ہوش اور جوش میں پنجہ آزمائی

ہوش اور جوش میں پنجہ آزمائی
ہوش اور جوش میں پنجہ آزمائی

  

آج سے شروع ہونے والے آزادی مارچ کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا تو مشکل ہے کہ اس کا آغاز و اختتام کیسا ہوگا؟ تاہم مولانا فضل الرحمن اور ان کے رفقاء کی جارحانہ باتیں کسی نیک شگون کا پتہ نہیں دے رہیں، وہ کسی ریاستی رٹ یا رکاوٹ کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور ”سنجیاں ہو جان گلیاں وچ مرزا یار پھرے“ والی صورت حال چاہتے ہیں،اگر حکومت اور رہبر کمیٹی کے درمیان اسلام آباد میں جلسے کی جگہ پر اتفاق رائے ہو جاتا تو شاید اس آزادی مارچ کو بھی حکومت فری ہینڈ دے دیتی، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہو گئے اور اب حکومت کے پیش نظر بہر طور یہ مرحلہ تو رہے گا کہ کس طرح کم سے کم لوگوں کو اسلام آباد کی طرف آنے دیا جائے۔ اب مولانا فضل الرحمن تو یہاں تک چلے گئے ہیں کہ ہمارے آزادی مارچ کو جہاں جہاں روکا گیا، وہاں کی سڑکیں بند کر دیں گے اور چاہے ایک ماہ لگ جائے اسلام آباد ضرور پہنچیں گے۔

اس قسم کے سخت گیر طرز عمل کے بعد حالات کس سمت کو جائیں گے، کچھ پتہ نہیں۔ یوں لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن سیاست کا آخری معرکہ سر کرنے جا رہے ہیں …… انہیں پتہ ہے کہ یہ معرکہ ان کی ناکامی پر منتج ہوا تو ان کی سیاسی بساط بھی لپٹ جائے گی۔ وہ اس قدر بے لچک رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں کہ اسے سیاسی ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ ایک طرف تو انہوں نے مطالبہ اتنا بڑا رکھ دیا ہے کہ پورا ہونا ممکن نہیں، یعنی وزیر اعظم کا استعفا اور دوسری طرف یہ ضد بھی باندھ لی ہے کہ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ بھی کھڑی نہ کی جائے۔ وہ تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ جب حکومت ہے ہی جعلی اور غیر قانونی تو پھر اس کا حکم کیوں مانا جائے؟ گویا وہ غیر اعلانیہ طور پر سول نافرمانی کے ساتھ اس آزادی مارچ پر نکل رہے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں اس طوفان میں بہے چلی جا رہی ہیں۔ وہ مولانا کو اپنا پیش امام مان چکی ہیں اور ان کا حکم ماننے کو سعادت سمجھ رہی ہیں، حالانکہ ماضی کے تجربات کا سب کو تجربہ ہے اور ایسی بے لگام تحریک تو کبھی دیکھی نہ سنی کہ جس میں ریاستی اداروں کو یہ وارننگ دی جا رہی ہو کہ وہ درمیان میں نہ آئیں، پیچھے ہٹ جائیں، وگرنہ خون خرابے کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ ریاستی اداروں کو پرے ہٹ جانے کا کہنے والے کیا اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں اور پھر بالفرض وہ ہٹ جاتے ہیں تو کیا تحریک انصاف کے کارکن میدان میں نہیں آئیں گے، اور خانہ جنگی کی صورت حال پیدا نہیں ہو جائے گی؟ اس صورت میں کیا مارشل لاء لگنے کے امکانات سو فیصد نہیں ہو جائیں گے؟ احتجاج کا حق تو ہر جمہوری معاشرے میں ہوتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ریاستی مشینری کو چھٹی پر بھیج دیا جائے اور سڑکوں پر پُر ہجوم ریلیوں اور جلوسوں کا راج ہو، وہ جو چاہے کریں اور جب تک چاہیں زندگی مفلوج کر کے بیٹھ جائیں۔

مولانا فضل الرحمن کے خود اپنے دعوے کے مطابق وہ پندرہ لاکھ افراد لے کر اسلام آباد آئیں گے…… مَیں کہتا ہوں ایک کروڑ بھی لے آئیں، کیا اس روایت کو احسن قرار دیا جا سکتا ہے کہ لوگ جتھوں کی صورت میں اسلام آباد آئیں اور حکومت گرا کر واپس چلے جائیں؟کیا اس کا آئین میں کوئی جواز موجود ہے، کیا آئین میں منتخب وزیر اعظم کی چھٹی کے لئے کہیں یہ طریقہ درج ہے، کیا پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں اس طریقے سے کبھی کوئی تبدیلی آئی ہے؟ ماسوائے مارشل لاء لگنے کے۔ ایک طرف اپوزیشن کی ہر جماعت آئین کی بالا دستی کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے اور دوسری طرف ماورائے آئین تبدیلی چاہتی ہے۔ کیا یہ دو عملی نہیں اور کیا اس ایڈونچر کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچنے کا واضح امکان موجود نہیں؟

عدالتیں بھی فیصلے دے رہی ہیں کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے،لیکن کسی عدالت نے یہ فیصلہ تو نہیں دیا کہ اگر لوگ وزیر اعظم کا استعفا مانگنے اسلام آباد آئیں تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے۔ پھر عدالتوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کوئی احتجاجی دوسرے شہریوں کی آزادی سلب کرنے کا باعث نہیں بننا چاہئے۔ گویا ریاست اور حکومت کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے، جو اسے ادا کرنی ہے، لیکن مولانا فضل الرحمن کے بیانیہ سے تو لگتا ہے کہ وہ ریاست کی اس ذمہ داری کو بھی نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے راستے کی ہر رکاوٹ خود بخود دور ہو جائے۔ ان کے آزادی مارچ کو ریاستی طاقتیں روکنے کی بجائے اس کے لئے سہولت کاری کریں۔ ایسے رویوں نے ہمیں ماضی میں بھی بہت سے المیوں سے دو چار کیا ہے، اب ہم اس کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر اس معاملے کو اتنا آسان بنا دیا جائے کہ اِدھر کوئی دھرنے اور مارچ کا اعلان کرے اور اُدھر وزیر اعظم یا حکومت مستعفی ہو جائیں، پھر تو یہ نظام نہیں چلے گا۔

نہ یہ کوئی بادشاہت یا آمریت کا دور ہے کہ آئین میں دی گئی مدت سے پہلے بیک جنبشِ قلم سسٹم کو ختم کر دیا جائے۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان جو رابطہ ہوا،اس میں وزیر اعظم کے استعفے پر بات نہیں کی گئی۔ ایک طرف مولانا فضل الرحمن یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے اختیارات رہبر کمیٹی کے سپرد کر دیئے ہیں،دوسری طرف وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا استعفا لئے بغیر ہم واپس نہیں آئیں گے۔ پھر وہ ایسے لفظ استعمال کر رہے ہیں جو ان کی عقیدت میں ڈوبے ہوئے مدرسے کے کارکنوں میں اشتعال پیدا کر سکتے ہیں۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ جو بھی رکاوٹ راستے میں آئی، ہم اسے روندتے ہوئے آگے بڑھ جائیں گے اور جہاں جہاں روکا گیا، وہاں کھلی جنگ ہو گی۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو کسی سیاستدان کے منہ سے اچھی نہیں لگتیں۔ ملک کسی نئے سانحہ سے دو چار ہونے کی سکت نہیں رکھتا، کیونکہ سرحدوں پر صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور ہمارا ازلی دشمن بھارت آئے روز لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے، ہمارے فوجی جوان اور نہتے شہری شہید ہو رہے ہیں۔

جب سے نوازشریف کی بیماری کا معاملہ سامنے آیا ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت لی ہے، بظاہر یہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا آزادی مارچ سے تعلق اب واجبی سا رہ گیا ہے۔ اگرچہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم اسلام آباد کے جلسے میں بھرپور شرکت کریں گے، تاہم اگر اس سے پہلے نوازشریف رہا ہو کہ لندن چلے جاتے ہیں تو پیچھے سیاست کا احوال وہ نہیں رہے گا، جو چند روز پہلے تک تھا، لیکن اتنا ہی کافی نہیں کہ مسلم لیگ (ن) اس حوالے سے پیچھے ہٹ جائے، بلکہ ضروری امر یہ ہے کہ اس مارچ کو پُر تشدد بننے سے روکا جائے۔ مولانا فضل الرحمن کو اسے جنگ و جدل کا معرکہ بنانے کی بجائے سیاسی سرگرمی تک محدود رکھنے کے لئے قائل کیا جائے۔ ایک بار تیر کمان سے نکل گیا تو شاید اسے واپس نہ لایا جا سکے۔

یہ اچھی بات ہے کہ حکومت نے اصولی طور پر آزادی مارچ کی اجازت دے دی ہے، لیکن اسے قانون کے دائرے میں رکھنا اس مارچ کے منتظمین کی ذمہ داری ہے، اگر وہی اپنے متشدد بیانات سے صورتِ حال کو کشیدہ کریں گے تو حالات کو پُرامن رکھنے کی ذمہ داری کس کے کاندھوں پر آئے گی؟ ویسے تو ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہماری تحریک پُر امن ہو گی اور ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا،مگر جب معاملہ ہجوم کے ہاتھوں میں آ جاتا ہے تو کوئی بھی اس کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ مولانا فضل الرحمن نے ملک کے چاروں صوبوں سے اپنے حامیوں کو آزادی مارچ کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے کی کال تو دے دی ہے، لیکن کیا انہوں نے کوئی ایسا میکنیزم بھی بنایا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء کو پُر امن اور منظم رکھا جا سکے۔ وہ خود کراچی سے اس مارچ کا آغاز کریں گے، پھر پنجاب سے ہوتے ہوئے اسلام آباد آئیں گے، تاہم بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے آنے والے آزادی مارچ کے شرکاء اپنے قائد کے بغیر کیا رویہ اختیار کریں گے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

سب سے زیادہ خطرہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے ظاہر کیا جا رہا ہے،جہاں کے وزیر اعلیٰ نے وقت سے پہلے یہ بڑھک مار کر صورت حال میں خواہ مخواہ کی کشیدگی پیدا کی ہے کہ خیبرپختونخوا سے کسی چڑیا کو بھی اسلام آباد نہیں جانے دیں گے۔ شاید انہوں نے یہ بات اس بنیاد پر کی کہ پچھلے دور حکومت میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک بھی اسلام آباد احتجاجی مارچ کے لئے نہیں جا سکے تھے۔بہر حال اگلے چند دن حکومت اور اپوزیشن کا ایک بڑا امتحان ہے۔ یہ ہوش اور جوش کا مقابلہ ہے، معاملات کو ہوش مندی کے ساتھ نہ چلایا گیا تو حالات کسی بڑے سانحہ کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ بہتر تو یہی تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان اس آزادی مارچ اور جلسے کے بنیادی نکات طے ہو جاتے، کیونکہ ایسے مواقع پر ذرا سی غلطی یا غلط فہمی چنگاری بن جاتی ہے۔ مگر لگتا ہے مولانا فضل الرحمن کے جوش جنون کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جل رہا اور حالات کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جو بڑی تشویشناک بات ہے۔

مزید :

رائے -کالم -