابق وزیراعظم علیل ہیں، سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں، ان کے لئے دس رکنی بورڈ بنا ہوا ہے اور اب کہیں جا کر بتایا گیا کہ پلیٹ لیٹس کے مقدار کم اور زیادہ ہونے کے عمل کی وجہ کا پتہ چل گیا اور ان کا علاج ممکن ہو گا، ان کی شدید علالت ہی کے حوالے سے درخواست ضمانت کی زیادہ مخالفت نہیں کی گئی اور امکانی طور پر منگل کو ان کی العزیزیہ کیس میں بھی ضمانت منظور ہونے کا قومی امکان ہے۔

یہ قانونی اور انسانی مسئلہ ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے وقت یہ کہا ہے کہ علاج ان کا حق ہے اور وہ جہاں سے کرانا چاہیں کرا سکتے ہیں۔ اب اگر منگل کو ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی تو یہ بھی طبی بنیاد پر ہو گی۔ نوازشریف رہائی کے بعد اپنا علاج خود کروا سکیں گے اور خود ہی ذمہ دار بھی ہوں گے اور سرکار کے سر سے یہ بوجھ اتر جائے گا، یہ بحث بھی ختم ہو گی کہ علاج پر توجہ نہیں دی جا رہی کہ یہ ان کی مرضی ہو گی، اس حوالے سے بھی بہت کچھ کہا جا رہا ہے اور بڑے بڑے رازداں بھی ہیں، جن کے خیال میں وہ اپنی صاحبزادی کے ساتھ لندن جائیں گے جہاں سے ان کے دل کا آپریشن ہوا، علاج وہیں سے کرائیں گے، یہ سیاست کا کھیل بن گیااور ڈیل یا ڈھیل کی بات ہو رہی ہے، بہرحال اب تک جو ہوا بہتر کہ کم از کم علاج معالجے کے حوالے سے الزام اور جواب سے جان چھوٹ جائے گی۔

بات کو فی الحال یہیں تک رہنے دیں جوں جوں حالات آگے بڑھیں گے علم ہوتا رہے گا، قیاس تو یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم ضمانتوں پر رہاہو گئے تو پھر خود ان کے اپنے گھرانے اور جماعت میں یہ بحث ہو گی کہ وہ جاتی امراء میں رہیں، علاج کرائیں اور ساتھ ساتھ مقدمات بھی بھگتیں، باہر جانے کی صورت میں استثنیٰ کی قانونی ضرورت بھی ہو گی اور درخواستیں ہی دی جایا کریں گی، نواز شریف تو بہرحال باہر نہیں جانا چاہئے، جبکہ محمد شہباز شریف کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ فکر مند ہیں اور ان کی رائے لندن کے بار میں ہے۔ یہ بھی جلد ہی پتہ چل جائے گا پہلے العزیزیہ میں ضمانت تو مل جائے۔

یہ سب تحریر کیا تو پھر سے خون خاک نشیناں سامنے آ گیا،متوقع طور پر سانحہ ساہیوال کے ملزموں کی بریت پر بہت ہنگامہ ہو گیا اور میڈیا ایک بار پھر چیخ اٹھا ہے، اسی حوالے سے وزیراعظم فکر مند ہوئے، اپیل کی ہدایت کی اور پنجاب حکومت نے اعلان بھی کر دیا ہے، تاہم ہماری قانونی معلومات کے حوالے سے یہ عرض ہے کہ آپ اپیل کرنا چاہتے ہیں،کر لیں لیکن سوچ کر بات کریں کہ کرنے والوں نے تو سب شہادتیں بٹھا کر اپنا کام کیا ہے۔ اب فائل میں کچھ نہیں بریت کے خلاف اپیل بھی کچھ عرصہ بعد خارج ہی ہو گی۔ البتہ ایک گنجائش ممکن ہے کہ اگر یہ اپیل صرف اس بنیاد پر ہو کہ زور زبردستی سے گواہوں کو بٹھایا گیا ہے اِس لئے مقدمہ کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا جائے،کیس واپس آ جائے تو پھر اس کی سچی پیروی ہو،لیکن حالات حاضرہ میں تو داد رسی کی کوئی توقع نہیں۔اس حوالے سے ہمارا دُکھ تو یہ بھی ہے کہ سانحہ ساہیوال کے معاملہ میں محکمانہ کارروائی بھی نہیں کی گئی،ورنہ غفلت تو بہرحال ثابت شدہ ہے اور اس الزام میں بھی سزا ممکن ہے، اس سلسلے میں تو جن افسروں کو ابتدا ہی میں کلین چٹ دی گئی ان کو دوبارہ پوچھا جا سکتا ہے اور ان کے خلاف بھی محکمانہ سزا ممکن ہے ان حضرات ہی نے تو مبینہ طور پر بریت کا سامان کیا ہے۔ہماری حکومت سے یہ اپیل ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت، پرورش، ان کے اخراجات اور مالی امداد کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کرے کہ تجسس موجود ہے، ویسے یہ جو صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں یہ تو توجہ دلاؤ نوٹسوں پر بھی یہ سب دریافت کر سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -